اسد اللہ غالبکالملکھاری

بھارتی ریاستی دہشت گردی، بربر یت، وحشی پن اور نسل کشی: انداز جہاں / اسد اللہ غالب

میں نے تین دن قبل لکھا تھا کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہے کہ وہ فلسطینیوں اور کشمیری مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہاتے رہیں، نہ مجھ پر یہ الہام ہوا تھا، نہ میں نے کشمیریوں کو اکسایا تھا اور نہ بھارتی فوج میرے احکامات کی پابند تھی، نہ ا س دوران حافظ سعید یا لشکر جھنگوی یا مولانا مسعود اظہر نے کشمیر یا بھارت میں کوئی ایسی مداخلت کی جس پر بھارتی فوج مشتعل ہو کر کشمیریوں پر پل پڑی ہو۔ یہ تو ایک منظم منصوبہ بندی ہے کہ خون مسلم سے خوئے آزادی کو سلب کرنا ہے۔بھارت میں صرف کشمیری مسلمان ہی بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار نہیں ہیں ، وہاں سکھ، دلت، تامل ، گورکھا لینڈ اور جھاڑھ کھنڈ کے لوگ بھی بھارتی فوج کے ستم اور جبر کا مسلسل شکار ہیں، بھارت ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہے اور دوسری طرف وہ سب سے بڑی ریاستی دہشت گردی میں بھی ملوث ہے، اسے اپنے عوام کے جمہوری، بنیادی انسانی حقوق کا کوئی خیال نہیں اور وہ ان کی پامالی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا، اس پر مستزاد بھارت میں ایک ا یسا شخص وزیر اعظم نریندر مودی کی شکل میں ہے جسے ساری دنیا دہشت گرد قرار دے چکی تھی، اس نے گجرات میں وزیر اعلی کے طور پر مسلمانوں کی ایک پوری ٹرین کو بھسم کر کے تین ہزار مسلمانوں کی لاشوں کو کوئلہ بنا دیا تھا، اس پر پورے یورپ ا ور امریکہ نے اس کے ویزے منسوخ کر دیئے تھے۔ مگر اب وہ اسی ملک کا وزیر اعظم ہے جہاں وہ وزیر اعلی کے طور پر خون کی ہولی کھیلتا رہا ہے۔ اور وہ اپنی سرشت سے باز نہیں آرہا بلکہ ا سکی خون فشانی کا سلسلہ دراز تر اور وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔
کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، بھارت اس پر ناجائز طور پر قابض ہے اور اس نے ستر سال سے کشمیریوں کو محکوم بنا رکھا ہے۔تقسیم ہند اور آزادی کے ایجنڈے کی رو سے کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقے کی رو سے پاکستان کا حصہ بننا چاہئے تھا مگر بھارتی افواج نے جارحیت کر کے اس جنت نظیر وادی پر قبضہ جما لیاا ورا سکے حسن کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔پاکستان نے کشمیریوں کی آزادی کے لئے مقدور بھر کوشش کی مگر اقوام متحدہ نے ایک نہ چلنے دی ، اڑتالیس میں جب پاکستانی مجاہدین سری نگر پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں تھے تو بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو بھاگم بھاگ سلامتی کونسل کے سامنے فریادی جا بنا اور سیز فائر کی قرارداد منظور کروانے میں کامیاب ہو گیا مگر سلامتی کونسل نے طے کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا مستقل فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے استصواب منعقد کیا جائے گا جس میں کشمیری یہ فیصلہ دیں گے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں، بھارت نے اس قرارداد کومنظور تو کیا مگر ستر برس گزر گئے اور بھارت نے ا س پر عمل نہیں ہونے دیا ،کشمیریوںنے اپنی آزادی کی تحریک جوں جوں تیز کی، بھارت وادی کشمیر میں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کرتا چلا گیا، آج آٹھ لاکھ فوج کشمیریوں کے سروں پر سنگینیں تانے کھڑی ہے اور جب بھی کشمیری احتجاج کے لئے گلیوں ،بازاروںا ور سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بھارتی افواج ان پر اندھا دھند فائر کھول دیتی ہے، اب تو ایک نیا ہتھیار استعمال میں لے آئی ہے کہ پیلٹ گولیوں سے کشمیریوں کو اندھا کیا جارہا ہے۔
کشمیری اپنا فیصلہ ہر موقع پر سنا چکے ہیں ، پاکستان کے یوم آزادی پر پورے کشمیر میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم کہیں فتح پالے تو کشمیریوں کی خوشیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔پاکستان کے یوم جمہوریہ پر کشمیری عوام فرط جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں اور بھارتی افواج انہیں انتقام کا نشانہ بناتی ہیں۔ بھارت اپنا یوم آزادی مناتا ہے یا یوم جمہوریہ تو پوری وادی کالی جھنڈیوں سے بھر جاتی ہے اور وادی میں مکمل ہڑتال کی جاتی ہے، دکانوں پر تالے پڑ جاتے ہیں اور گھروں کے کواڑ بند رکھے جاتے ہیں ۔، بھارتی فوج اس رویئے کو برداشت نہیں کر پاتی اور کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے کھینچ کر گولیوں کا نشانہ بناتی ہے۔
بھارتی افواج نے عصمت دری کو بھی دہشت گردی کا ہتھیار بنا لیا ہے، بھارت کی ایک مصنفہ ارون دھتی رائے نے بھی اس پر شدید احتجاج کیا ہے اور اجتماعی عصمت دری کو جنگی جرائم میں شمار کیا ہے۔ مگر عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کو پاکستانی لیڈروں اور فلاحی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے سے فرصت نہیں ملتی اور بھارت کی ننگی اور کھلی دہشت گردی کی طرف سے یہ عالمی ا دارہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ہم اس ادارے پر کیا کف افسوس ملیں خود مسلمانوں کی تنظیمیں گونگی بہری اور اندھی بنی ہوئی ہیں، او آئی سی ایک بے کار ادارہ ثابت ہوا ہے۔ سعودی عرب میں ایک اسلامی فوج اتحاد کی تشکیل کی گئی ہے مگر اسے بھی کشمیر میں بھارتی مظالم نظر نہیں آتے۔ یہ اتحاد تو بنا ہی دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے ہے اور بھارتی دہشت گردی کی بیخ کنی اس کی اولیں ترجیح ہونی چاہیئے مگر اس کے ہیڈٖ کوارٹر میں بھولے سے بھی کشمیریوں پر بھارتی دہشت گردی کا مسئلہ زیر بحث آیا ہی نہیں۔پاکستان کے اندر بھی کشمیر کے مسئلے پر کوئی متفقہ پالیسی نہیں، قومی کشمیر کمیٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرے۔ اور بھارتی مظالم کے خلاف عالمی رائے عامہ کو منظم کرے تاکہ کوئی تو بھارت کا ہاتھ روکنے کے لئے آگے بڑھ سکے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے موجود ہیں مگر انہیں بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی سے کوئی سروکار نہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ ان کے نمائندے پاکستا ن ا ٓئیں ، حکومت سے مذاکرات کریں یا جی ایچ کیو میں مشاورت کریں تو ان کے سامنے کشمیر کا مسئلہ سر فہرست رکھا جائے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کریں آج کشمیر کی وادی میں بیس سے زائد لاشیں بکھری ہوئی ہیں ،پاکستانی میڈیا نے تو پھر بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا مگر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی رپورٹ ہے کہ بھارتی فوج نے 20کشمیریوں کو شہید کیا ہے اور پوری وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جس سے اندیشہ ہے کہ بھارتی فوج مزید بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر ڈالے گی۔
نہ جانے کشمیریوں کی مظلومیت کی سیاہ رات کب اور کیسے ختم ہو گی۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker