ہماری من حیث القوم غفلت کوتاہی اور چشم پوشی کے رویے نے اس سال ملک عزیز کے طول و عرض میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے معمولات زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اس بار ساون کی گھٹائیں بھی جی بھر کے برسی ہیں جن میں کئی کچے مکان ہی نہیں بلکہ سیلابی ریلوں سے مکانوں کے مکیں اور ان کے مال اموال بھی بہہ گئے ہیں۔ کسانوں کی آس ان کے کھیت کھلیان اور فصلیں تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہیں۔ حکومتی اداروں سے ملنے والی امدادیں گویا اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ ایسے میں ہماری مجموعی حکومتی اور سیاسی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے حکمران اور حکومتی ادارے اپنی ناقص کارکردگی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بھی اب سیلابی علاقوں کے دورے کر رہیے ہیں سیلاب نے سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد میں تباہی مچا رکھی ہے۔ جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع سیلاب کی تباہ کاریوں کا نمونہ پیش کر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران اپوزیشن سے لڑائیوں ایک دوسرے سے سینگ لڑانے میں مصروف ہیں۔
جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیمیں الخدمت فاؤنڈیشن، ارتقا آرگنائزیشن، متحدہ مسلم موومنٹ اور چند دیگر سماجی تنظیمیں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے نکلی نظر آ رہی ہیں کچھ مخیر افراد بھی متاثرین سیلاب کے لئے سامنے آ رہے ہیں
ضلع ڈیرہ غازی خان میں رودکوئیوں نے خاصی تباہی مچا رکھی ہے۔ وہوا، ٹبی قیصرانی اور تونسہ شریف کے علاقے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فاضل پور اور راجن پور کے علاقے سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں کوہ سلیمان کے مکینوں کی صداؤں پر بھی کان دھرنے کی ضرورت ہے مظفر گڑھ علی پور اور جتوئی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مکیں بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں کوٹ مٹھن کی نگری میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے کوٹ مٹھن خواجہ فرید کا مسکن ہے کاش ہماری ماضی اور موجودہ حکومتوں نے ان علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کیلئے کچھ کیا ہوتا تو آج یہ حالات اور صورتحال نہ ہوتی۔ ہم تو اسمبلیوں کو مچھلی بازار بنانے اور مار کٹائی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو کروڑوں روپے میں اراکین کی خریدو فروخت ہوتی ہے، سندھ ڈوبا ہوا ہے کسی کو یہاں کے مکینوں کی پرواہ نہیں۔ بلوچستان میں ہر طرح کی پسماندگی ہے کسی کو اس کا درد نہیں ہے۔ پنجاب اور کے پی کے اضلاع میں موجودہ سیلاب کی تباہ کاریاں حکومتوں کی کارکردگی کا پول کھول رہی ہیں۔ شہروں کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والے ان کو اپنا تشخص ہی دے دیتے تو کوئی بات تھی، میڈیا پر تصاویر، بیانات اور امدادی چیزیں دینے کی تشہیری مہم کے سوا ہم لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا اگر ہم میدان عمل میں اترتے بھی ہیں تو اس وقت جب بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گذر چکا ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری معزز عدالتیں سیلاب کی اس صورتحال کا از خود نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کریں
ہمارے حکمران اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر عوام کی فلاح کا سوچیں سیاسی جماعتیں اپنے جلسے جلوس اور ریلیوں سے کچھ وقت نکال کر ان سیلاب زدگان کی مدد کیلئے بھی اپنے حمایتوں کے ساتھ میدان میں نکلیں۔
یہ ملک اور اس ملک کے عوام زندہ رہیں گے تو سیاست بھی چمکائی جا سکے گی۔
میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا:
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
سیلاب کے ہولناک ریلوں نے بستیوں کی بستیاں تباہ کر دی ہیں جو بستے بستے بستی ہیں۔
شاید ایسی ہی بارشوں کے مدنظر احمد فراز نے کہا تھا کہ:
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر
ہماری حکومتوں کو عوام پر آئے روز بجلیاں گرانے، ٹیکس لگانے اور ان کے انسانی حقوق غضب کرنے کی بجائے ان کی مستقل آباد کاری اور آسانیاں فراہم کرنے کیلئے بھی کچھ کرنا چاہیے۔
دیہات میں بہہ جانے والے ان کچے مکانوں کی تعمیر و ترقی کا بیڑا بھی اٹھانا چاہیے۔ مخیر حضرات صنعت کار اور صاحب ثروت افراد کو بھی سیلاب زدگان کی امداد کیلئے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی خوشیاں منانے اور جشن طرب منانے کے ساتھ ساتھ ان مجبور، بے کس اور مظلوم ہم وطنوں کے دکھ درد کا مداوا بھی کرنا چاہیے۔ سیلاب میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں پانی کی بہتات کی وجہ سے مرنے والوں کو دفن کرنا بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہمیں اس باپ کے دکھ کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے جو پانی کی ہولناکیوں سے اپنے بچے کی لاش بچانے کیلئے اسے پلاسٹک کے شاپر میں لپیٹے پھر رہا ہے جہاں خوراک نہ ملنے اور بھوک سے بچے بلک کر رو رہے ہیں اور لقمہ اجل بن رہے ہیں
آج ہم ہمارا میڈیا ہماری حکومت اور ہمارے سیاست دان کتنے بے حس سنگدل اور مفاد پرست ہو گئے ہیں کہ انہیں دریا¶ں میں ڈوبے لوگ زمین میں دھنسی لاشیں شاپر میں لپٹے مردہ بچے اور بین کرتی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں نظر نہیں آ رہیں۔ کیا قیامت اس سے کچھ مختلف ہوتی ہے آئیے آج ہم سب اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ان درد کے ماروں کا بھی کچھ سوچیں کچھ ان کے لیے بھی کچھ کریں اور اپنی آنکھیں کھولیں کہ یہ سیلاب جن کا سب کچھ بہا کر لے گیا ہے۔
کسی درد مند کے کام آ
کسی ڈوبنے کو اچھال دے
فیس بک کمینٹ

