Author: ایڈیٹر

آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت سات ہزار میٹرک ٹن ہے جو قدرتی گیس کی کمی کے باعث اب بڑھ کر آٹھ ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار تقریباً 2200 میٹرک ٹن ہے جبکہ باقی درآمد کی جاتی ہے۔

مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔

ڈاکٹر محلے داروں کی عمومی عادات و طبی مسائل سے بھی واقف تھا۔ معائنہ کرتا، خود ہی دوا پیس کے پڑیاں بناتا اور ایک بوتل میں کوئی شربت نما شے بھر کے اس پر کاغذ کو قینچی سے کاٹ کر خوراک کی مقدار کے نشان کے طور پر چپکا دیتا۔ جس نے جتنے پیسے دیے بغیر گنے دراز میں رکھ لیے۔ آمدنی کم اور احترام بے شمار۔

یہاں یہ بحث غیر ضروری اور بے کار ہوگی کہ کیا یہ ٹوئٹ واقعی نسیم شاہ کے خیالات کا پرتو تھا یا یہ انہوں نے خود ہی لکھوایا تھا یا کسی نے اکاؤنٹ ہیک کرکے اسے مریم کی ’تضحیک‘ کے لیے استعمال کیا۔ کیوں کہ ٹوئٹ میں کیا جانے والا سوال بے حد معصومانہ تھا۔

تب بھی امتحانی مرکز اپنا اسکول نہیں ہوتا تھا مگر کچھ مضطرب صدر معلم بھی ’کھلّے اور بُجّے‘کو بھی اپنے اسکول کو زیادہ سے زیادہ وظیفے دلانے کے لئے استعمال کرتے تھے یعنی بظاہر کسی کو ڈانٹنے کے لئےبُجّہ دیتے مگر دونوں ہتھیلیوں پر ضروری جواب لکھے ہوتے اسی طرح وہ جوتا اچھالتے یا دکھاتے تو اس کے تلے پر موٹے قلم سے کچھ جواب لکھے ہوتےتھے

کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

جس ملک کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی مزاحمت کررہا ہے، وہ متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔ یو اے ای نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور پاکستان و ترکیہ کی طرف سے امن کی کوششوں میں بھی اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ایرانی جزائر پر حملوں کے لیے (جن میں تیل کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل جزیرہ خرگ بھی شامل ہے) متحدہ عرب امارات امریکی فوج کی سہولت کاری کررہا ہے ۔