عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

آئی لَوپاکستان : روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

’’میں ان دنوں بہت ڈرا ڈرا اور سہما سہما رہتا ہوں‘‘
’’میں نے تمہیں کئی دفعہ آئینہ دیکھنے سے منع کیا ہے‘‘
’’ویری فنی (VERY FUNNY)‘‘
’’اس میں فنی کون سی بات ہے ،میں نے تو تمہیں تمہارے خوف کا علاج بتایا ہے ‘‘
’’دیکھو ملک اور قوم پر بہت برا وقت آیا ہوا ہے ، ایک بار پھر وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے جو میری تمہاری پیدائش کے زمانے سے شروع ہے ،لوگ پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہونے لگے ہیں ‘‘
’’یہ تم کن لوگوں کی بات کر رہے ہو ‘‘
’’یہ میں اپنی بات کر رہا ہوں، تمہاری بات کر رہا ہوں‘‘
تم اپنی بات کرو ،اس ’’حافظ جی ‘‘ کو خواہ مخواہ درمیان میں نہ لائو‘‘
’’کیا تم پاکستانی نہیں ہو ؟‘‘
’’میں تم سے زیادہ پاکستانی ہوں میں نے اپنی کار پہ I LOVE PAKISTANکا اسٹیکر لگایا ہوا ہے تم نے لگوایا ہے !‘‘
’’یہ اسٹیکر میرے دل پر چسپاں ہے لیکن کیا اپنی ڈیڑھ کروڑ کی کار پر دوروپے کا اسٹیکر لگانے سے تم نے حب الوطنی کا حق ادا کر دیا ہے ؟‘‘
’’کمال ہے تم میری حب الوطنی پر شک کرتے ہو میں ہر سال پاکستان کا چکرلگاتا ہوں ،اپنے سیاسی دوستوں سے ملتا ہوں ہر الیکشن میں ان کی مدد کرتا ہوں‘‘
’’اور جب وہ جیت جاتے ہیں تو ہر پاکستانی یہ اپنے کاروباری معاملات میں ان سے مدد لیتے ہیں!‘‘
’’تم نے اپنی فضول باتوں سے میرا موڈ آف کر دیا ہے تمہیں وہ بددیانت بیوروکریٹ، سیاست دان اور دوسرے طبقوں کی حب الوطنی پہ شک نہیں گزرتا جو اربوں روپوں کے قرض لیکر معاف کرا لیتے ہیں ‘‘
’’میں معافی چاہتا ہوں میری باتوں سے تمہاری دل شکنی ہوئی ، تم واقعی سینکڑوں سے بہتر ہو ،میں تو بس ملک و قوم کو درپیش خطرات کے حوالے سے اپنی تشویش ڈسکس کر رہا تھا‘‘
’’اب تم صحیح ٹریک پر آئے ہو بات یہ ہے کہ اس ملک میں جب کوئی حکومت برسراقتدار آتی ہے تو اسے اقتدار تو ملتا ہے اختیار نہیں ملتا،حکومت میں کوئی اور لوگ ہوتے ہیں پالیسیاں بنانے والے کوئی اور ؟
’’یہ تم صحیح کہہ رہے ہو اب تو ہر شخص اپنا مستقبل محفوظ کرنے میں لگا ہوا ہے اس لئے میں نے بھی ایک ایک کرکے اپنے پورے خاندان کو امریکہ سیٹل کر لیا ہے تم اگر چاہو تو میں تمہارے لئے بھی کوشش کر سکتا ہوں‘‘
’’بس تم میں اور مجھ میں یہی فرق ہے ،تمہیں میرے بارے میں غالباً کوئی غلط فہمی ہے حالانکہ تم مجھے چالیس سال سے جانتے ہو میں نے ملکی معاملات میں کبھی ذاتی مفادات کی پروا نہیں کی ۔میں نے کبھی اپنی جان بچانے کی کوشش نہیں کی، مجھے ہمیشہ بیس کروڑ پاکستانیوں کی جان ومال اور عزت سے زندگی گزارنے کی فکر لاحق رہتی ہے اور اس ضمن میں عملی طور پر بھی جو کچھ کر سکتا ہوں وہ میں ہر حال میں کر گزرتا ہوں‘‘
’’میں جانتا ہوں، وہ تو میں تم سے مذاق کر رہا تھا‘‘
’’مگر میں اس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ‘‘مجھے تمہاری سنجیدگی کی ضرورت ہے ‘‘
’’تم ایک طرف میری پاکستان سے محبت کا مذاق بھی اڑاتے ہو اور دوسری طرف مشورے بھی مانگتے ہو‘‘
’’دراصل جس کام میں تمہارا کوئی ذاتی نقصان نہ ہو ،تم اس معاملے میں ’’صحیح مشورے دیتے ہو ،ویسے بھی تمہیں امریکہ میں رہتے ہوئے پچیس سال ہو گئے ہیں تم اچھی طرح ان کے سیاسی نظام سے واقف ہو ، تم ان کی حکومت کے طریق کار اور ان سے معاملات طے کرنے کی تکنیک سے بھی واقف ہو ،چنانچہ پاکستان کو درپیش بعض بہت پیچیدہ مسائل کے حوالے سے تمہاری رائے نہیں لیتا کہ ان کا مستقبل قریب میں کوئی حل نظر نہیں آتا ۔چنانچہ میں تمہارے تجربے اور تمہارے علم و دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جن مسائل کے حوالے سے تمہارا مشورہ چاہتا ہوں ان کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق امریکہ سے ہے ‘‘
اب تم صحیح ٹریک پر آئے ہو …تمہارے ذہن پر یقیناً ان اربوں کروڑوں کے قرض کا بوجھ ہو گا جو ہر حکومت اپنی سسکتی معیشت کے لئے امریکہ اور آئی ایم ایف سے لیتی چلی آ رہی ہے تو پیارے اس کا حل صرف ہمارے اپنے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں، ہمیں چاہئے کہ امریکہ کی مکمل طور پر چھٹی کرا دیں جس کے لئے ہمیں اپنا کشکول توڑنا پڑے گا ، مگر اس کے لئے حکومت کے علاوہ عوام کو بھی قربانیاں دینا ہوں گی ۔پرتعیش زندگی کی جگہ سادگی اپنانا پڑے گی اپنے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنا ہو گی۔عدلیہ کو انصاف دینا ہو گا چار وقت کے بجائے ایک وقت کھانا کھانا ہو گا صرف یہی نہیں بلکہ ….‘‘
مگر یہ جو سب کچھ تم بتا رہے ہو ان کا اطلاق آبادی کی اکثریت یعنی غریب عوام پر کیسے ہو سکتا ہے وہ تو پہلے ہی اسی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں یہ سب قربانیاں تو تم بالادست طبقوں سے مانگ رہے ہو نا!‘‘
’’تم صحیح سمجھے ہو، انہی کی قربانیوں سے ملک بچ سکتاہے ‘‘
اور میرے جیسے مڈل کلاسیئے’’تم اور مڈل کلاسیئے ؟‘‘ شرم کرو میرے کروڑ پتی دوست ، تم لوگ ہی فساد کی جڑ ہو۔ ہاں’’ مڈل کلاسیئے‘‘اپر کلاس سےسپر کلاس میں جانے کے لئے اپنی خواہشات پر قابو پانا ہو گا اور اس مقصد کے لئے دو نمبری کاموںسے بھی پاک رہنا ہو گا!‘‘
’’یعنی میں اور میرے بچے کار میں بھی سفر نہیں کر سکیں گے، انہیں بسوں میں دھکے کھانا پڑیں گے ؟‘‘
’’جی حضور‘‘
مجھے اپنے بچے ڈالروں میں فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں سے اٹھا کر کارپوریشن کے اسکول میں داخل کرانا ہوں گے!‘‘
’’ہاں یہ تو کرنا پڑے گا !‘‘
’’تو کیا موسم گرما ہمیں پاکستان ہی میں گزارنا ہوگا؟‘‘
’’ظاہر ہے !‘‘
’’مجھے اپنے سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ گھر کو خیرباد کہہ کر عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنا ہو گی ؟‘‘
’’ہاں اس وقت تک یہ سب کام کرنا ہوں گے جب تک پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا اور اپنے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں آتا ‘‘
’’اگر ہم یہ سب کچھ نہیں کرتے تو کیا ہو گا ؟‘‘
’’تو پھر آگے چل کر مزید ہولناک صورتحال پیدا ہو جائے گی ‘‘
’’واقعی ؟‘‘
’’ہاں میں صحیح کہہ رہا ہوں یہ نوشتہ دیوار ہے ‘‘
’’یار وہ تم کچھ دیر پہلے میرے لئے امریکی شہریت کے حصول کی بات کر رہےتھے ۔تمہیں پتہ ہے میں پاکستان سے شدید محبت کرتا ہوں، مگر یہ محبت پاکستان سے باہر رہ کر بھی تو کی جاسکتی ہے اب دیکھو نا تم پچیس سال سے امریکہ میں ہو مگر پاکستان سے عشق کرتے ہو تم میرے اور میرے بچوں کےلئے گرین کارڈ کا انتظام کرو، ہم وہاں شفٹ ہو جائیں گے اور جونہی پاکستان کے حالات بہتر ہوئے فوراً اپنے پیارے وطن لوٹ آئیں گے میں پاکستان سے دوری زیادہ دیر تک کہاں برداشت کر سکوں گا …آئی لَو پاکستان!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker