اسلام آباد : صحافی ارشد شریف کی میت بدھ کو رات گئے قطر ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ جمعرات کو اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں ادا کی جائے گی۔ان کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کا پوسٹ مارٹم دوبارہ ہو گا۔ ساتھ ہی اُنھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور اُنھیں ارشد شریف کی نعش کے پاس فوری طور پر نہیں جانے دیا گیا۔
کراچی میں پیدا ہونے والے 49 سالہ ارشد شریف نے متعدد پاکستانی نیوز چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کیا تھا۔ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل وہ نجی نیوز چینل اے آر وائی سے منسلک تھے تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کا اعلان ان کے ملک چھوڑنے کے چند دن بعد اے آر وائی کی جانب سے کیا گیا تھا۔بعدازاں وہ بیرون ملک سے اکثر وی لاگز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے اور عمران خان کے خلاف ’بیرونی سازش‘ کے بیانیے کے حامی تھے۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی انھوں نے دعویٰ کیا تھا انھیں ایف آئی اے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو صحافیوں کے خلاف شکایت کی صورت میں صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اُن کے موکل (ارشد شریف) کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ ارشد شریف کی رپورٹنگ اور حکومت پر تنقید بتائی گئی۔
درخواست کے مطابق ارشد شریف ذرائع سے ملنے والی ان معلومات کے بعد ڈرے ہوئے تھے کیونکہ ’سول کپڑوں میں ملبوس افراد اُن کے گھر اور خاندان کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘ تاہم ایف آئی اے کا دعویٰ تھا کہ اس نے نہ تو ارشد شریف کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی انھیں ہراساں کیا گیا۔ عدالتی حکم کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں۔
ادھر اقوام متحدہ نےافریقی ملک کینیا سے پاکستان کے معروف صحافی اور سینئر اینکرپرسن ارشد شریف کی ’پراسرار موت‘ کی مکمل تحقیقات پر زور دیتے ہوئے نتائج منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اسٹیفن ڈوجارک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ارشد شریف کی موت کی المناک رپورٹ دیکھی ہے، میرے خیال میں وجوہات کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے اور کینیا کے حکام نے کہا ہے کہ وہ ایسا کریں گے‘۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے تحقیقات رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے بھی سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کینیا کی حکومت سے واقعے کی مکمل تحقیقات پر زور دیا ہے۔
واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ کن حالات میں ارشد شریف کی موت واقع ہوئی ہے، لیکن ہم اس کی مکمل تحقیقات پر زور دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ کینیا حکام کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیا۔
حکام نے کہا کہ کینیا کی پولیس نے نیروبی کے قریب ارشد شریف کی گاڑی پر رکاوٹ عبور کرنے پر فائرنگ کی، پولیس نے دعویٰ کیا کہ پولیس بچے کے اغوا کے کیس میں گاڑی تلاش کررہی تھی اسی دوران جب ارشد شریف کی گاڑی رکاوٹ عبور کرکے آگے بڑھی تو پولیس افسران نے گاڑی پر فائرنگ کردی۔
تاہم ارشد شریف کے اہل خانہ نے پولیس کے تفصیلی بیان کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

