ایاز امیرکالملکھاری

پاکستان کیلئے اسے موقع سمجھئے۔۔نقطہ نظر/ایازامیر

دبئی کا ٹورزم سیکٹر زمین بوس ہوگیاہے۔ دبئی چل ہی ٹورزم پہ تھااورسیاحوں کاآنا جانا بند ہوگیاہے ۔ جسے ہم نائٹ لائف کہتے ہیں وہ بھی دبئی کی برباد ہوچکی ہے۔ ائیرلائنیں اُن کی‘ جن پہ انہیں بہت ناز تھا بیٹھ گئی ہیں۔ ائیرپورٹوں پہ قطار در قطار ہوائی جہاز کھڑے ہیں۔ ائیر لائنوں کے عملے کی چھٹی ہورہی ہے۔ سیاحوں کا آنا جانا شروع بھی ہوا تو پرانی سطح پہ آنے کیلئے ایک عرصہ درکار ہوگا۔
دبئی میں کوئی چیز پروڈیوس نہیں ہوتی۔ جسے ہم مینو فیکچرنگ کہتے ہیں وہ تو وہاں ہے نہیں۔ ساری کی ساری معیشت ٹورزم اوررئیل اسٹیٹ پہ چل رہی تھی۔ ابوظہبی میں تیل ہے دبئی میں نہیں۔ یہ وباجو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے جہاں اس نے اور تباہی مچائی ہے اس کی وجہ سے ٹورزم کے سیکٹر کا تو بیڑہ غرق ہوگیاہے ۔ جوملک اس ایک سیکٹر پہ زیادہ تر جی رہا تھا اس کا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ کیا حشر ہوگیا ہوگا۔
پاکستانی جن کی جیبوں میں کچھ ہوتاتھا کہیں اورجاتے تھے یا نہیں دبئی کا رخ ضرور کرتے تھے ۔ سیروتفریح اوردیگر مصروفیات کیلئے۔ اُن کی ایک منزل دبئی ہوا کرتی تھی اوردوسری بنکاک۔ جیسا ہم جانتے ہیں تھائی لینڈ کی خوشحالی بھی ٹورزم سیکٹر سے وابستہ رہی ہے۔ پاکستانیوں کو چھوڑئیے دنیابھر کے سیاحوں کیلئے تھائی لینڈ اوربنکاک ہاٹ سپاٹ رہے ہیں۔ وقتی طورپہ ہی سہی لیکن فی الحال بنکاک کا ائیرپورٹ ویران پڑاہے اوربنکاک اورتھائی لینڈ کے دیگر شہروں کی نائٹ لائف بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔
یہ خبریں آرہی ہیں کہ دبئی سے بھاری تعداد میں پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔پاکستانی قونصلیٹ دبئی میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں نے واپس آنے کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ کئی تو عارضی طورپہ واپس آرہے ہوںگے لیکن دبئی کی معیشت پہ دیرپا منفی اثرات رہے تو ظاہر ہے وہاں نوکریوں کی گنجائش بھی محدود ہوتی جائے گی۔ وہاں کی ائیرلائنیں دبئی کی آنکھ کا تارا تھیں۔ اگر اُن پہ منفی اثرات پڑ چکے ہیں توانداز ہ لگایا جاسکتاہے کہ نوکریوں پہ بالعموم کیا اثر پڑے گا۔
پاکستان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اپنے ٹورزم اورسروس سیکٹر کو برباد کرنے کی ۔ ایک زمانہ تھا جب گلف کے ملکوں میں تیل کی وجہ سے نیا نیا پیسہ آیا تووہاں کا اونچا طبقہ پاکستان کارخ کرتاتھا۔ یہ 1970ء کی دہائی کی بات ہے۔ عرب امرا کیلئے کراچی اورلاہورجیسے شہر بڑی کشش رکھتے تھے۔ متحد ہ عرب امارات کے بانی شیخ النہیان پاکستان کے نجی دوروں پہ اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب امارات اورگلف کے دیگر شیخ ڈمز ماڈرن دنیا میں پہلے پہلے قدم رکھ رہے تھے۔ اُس وقت یوں لگتاتھا کہ ماہی گیری کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ہوتا۔ تیل کی قیمتوں کے بڑھنے سے جو نئی صورتِ حال پیدا ہورہی تھی اس کا ادراک پاکستان کے تب کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کوتھا۔ 1973ء کی عرب اسرائیلی جنگ ہوئی اورراتوں رات تیل کی قیمتوں میں چار گنا اضافہ ہوا تو جہاں بھٹو نے عرب ملکوں کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کیا (یادرہے 1973ء کی جنگ میں پاکستان ائیر فورس کے پائلٹوں نے شام کے جہاز اڑائے اوراسرائیلی جہاز وں کے مدمقابل ہوئے) وہاں پاکستانیوں کیلئے پاسپورٹ کا حصول بھٹو نے آسان بنادیا۔
اُس زمانے کے پاکستان میں ایک عام شہر ی کیلئے مشکل ترین کام پاسپورٹ بنوانا ہوتاتھا۔ بھٹو نے حکم دیا کہ عام فیس پرپاسپورٹ لازمی طورپہ پندرہ دن میں مل جائے گااورارجنٹ فیس پہ اُسی دن‘یعنی اُسی روز پاسپورٹ درخواست گزار کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس زمانے کے تناظرمیں یہ انقلابی قدم سے کم نہ تھا۔ تیل کی قیمتوں کے بڑھنے سے سعودی عرب اورگلف ریاستوں میں کنسٹرکشن کے دروازے کھل گئے۔ بھٹو کی وجہ سے ان ممالک میں پاکستان کی ویسے ہی گڈوِل بہت تھی۔ نوکریوں کے مواقع کھلے تو پاکستان کا مزدور طبقہ دھڑا دھڑ اُن ممالک میں گیا۔ پاکستانیوں نے وہاں پیسہ کمایا اور واپس پاکستان بھیجا۔ کچھ ہی عرصے میں ہمارے دیہاتی علاقوں کی شکل بدلنے لگی۔ کچے مکان پکے ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک نئی دنیا معرض وجود میں آتی گئی ۔
بھٹو کی نظریں البتہ ایک اورطرف بھی تھیں۔اُن کا تصورتھا کہ کراچی کو ٹورزم کے حوالے سے ایک مقناطیسی شہر بنایا جائے۔ اُن کا ارادہ تھا کہ کراچی کے سمندرمیں بڑے بڑے کیسینوبنائے جائیں‘ لیکن یہ منصوبے ادھورے ہی رہے ۔ اُن کا اقتدار قائم نہ رہ سکا اورپھر پاکستان میں جس طرز کی حکمرانی آئی اُس میں کیسینوز اورنائٹ لائف کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ بھٹو کے تصور میں کراچی کو ایک دبئی بنناتھالیکن اُن کا خواب ادھورا رہا اورجو ہم نہ کرسکے وہ دبئی کے حکمرانوں نے کردکھایا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں عرب ممالک پاکستان کی طرف دیکھتے تھے پاکستان اُن عرب مہربانوں کا محتاج ہوتاچلا گیا۔
جو ہوگیا سوہوگیا‘ لیکن اب اس بیماری کی وجہ سے جو ایک عجیب وغریب صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس سے اگر ہم میں کوئی عقل ہو تو ہم فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ جس ٹورزم اورسروس سیکٹر کو ہم نے اپنی نااہلی اورکم عقلی کی بنا پہ برباد کیا اُسے ہم بحال کرسکتے ہیں ‘ بشرطیکہ جو خول ہم نے اپنی اجتماعی عقل پہ پہن رکھے ہیں اُن سے ہم نکل سکیں۔ جو ہم نے سماجی اورمعاشرتی بندشیں بنا رکھی ہیں اُن سے نکلنا ہوگا۔ تب ہی ٹورزم سیکٹر یہاں پنپ سکتا ہے۔ باہر سے سیاح نہ بھی آئیں تو اندرونی طورپہ بھی پاکستان میں اتنی گنجائش موجودہے کہ ٹورزم سے خاطر خواہ پیسہ کمایاجاسکے ۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پاکستانی ذہن کو آزاد کیاجائے۔ وہ جو سماجی قوانین 1970ء کی دہائی میں بنے تھے اُنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی ‘ لاہور ‘ اسلام آباد اورشمالی علاقہ جات ٹورزم کے مقناطیس بن سکتے ہیں۔ شرط وہی ہے ذہنوں کو آز اد کرنے والی ۔
ایسا ہوجائے تو دبئی اوربنکاک جیسے مقامات پہ جانے کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے ۔جن پاکستانیوں نے سیروتفریح پہ پیسہ خرچ کرنا ہے وہ اپنے ملک میں کیوں نہ کریں؟ بشرطیکہ کچھ قوانین میں تبدیلی ہو اورکچھ پولیس وغیرہ کے رویے بھی بدلیں۔ یہ جو پاکستانی حکام بالعموم اور پولیس بالخصوص کی عادات بن چکی ہیں کہ شہریوں کو تنگ کرناہے ‘ پیسہ ہتھیانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا‘ اس میں تبدیلی آنی چاہیے۔ قوانین تو دبئی میں بھی ہیں‘ بنکاک میں بھی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سوچ وہاں مختلف ہے ۔ مہمانوں ‘ سیاحوں اورسیروتفریح کرنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ماحول اچھا بناتے ہیں۔ یہاں کام بالکل اُلٹاہے کہ ہر ایک کو شک کی نگاہ سے دیکھناہے ۔ کوئی بڑی گاڑی میں ہو اس پہ تو ہاتھ نہیں ڈالنا لیکن عام شہریوں سے رویہ نازیبا ہی رکھناہے ۔
پاکستان ایک آزاد ملک ہے پولیس سٹیٹ تونہیں۔ یہاں کے لوگ جی دار قسم کے لوگ ہیں۔ پھریہ فضول قسم کی پابندیاں کیوں؟ان کا مقصد کیاہے‘ ہم نے ان سے حاصل کیاکیاہے؟پاکستان کوئی زیادہ نیک معاشرہ بن گیاہے۔ ہرچیزہوتی ہے لیکن پردے کے پیچھے۔ اس دورخی کی وجہ سے جہاں اورنقصانات ہیں معاشرے میں منافقت بھی رچ بس گئی ہے ۔ ان روشوں سے اچھا بھلا معاشرہ بگڑ کے رہ گیاہے ۔
یہاں اورکچھ نہیں ہونا۔پاکستان میں سب سے بڑا افسانہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایکسپورٹس بڑھانی ہیں۔ کون سی ایکسپورٹس ‘ ہم کون سے کمپیوٹر اورراکٹ بنا رہے ہیں ؟لے دے کے ایک ٹیکسٹائل سیکٹر ہے اوروہ بھی بیمارپڑا ہواہے۔ کپاس بہت اُگتی تھی اورہم ایکسپورٹ بھی کرتے تھے لیکن کپاس کی پروڈکشن گر چکی ہے۔ پاکستانی باسمتی کی بین الاقوامی منڈیوں میں دھوم ہوا کرتی تھی لیکن اس حوالے سے بھی وہ بات نہیں رہی ۔ کچھ چمڑا ہم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ہنرمندی آ بھی جائے تومینو فیکچرنگ سیکٹر کو پنپنے کیلئے وقت لگتاہے۔ فی الحال جو پیسہ کمایا جاسکتاہے وہ سروس سیکٹر سے ہے۔ ہوٹل کھلیں‘ پاکستانی سیروتفریح پہ پیسہ پاکستان میں خرچیں نہ کہ دبئی یا بنکاک میں‘ لیکن سوال وہی ہے ‘ پاکستان کے اجتماعی ذہن کو کون آزاد کرائے گا؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker