عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

کلمہ ٔ شہادت!۔۔عطا ء الحق قاسمی

نوٹ :یہ کالم ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرنے والے ایک محنتی شخص کے حوالے سے ہے اس کا کوئی تعلق کسی خاص گروہ سے نہیں براہ کرم نوٹ فرمائیں بلکہ احتیاط ہی فرمائیں:
مہربان قدر دان! اس وقت آپ کے سامنے یہ ڈب کھڑبا لال رنگ کا جو سانپ پڑا ہے اسے جونسرا کہتے ہیں۔ یہ گھروں میں اور مکانوں کی چھتوں میں پایا جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر لوگوں میں دہشت پھیل جاتی ہے جس گھر سے یہ سانپ برآمد ہو اس گھر کے مکین خوفزدہ ہو جاتےہیں۔ لیکن مہربان قدر دان یہ سانپ دیکھنے میں جس قدر موٹا تازہ ہے، اتنا خطرناک نہیں ہے۔ اسے ’’چوہے کھانا‘‘ سانپ کہتے ہیں۔ اسے صرف چوہے کھانے سے غرض ہوتی ہے۔ یہ انسان کو کاٹتا ضرور ہے کہ فطرت سے مجبور ہے۔ مگر قدر ت نے اس میں زہر نہیں رکھا۔ چنانچہ جس جگہ یہ کاٹے وہاں سے خون کی ایک بوند نکلتی ہے معمولی سا درد اٹھتا ہے اور پھر مارگزیدہ اگلے ہی لمحے ٹھیک ہو جاتا ہے۔
لیکن مہربان:سانپ آخر سانپ ہے، یہ اگرچہ صرف چوہے کھانے سے غرض رکھتا ہے مگر جس گھر سے برآمد ہو ایک دفعہ وہاں ہراس پھیل جاتا ہے کیونکہ سانپ اور چور کی دہشت ایک جتنی ہوتی ہے۔ کسی گھر میں کوئی کمزور سا چور بھی گھس جائے تو گھر والوں پر خوف طاری ہوتا ہے، بڑا کڑیل سے کڑیل نوجوان بھی چور کے پائوں کی چاپ سن کر ایک دم اس کے سامنے نہیں آتا نجانےبھاگتا چور کیا کر گزرے۔ چنانچہ وہ اندر ہی اندر رعب دار آواز یں نکالتا ہے تاکہ چور وقت پا کر خود ہی فرار ہو جائے۔ سانپ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یہ لال رنگ کا ڈب کھڑبا جونسرا سانپ جب دن یارات کو غسل خانے کی موری میں نظر آتا ہےتو دیکھنے والے کی گھگھی بندھ جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے تو اس پر قابو پانا مشکل نہیں ہوتا کہ یہ صرف ’’چوہے کھانا‘‘ سانپ ہے۔ اسے دو تین پلٹیاں دیں تو الٹا ہوش و ہوس کھو بیٹھتا ہے۔
مگر مہربان قدر دان! میرے پٹارے میں صرف لال رنگ کا ڈب کھڑبا جونسرا سانپ ہی نہیں ہے، دوسرے سانپ بھی ہیں۔ ابھی میں اپنی پٹاری میں سے جو سانپ نکالوں گا وہ جونسرے کی طرح موٹا تازہ نہیں، معمولی جسامت کا سانپ ہے لیکن اس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ صاحبان دو دو گز پرے ہو جائیں ایک نعرہ علیؓ کا ماریں جیب پاکٹ سے ہوشیار رہیں۔ یہ سانپ میں نے زمین پر چھوڑ دیا ہے، اوئے منڈیا ذرا پرے ہٹ کے کھلو۔ یہ سانپ آندھی کی رفتار سے چلتا ہے، بغیر اشتعال کے حملہ کرتا ہے اور فوراً اپنے بل میں گھس جاتا ہے۔ یہ زیادہ وقت اپنے بل میں گزارتا ہے کسی کو ڈسنا ہو تو بل سے نکلتا ہے اور ڈسنے کے بعد دوبارہ بل میں گھس جاتا ہے۔ اگر لوگ اس کے بل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر وہ بھی اس کا قلع قمع کرنے پر تل جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ کدال وغیرہ سے اس کا بل کھودنا شروع کردیتے ہیں اور پھر ایک وار میں اس کا خاتمہ کردیتے ہیں کیونکہ سانپ کی طاقت اس کے زہر میں نہیں اس کے بل میں ہے۔ بعد میں لڑکے بالے اس مرے ہوئے سانپ کو لکڑی پر لٹکائے ہوئے گلی گلی پھیرتے ہیں۔ مگر اس کی دہشت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے قریب جانے کی ہمت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اوئے منڈیا پرے ہٹ کے کھلو۔ یہ سانپ جو اس وقت آپ کے سامنے گرمی کی وجہ سے ادھ موا پڑا ہے، زندگی کی پوری حرارت سے محروم ہے۔ اوئے لڑکے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے قریب نہ آؤ۔ میں نے اس کے دانت نہیں نکالے کیونکہ میں سانپ کے دانت نہیں نکالتا انسانوں کے دانت نکالتا ہوں۔ اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ زنبور کے ساتھ دانت نکالے گا اور لہولہان کردے گا۔ میں انگشت شہادت سے دانت نکالتا ہوں۔ جن صاحب کا کوئی دانت کمزور ہو گیا ہو وہ آگے تشریف لائے۔مہربان قدر دان میں نے سانپ کو پٹاری میں بند کردیا ہے اب ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انگشت شہادت سے دانت نکلوائیں، میں تیس سال سے یہی کام کرتا ہوں۔ پٹاری میں سے سانپ نکالتا ہوں اور انگشت شہادت سے دانت نکالتا ہوں۔ بسم اللہ، بسم اللہ،
سوری بابا جی ،آپ کے منہ میں صرف ایک دانت باقی بچا ہے ۔31دانت پہلے کوئی نکال چکا ہے یہ بتیسی کی نشانی کے طور پر اپنےپاس رکھیں!جی کوئی اور صاحب ۔ہاں بھئی جوانا، ذرا منہ کھول، فوراً بند کردے۔بہت بو آ رہی ہے!اوئے کاکے تو نے کیوں ہاتھ کھڑا کیا ہوا ہے تیرے تو ابھی دانت نکل رہے ہیں چل بھاگ یہاں سے !جی بھائی جی میں آیا ،میں آیا ،کون سا دانت ؟ یہ والا ؟کلمہ شہادت پڑھیں میں نے ایک گھنٹہ دانت نکالنے کی کوشش کی، انگشت شہادت سے کہاں نکلنا تھا، میں نے اپنے تھیلے میں موجود سب تندوتیز اوزار آزمائے ۔پہلے وہ چیختا چلاتا رہا اب وہ آدھے گھنٹے سے بے سدھ خاموش پڑا ہے، سب بآواز بلند پڑھیں کلمہ شہادت۔
آخر میں اپنی ایک غزل
وہ سرخ پھولوں سے رستہ سجا بھی دیتا ہے
وہ میری راہ میں کانٹے بچھا بھی دیتا ہے
اسے پتا ہے خدا ہر دعا نہیں سنتا
سو وہ دعا بھی بہت، بددعا بھی دیتا ہے
بچانے لگتا ہوں جب بھی اسے میں گرنے سے
وہ مجھ کو میری نظر سے گرا بھی دیتا ہے
نکال دیتا ہے اکثر وہ مکتبِ دل سے
نئے سرے سے مجھے داخلہ بھی دیتا ہے
رکاوٹیں بھی تعلق میں ڈالتا ہے بہت
مگر وہ خود ہی مجھے راستہ بھی دیتا ہے
وہ جھوٹ بولتا ہے خود سے اور مجھ سے بھی
پھر اپنے آپ کو اس کی سزا بھی دیتا ہے
کسی کو دیکھ کے خوش، وہ اسے رُلاتا ہے
مگر وہ غم زدگوں کو ہنسا بھی دیتا ہے
وہ جب سمجھتا ہے اس کو سمجھ گیا ہوں میں
وہ اپنے آپ کو مجھ سے چھپا بھی دیتا ہے
مجھے دھکیل بھی دیتا ہے وہ اندھیروں میں
انہی اندھیروں میں رستہ سُجھا بھی دیتا ہے
کمال اس کا نہیں ہے کمال میرا ہے
مجھے وہ غیر سے اپنا بنا بھی دیتا ہے
ہے اس کا ساتھ بھی اس کے مزاج جیسا ہی
وہ دھوپ دیتا ہے، کالی گھٹا بھی دیتا ہے
عذابِ جاں ہے مگر کیا کریں عطاؔ صاحب
وہ لُو کے شہر میں ٹھنڈی ہوا بھی دیتا ہے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker