آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘
Author: ایڈیٹر
وہ اکثر پاکستان کے ٹیلی وژن شوز میں شرکت کرتی ہیں اور فنکاروں کے کاسمیٹکٹ پروسیجرز کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ اپنی بھابھی اور حمزہ علی عباسی کی اہلیہ کی مبینہ کاسمیٹک سرجری کی وجہ سے سوشل میڈیا بحث کا حصہ رہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فائنل الیون میں کپتان سعود شکیل، شامل حسین، رائلی روسو، حسن نواز، خواجہ نافع، بین میکڈرمٹ، ٹام کرن، احمد دانیال، الزاری جوزف، ابرار احمد اور عثمان طارق شامل تھے۔
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
میں نے سید مظہر جمیل کو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی بھیجا اور پھر حسبِ عادت جناب آصف علی زرداری اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کو مکاتیب لکھنے شروع کئے کہ اس سوانح عمری کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے عنائت کیجئے کہ آپ کے کئے ہوئے وعدوں کی تعمیل ہو سکے شاید میرے مکاتیب کے سبب جناب فرحت اللہ بابر کا ایک قریب قریب جِھلّایا ہوا فون آیا کہ اتنی معمولی رقم کے لئے آپ کا صدر مملکت کو اتنے مکاتیب لکھنا مناسب نہیں۔
ایرانی مطالبے یک طرفہ ہونے کے ساتھ فریق مخالف کو فیس سیونگ کا کوئی موقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں جبکہ امریکی شرائط میں ایران کی حکومت کو ماننے کے علاوہ اس پر عائد مالی پابندیاں ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح یہ نکات مذاکرات شروع کرنے کے لیے مناسب بنیاد بن سکتے ہیں۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے اور اب اسے امریکہ کے جواب کا انتظار ہے۔
شاہی صاحب بلا شبہ ملتان کی صحافت کا اثاثہ تھے ۔ انہوں نے حق گوئی کو اپنا شعار رکھا اور پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے کارکن صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
