عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

’’کورونے‘‘ سے ذرا ہٹ کر!۔۔عطا ء الحق قاسمی

میں اس حافظے کا کیا کروں، کاغذ قلم لے کر بیٹھا تھا کہ کالم کیلئے ایک بہت دلچسپ موضوع ذہن میں آیا مگر اچانک وہ موضوع ذہن سے ڈیلیٹ ہو گیا۔ آج میں چاہتا تھا کہ خوف کی اس فضاسے خود بھی نکلوں اور اپنے قارئین کو بھی نکالوں کیونکہ خوف، مایوسی، نا امیدی، ڈپریشن سے انسان کی قوتِ مدافعت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کو واردات کرنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ میری خواہش تھی کہ آج خوش باش سا ہلکا پھلکا سا کالم لکھا جائے اور اس کیلئے بہت مزے کا موضوع ذہن میں تھا۔ جس سے ذہن کھلکھلا اٹھے اور ہم وائرس کو کچھ دیر کیلئے اداس کر سکیں۔ وہ موضوع تو ذہن سے نکل گیا، مگر ایک اور موضوع ہاتھ لگ گیا۔ سوچا کہ ہماری برگر کلاس اسٹیج کے اداکاروں کو ویسٹ کے کامیڈین سے بہت حقیر جانتی ہے جبکہ ان کے ایک کامیڈی شو کے پیچھے پوری ٹیم ہوتی ہے اور ادھر ہمارے ہاں سارا کام فی البدیہہ ہوتا ہے۔
اسٹیج کا بادشاہ امان اللہ مرحوم و مغفور گھنٹوں اکیلا ہی سامعین اور ناظرین کو ہنساتا رہتا تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر یہ شخص زبان کے بجائے لکھنے کا ماہر بھی ہوتا تو ہمیں ایک بہت بڑا مزاح نگار مل جاتا۔ اس کا ایک کمال یہ تھا کہ وہ فحش گوئی سے گریز کر تا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ لاہور آرٹس کونسل کے اوپن ایئر تھیٹر میں ڈرامے کے دوران ایک تھرڈ کلاس کامیڈین امان ﷲ کے مد مقابل تھا۔ اب کہاں امان ﷲ اور کہاں وہ بیچارہ جگت بازی میں پیدل۔ چنانچہ وہ لافٹر لینے کیلئے گندے فقروں سے کام چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ امان ﷲ نے کچھ دیر تو برداشت کیا مگر بالآخر اسے مخاطب کر کے کہنے لگا ’’دیکھو بھائی! میں آرٹسٹ ہوں، کوئی ایسی بات کروں گا تو بین ہو جاؤں گا، تمہارا کیا ہے، تم کل کو پھر باہر کیلے لگا لو گے‘‘!
اسٹیج کے اداکاروں میں ایک بہت بڑا نام سہیل احمد کا بھی ہے، وہ بھی کوئی فضول بات کہے بغیر لوگوں کے چہروں پر شادابیاں بکھیر دیتا ہے بلکہ میرے نزدیک ان دو فنکاروں نے اپنے ساتھیوں کو کلی طور پر درس دیا کہ جگت پاک صاف ہی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ان سے بہت سے دوسرے آرٹسٹوں نے بھی بہت کچھ سیکھا۔ مجھے صاحبِ طرز مستانہ کا ایک جملہ نہیں بھولتا۔ وہ اسٹیج پر ایک مدمقابل اداکار سے پانی مانگتا ہے۔ وہ گلاس میں تھوڑا سا پانی لے کر آتا ہے۔ مستانہ پانی دیکھتا ہے اور کہتا ہے ’’اس میں تھوڑا سا پانی اور ملا کر لاؤ، میں ذرا سا پتلا پانی پیتا ہوں‘‘ مستانہ میرے ایک ٹی وی ڈرامے میں نفسیاتی مریض کے طور پر دکھایا گیا جسے یہ یقین ہے کہ وہ بلی ہے، چنانچہ وہ بلی کی آواز میں بولتے ہوئے ماہر نفسیات سے کہتا ہے ’’ڈاکٹر صاحب میرا مالک مجھے کھانے کیلئے کچے چھیچھڑے دیتا ہے، میں بوڑھی ہو گئی ہوں، یہ مجھ سے چبائے نہیں جاتے، اسے کہیں مجھے اچھی طرح اُبال کر دیا کرے‘‘ ایک اسٹیج ڈرامے میں امان ﷲ اور ببو برال نابینا دکھائے گئے ہیں۔ ان کا رشتہ دیکھنے لڑکی والوں نے آنا ہے اور انہوں نے ان کے سامنے ظاہر کرنا ہے کہ یہ نابینا نہیں ہیں۔ چنانچہ امان ﷲ گھر کی سیڑھیاں جو اس کی دیکھی بھالی ہیں، دوڑ دوڑ کر چڑھتا اترتا ہے اور کہتا ہے ’’میں نابینا ہوں؟ کون کہتا ہے میں نابینا ہوں‘‘ اس کے علاوہ یہ دونوں اداکار بات کسی اور سے کرنا چاہتے ہیں اور کسی دوسرے کے قریب جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس سے گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ سہیل احمد اس ڈرامے میں نوے سال کا بوڑھا بنا ہوا ہے جو ان ’’نابیناؤں‘‘ کا دادا ہے، اس کی بوڑھی آواز کے علاوہ اس کا بیک وقت اپنی گردن اور ایک بازو کو ہلاتے رہنا ناقابلِ فراموش ہے۔ اسے اس ڈرامے پر اگر ہمارا شمار بڑے ملکوں میں ہوتا تو آسکر والے اسے آسکر ایوارڈ سے کبھی محروم نہ رکھتے۔
امان ﷲ خاں کو گندا فرض کر کے مزاح میں مبالغے کی گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اسٹیج ڈرامے میں ببو برال اسے کہتا ہے ’’جاؤاور منہ دھو کے آؤ۔ اس کے بعد وہ صابن بھی دھونا نہ بھولو جس سے تو نے منہ دھویا ہے۔ پھر وہ پانی بھی دھو دو جس سے منہ دھویا تھا، اس کے بعد وہ ساری گلیاں دھو کر آؤ جدھر سے وہ پانی گزرا ہے‘‘ ایک مقبول اسٹیج پلے ’’باجے والوں کی بارات‘‘ کی بارات میں کامیڈین عابد خان،’’خان صاحب‘‘بنا ہوتا ہے۔ ایک لڑکی جس کی شادی ہے اس کا باپ عابد خان کے پاس آتا ہے، اسے شادی والے دن باجے والوں کو بلانا ہے، بارگیننگ شروع ہوتی ہے تو لڑکی کا باپ اتنے کم پیسے آفر کرتا ہے جس پر عابد خان راضی نہیں ہوتا۔ وہ اسے راضی کرنے کیلئے کہتا ہے ’’خان صاحب اوپر سے بھی بہت کچھ (ویلیں) ہو جائے گا ’’جواب میں عابد علی کہتا ہے ’’اگر اوپر سے بارش ہو گئی تو؟‘‘
ان اداکاروں کو اسٹیج سے ٹی وی پر لا کر ان کی شہرت اور آمدنی میں بے پناہ اضافے کا کریڈٹ بلاشبہ آفتاب اقبال کو جاتا ہے۔ آفتاب خود بھی بہت عمدہ مزاح نگار ہے مگر وہ اپنی ساری صلاحیتیں اپنے ٹی وی شوز پر صرف کر دیتا ہے۔ کاش وہ ان مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر مزاح لکھنے کی طرف بھی آئے کہ ہمارے ہاں مزاح نگاروں کا سخت کال ہے۔ بہرحال آج لکھنا کچھ اور چاہتا تھا مگر حافظے کی کمزوری کی وجہ سے کسی اور طرف نکل گیا‘‘ ٹھیک تو یہ بھی ہے مگر جس موضوع پر لکھنا تھا وہ اس سے کہیں زیادہ شاداں تھا۔ کوئی بات نہیں۔ ﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker