ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

اے پی سی بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ: روایت برقرار مگر اتحاد کمزور؟۔۔ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ

پاکستان کے وجود میں آنے سے اب تک جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی کشمکش جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی اپوزیشن کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کو ناگزیر سمجھاجارہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پھر سے ایک پیج پر آنے کی حکمت عملی بنارہی ہیں۔
موجودہ صورتحال کی طرح ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کے اتحاد براہ راست آمریت یا غیر جمہوری قوتوں کی حمایت یافتہ حکومتوں کے خلاف بنتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر دور میں سیاسی جماعتوں نے آمریت یا اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو کم کرنے کے لیے متحدہ کاوشیں کیں تاہم ابھی تک یہ سیاسی کھیل جاری ہے اور معلوم نہیں کب تک جاری رہےگا۔ لگتا یوں ہے جب تک مکمل اور مضبوط غیر جانبدار جمہوری نظام قائم نہیں ہوتا اس طرح کی جدوجہد جاری رہے گی۔
اے پی سی کی ضرورت کب کب محسوس ہوئی؟
آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی اصطلاح بھی پاکستانی سیاسی تاریخ کے ساتھ ہی چلتی آرہی ہے۔اگر سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں کی اتحاد کی کوششیں ہوتی رہیں۔کئی بار یہ اتحاد سیاسی مصلحتوں کی نذر بھی ہوتے رہے اور بعض اتحاد کامیاب بھی رہے۔
اس بار ےمیں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار امتیازعالم نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں آل پارٹیز کانفرنس سمیت دیگر اپوزیشن اتحاد اقتدار لینے والے آمروں یا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ سیاسی حکومتوں کے خلاف بنتے رہے جیسا کہ اب بھی کوشش جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ آغازسے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہےکہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں رہیں۔
سب سے پہلا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد فاطمہ جناح نے جنرل ایوب کے خلاف بنایا۔اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نےپاکستان قومی اتحاد بنایا۔جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود تھے۔
اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے جب مارشل لالگایاتو ان کے خلاف بھی پیپلز پارٹی کو ساتھ ملا کر نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی میں موومنٹ فار رسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی)بنائی گئی۔جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی تھا۔ جنرل ضیا الحق کی طیارہ حادثے میں موت کے بعد اسی تحریک کے نتیجے میں 1988میں پیپلز پارٹی اقتدارمیں آئی۔
انہوں نے کہاکہ جب 1999میں نواز شریف حکومت ختم کر کے مشرف نے مارشل لا لگایاتو نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی میں ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد کیا جس میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔
اس پلیٹ فارم سے بھی کئی آل پارٹیز کانفرنسز ہوئیں جن کا ایجنڈا بحالی جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو روکناتھا۔
خیال رہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی طے پایاتھا جس میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار میں کمی اور جمہوریت کی مضبوطی جیسی شرائط رکھی گئی تھیں ۔
جب جنرل پرویز مشرف کے خلاف وکلا تحریک چلی تو اس وقت کی تمام اپوزیشن جماعتوں بشمول پی ٹی آئی نے اس میں بھر پور حصہ لیاتھا جس کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کو عہدے سے مستعفی ہوناپڑاتھا۔
امتیاز عالم کے مطابق اب بھی اگرچہ وزیر اعظم عمران خان ہیں جو سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں لیکن اب اپوزیشن جماعتیں حکومت اسٹیبلشمنٹ اتحاد اور ان کےسیاسی کردارپر متحد ہورہی ہیں۔ ان کے خیال میں اس بار اپوزیشن کے اتحاد اور اے پی سیز بھی اسی لیے زیادہ موثر دکھائی نہیں دے رہیں کہ وہ جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔
حکومتوں کو کیوں اے پی سی کی ضرورت پڑی:
پاکستان کے سیاسی پس منظر میں جھانکیں تو متعددبار قومی ایشوز پر وقت کی حکومتوں کو بھی آل پارٹیز کانفرنسز کی ضرورت پڑی۔ سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی حکومت کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک میں شامل جماعتوں کی کانفرنس بلانا پڑی جس میں وہ خود بھی شریک ہوئے۔
اس موقعے پر انہوں نے اقتداربچانے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات بھی تسلیم کیے تھے۔
اسی طرح سابق صدر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اے پی سی بلائی تھی جس میں افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی سے متعلق جنیوامعاہدے پر اعتماد میں لیاگیاتھا۔
اس وقت کی رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ جنرل ضیا الحق کی مرضی کے خلاف تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مئی 1988میں وزیر اعظم جونیجو کی حکومت ختم کر دی تھی۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی اقتداربچانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے این آر اوکرنا پڑا تھا جس کی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے۔
اے پی سی کی افادیت اور سیاسی مصلحتیں:
تجزیہ کار وسابق نگران وزیر اعلی پنجاب حسن عسکری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بے شک سیاسی طور پر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں کافی طاقت ہوتی ہے لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں کئی بار سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ سے اپوزیشن جماعتیں نمائشی طور پر اے پی سیز بلاتی ہیں لیکن میڈیا پر بیانات کے علاوہ ان کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلتے۔ میڈیا پر آکر مشترکہ اعلامیے جاری کرنا اور عملی طور پر سیاسی کردار دو الگ باتیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں بھی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اور اے پی سی اس لیے کامیاب نہیں کہ ہر جماعت کے اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات ہوتے ہیں۔جس طرح مسلم لیگ ن کے سیاسی مقاصد اور ہیں پیپلز پارٹی کے اور جبکہ مولانا فضل رحمن کے بھی علیحدہ ہیں۔ اس لیے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی پہلے کی طرح اس بار بھی زیادہ نتیجہ خیز اور موثر ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں چند ماہ تک کا اندازہ لگایاجاسکتاہے لیکن لمبے عرصے کے لیے کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتاکیونکہ حالات کے مطابق صورتحال تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے آنے والے تین چار ماہ تک اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حکومت کے لیے موثر خطرہ نہیں دیکھ رہا کیونکہ جس طرح حالات تبدیل ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہوتارہتاہے۔
(بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker