ادباسلم ملکلکھاری

کرائم رپورٹر اور شاعر ، بابا پرویز چشتی کی یادیں ۔۔ اسلم ملک

صحافت کے شعبے میں میرا مشاہدہ ہے کہ کرائم رپورٹروں کا ادب وغیرہ سے کم ہی تعلق ہوتا ہے ۔ علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے صرف دو کرائم رپورٹروں سے تعارف ہوا۔۔ ایک سجاد شفیق بٹ اور دوسرے بابا پرویز چشتی.
بٹ صاحب نے بھی کرائم رپورٹنگ تو پہلے ہی چھوڑی تھی اور سیاسی تجزیہ کار بن گئے تھے، پھر صحافت سے ہی نہیں، لاہور سے بھی جی اوب گیا اور اب مانسہرہ کے ایک دور افتادہ علاقے میں ایک الگ قسم کا سکول قائم کیا ہے ، جیسا وہ اپنے بچوں کیلئے سوچتے رہے تھے۔
ہاں بابا پرویز چشتی نے مشق سخن اور چکی کی مشقت ساتھ ساتھ جاری رکھی. ان کے کتنے ہی نام تھے۔۔ عطا اللہ پنجابی، پرویز چشتی، شاعر مساوات…
میں امروز میں تھا تو وہاں انہیں دیکھا، رپورٹنگ سیکشن میں بدرالاسلام بٹ اور دوسرے دوستوں سے ملنے آتے تھے. منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا سے بھی ملتے. ہمیشہ سفید شلوار قمیص اور سیاہ چشمے کے ساتھ دیکھا. اتنے سیاسی قطعات، اردو پنجابی اردو غزلیں لکھیں کہ اچھا بھلا مجموعہ چھپ سکتا ہے اور چھپنا چاہئیے لیکن پڑھی لکھی اولاد، صحافت اور اشاعت سے تعلق رکھنے کے باوجود اس طرف متوجہ نہیں ہوئی. تمثیلہ ملتی رہتی ہے، اسے یاد بھی دلاتا رہتا ہوں. بازغہ بہت عرصہ تو اپنے بچوں میں مصروف رہی.،اب منظر عام پر آئی تو اس کے سامنے بھی بات ہوئی. جمیل چشتی اب بڑے آدمی ہوگئے ہیں. عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی. یہ سطریں پڑھنے والا کوئی انہیں پیغام پہنچائے کہ بابا جی کا کلام جمع کریں اور جلدی چھاپ ڈالیں. انہیں جاننے والے اب کم ہوتے جارہے ہیں۔ لوگ اپنے والدین کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، آپ کے والد تو واقعی قابل فخر تھے۔



ستمبر 1982 میں وفات سے ایک آدھ دن پہلے عطااللہ پنجابی/ پرویز چشتی نے منو بھائی کو ایک خط لکھا جو منو بھائی کو ان کے انتقال کے بعد ملا ۔ خط میں حالاتِ حاضرہ پر گپ شپ کے ساتھہ اپنی ایک غزل بھی بھیجی جو منو بھائی نے اپنے 24 ستمبر1982 کو شائع ہونے والے کالم میں شامل کی۔ یہ شاید ان کی آخری غزل ہو۔ وہ 17 ستمبر کو وفات پاچکے تھے۔

ہر نیا سانس خطا ہو جیسے
زندگی کوئی سزا ہو جیسے

میری نس نس میں رچا ہو جیسے
جسم خوشبو میں بسا ہو جیسے

بند کھڑکی پہ بھی احساس رہا
وہ مجھے دیکھ رہا ہو جیسے

یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
جسم سے روح جدا ہو جیسے

بن ترے لگتا ہے دل کے اندر
میرا کچھ ٹوٹ گیا ہو جیسے

ہے تو انساں ہی پہ تیور دیکھو
یوں اکڑتا ہے خدا ہو جیسے

قتل کے بعد سکوں چہرے کا
دست قاتل ہی شفا ہو جیسے

وہ خیالوں میں ہے یوں محو خرام
صحن گلشن میں صبا ہو جیسے

توڑنا عہد گنہ تھا لیکن
تیرے مسلک میں روا ہو جیسے
۔۔۔
بھٹو کی شہادت پر بابا پرویز چشتی کی دو غزلوں کے کچھ شعر:
پیشِ نگاہ آج بھی صورت اسی کی ہے
افتادگانِ خاک کو چاہت اسی کی ہے

گو تم بہ جبر جسموں کو زنجیر کر چکے
لیکن ہر ایک دل پہ حکومت اسی کی ہے

ہر ایک نشیبِ شہر میں آباد اس کی یاد
ہر بے چراغ گھر میں سکونت اسی کی ہے

وہ بن چکا ہے آج زمانے کا نظریہ
ہر بوریا نشین کو ضرورت اسی کی ہے

جیسے صلیب شاخ پہ ہو گل کھلا ہوا
خنداں فرازِ دار پہ صورت اسی کی ہے

مرکر بھی جس کی قبر پہ پہرہ لگا رہا
ہیبت اسی کی دل پہ جلالت اسی کی ہے

۔۔۔۔
اب کے برس تو ساون برسا نینن میں
اگلی رُت جانے کیا لائے دامن میں

ہم کو یقین ہے پھول اور پھل بھی لائے گا
اس کی یاد کا پیڑ لگا ہر آنگن میں

جس کے باعث قد اس کا کچھ اور بڑھا
وہ پھندا محسوس ہوا ہر گردن میں

عطا اللہ پرویز چشتی 1932 میں پیدا ہوئے۔ نوائے وقت ، کوہستان اور مساوات سے وابستہ رہے۔ اس سے پہلے فلمی دنیا میں جگہ بنانے کی کوشش کی لیکن پھر وہ خیال چھوڑ کر صحافت میں آگئے۔
انہوں نے 1959 میں فلم ’’ساتھی ‘‘ کیلئے دو گیت لکھے۔۔۔ دل والے دل والے پی کر رنگ جمالے آ۔۔۔۔ ناہید نیازی نے گایا۔ دھیرے دھیرے بہے جائے رے، نیا جھکولے کھائے رے۔۔۔۔ ناہید نیازی اور منیرحسین نے گایا۔
1961 میں فلم ’’ منگول ‘‘ میں ان کا گانا ، یہ دل ہے میرا او بھولے پیا، ملکہ ترنم نورجہاں نے گایا۔
1963 میں فلم’’ ماں بیٹی‘‘ میں پرویز چشتی کا گانا ، یہ زندگی ہے کیا جو تم سے ہو جدا، مالا نے گایا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker