عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

الیکشن کمیشن کے نادر سوالات : روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

مجھے کیا علم تھا کہ علم وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں، اس کا اندازہ تو الیکشن کمیشن کے ایک فارم سے ہوا جو بردار عزیز قمر ریاض نے اس میں درج ایک لفظ کے معنی پوچھنے کے لئے ارسال کیا تھا، یہ فارم ووٹر بننے کے لئے ہے اور اس میں درخواست گزار سے کچھ ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کا جواب ویسے تو مشاہدے اور تجربے ہی سے سامنے آتا ہے لیکن علم غیب خدا کے علاوہ کس کو ہے، چنانچہ جب درخواست گزار سے انٹرا الیکشن ہی نہ ہوا ہو، ان سوالوں کا جواب صرف پوچھنے ہی کی صورت میں مل سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا متذکرہ فارم اس وقت میرے سامنے ہے جس میں بہت سے سوال پوچھے گئے ہیں، ایک سوال تو مذہب کے بارے میں ہے کہ کیا آپ مسلمان ،عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی ، بدھ مت، قادیانی (احمدی) یا کسی اور مذہب کے پیروکار ہیں۔ چلیں یہ تو ٹھیک ہے لیکن جو شخص خود کو مسلمان قرار دے، اس سے یہ پوچھا جانا ہی ضروری تھا کہ آپ دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں ، شیعہ ہیں یا اہل سنت ہیں اور ان چاروں کے مسلمان ہونے کے دعوے کی تصدیق ان کے مخالف فرقوں کے علماء سے کرائی جائے تاکہ ان لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہو جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
چلیں یہ بات تو بس برسبیل تذکرہ درمیان میں آگئی، میری معلومات میں اضافہ تو ان سوالات نے کیا، جو درخواست گزارکی جنس کے حوالے سے پوچھے گئے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ مرد ہیں؟ ممکن ہے بہت سے لوگ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سوچ میں پڑجائیں، اسی طرح یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ عورت ہیں؟ اس امر کا امکان یہاں بھی موجود ہے کہ کچھ عورتیں بھی اس حوالے سے سوچ میں پڑجائیں کیونکہ مرد کہلانے والے بہت سے مردوں میں مردوں والی اور عورت کہلانے والی بہت سی عورتوں میں عورتوں والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ میں دانستہ اس تذکرے کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا ورنہ مرد والے خانے میں اگلا سوال یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ نے ملک کو درپیش بحرانوں میں کب مرد ہونے کا ثبوت دیا ہے اگر وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت دیں تو یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہاں ’’مردانگی‘‘ دکھانے کا اصل محرک کیا تھا؟ اور عورت والے خانےمیں بھی اس سوال کی گنجائش موجود تھی کہ اگر آپ خود کو عورت کہہ رہی ہیں تو مردوں کے اس معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے لئے آپ نے کبھی کچھ کیا ہے، اس کا ممکنہ جواب کچھ عورتیں یہ بھی دے سکتی ہیں کہ جی ہاں ہم نے کئی عورتوں کو طلاق دلائی ہے۔
الیکشن کمیشن کے اس فارم کا سب سے اہم حصہ دراصل وہ ہے جس میں ایک سوال یہ ہے کہ کیا آپ خواجہ سرا ہیں اور یہ بھی کہ کیا آپ خواجہ سرا مرد ہیں یا خواجہ سرا عورت ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سوال نے مجھے اندر سے چکنا چور کردیا، میں خود کو اچھا خاصا عالم سمجھتا تھا لیکن اپنی جہالت کا اندازہ ہونے پر دل اندر سے بجھ سا گیا۔ مجھے افسوس ہوا کہ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آئے جب مجھے اس سوال کے اندر پوشیدہ معنویت کے بارے میں پوچھنے کاموقع مل سکتا تھا، مگر افسوس میں نے وہ سب مواقع گنوا دئیے، مثلاً جب میں ماڈل ٹاؤن میں رہا کرتا تھا، وہاں پھوپھی خدا بخش سے اکثر دلدار کے کھوکھے پر ملاقات ہوا کرتی تھی۔ میں اس سے پوچھ سکتا تھا کہ پلیز مجھے بتاؤکہ تم پھوپھی خدا بخش ہو یا پھوپھا خدا بخش ہو۔ دراصل لوگوں نے اس دریائے معانی میں پوشیدہ بہت سے نازک امور کی وجہ سے اس خواجہ سرا کو خود بخود پھوپھی خدا بخش کہنا شروع کردیا تھا، اگر ایسا نہیں تھا تو اس ’’پھوپے‘‘ کا دل’’پھوپھی‘‘ کہلائے جانے پر کتنا دکھتا ہوگا، اللہ مجھے معاف فرمائے۔
مگر اصل مرحلہ تو ابھی درپیش ہے جس کے لئے قمر ریاض نے مجھ سے رجوع کیا تھا۔ اس فارم میں خواجہ سرا مرد اور خواجہ سرا عورت سے اگلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ’’خنثہ شکل‘‘ ہیں، قمر ریاض جاننا چاہتا تھا کہ یہ خنثہ شکل کیا چیز ہے؟ مجھے حیرت ہوئی کہ قمر ریاض جو بہت اچھا شاعر ہی نہیں، اتنا بڑا عالم بھی ہے کہ اسے جنس کی تمام ا قسام کا بخوبی علم ہے تو پھر اس نے یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھا، یہ تو ایسے ہی جیسے کسی گنجے سے کنگھی مانگی جائے، مگر پیشتر اس کے کہ میں قمر کے علم و دانش کے حوالے سے تذبذب میں پڑتا ، کچھ ہی دیر بعد اس کا فون آگیا کہ اس کی ریسرچ کے مطابق’’خنثہ شکل‘‘ اس خو اجہ سرا کو کہتے ہیں جو سرجری کے ذریعے ’’مرد‘‘ یا’’ عورت‘‘ بنا ہو، شاباش قمر ریاض اور ہیٹس آف ٹو الیکشن کمیشن کہ جس نے اردو کو ایک ایسا لفظ دیا، جس کے ساتھ اس نے خود ہی لفظ’’شکل‘‘ بھی شامل کردیا، تاہم میرے نزدیک اس حوالے سے دوایک سوالات اور بھی بنتے تھے کہ اگر آپ دیکھنے میں مرد لگتے تھے مگر عادتیں زنانہ قسم کی تھیں تو آپریشن کی کیا ضرورت تھی، آخر ہمارے ہاں دکھاوے کے مرد بھی تو موجود ہیں اور اگر آپ عورت نظر آتے تھے اور شوق مردانہ نوعیت کے تھے توبھی کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ مردوں کی طرح دکھاوے کی عورتیں بھی تو ہمارے سماج میں رہتی ہیں اور ہمارے سماج کا یہی حسن ہے، تاہم واضح رہے یہ سب باتیں محض کالمانہ ہیں اور نہ اس میں کسی انسان کی اپنی مرضی یا خواہش کا کوئی دخل نہیں، یہ ٹیکنالوجی ہی علیحدہ ہے، البتہ بعض ملکوں میں خواجہ سراؤں کی تمام بیان کردہ قسمیں شوقیہ یا کاروباری مقاصد کے لئے بھی تیار ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں خواجہ سرا (مرد) مختلف شعبوں میں کھپ گئے ہیں، زیادہ تر شوبز سے منسلک ہیں، باقی چوراہوں میں نظر آتےہیں، ان میں سے کچھ بھیک مانگتے ہیں اور کچھ بھیک کو حرام سمجھتے ہوئے بن سنور کر نہر کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں، جہاں کئی کار سوار ان کے قریب پہنچ کر کار کی رفتار آہستہ کردیتے ہیں۔
پس نوشت ، کالم کے آخر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو شک گزرا ہوگا کہ شاید میں بھی قمر ریاض کی طرح عالم فاضل ہوں اور اگر آپ کو یہ شک گزرا ہے تو یہ بےجا نہیں ہے، واضح رہے خود کو جاہل مطلق ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ کالم علم کی بنیاد پر نہیں، بنتا ہی جہالت کی بنیاد پر ہے۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker