اتوار کا دن پاکستانی سیاست اور ملکی سلامتی کے حوالے سے بھاری ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف عدم اعتماد کو ’قومی غیرت‘ کا معاملہ بنا کر اسے معرکہ ’حق و باطل‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس وجہ سے کسی بھی سطح پر سنگین تصادم کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز کے درمیان وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لئے مقابلہ ہو گا۔ یہ معرکہ بھی ملکی سیاست کے آئندہ رخ کا تعین کرے گا۔
ہفتہ کے روز دو اہم تقاریر سامنے آئی ہیں۔ پہلی تقریر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس تقریر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم باتیں کی گئیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے یوکرائن پر روسی حملہ کو انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے اس جنگ کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یوکرائن کے ساتھ پاکستان کے پہلے دن سے خوشگوار تعلقات ہیں جبکہ روس کے ساتھ پاکستانی تعلقات ایک طویل عرصہ تک سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے یوکرائن کی عسکری مزاحمت کی بالواسطہ توصیف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے ملکوں کو حوصلہ ملا ہے کہ وہ جدید ہتھیاروں اور مستعد فوج کے ذریعے ایک بڑی فوج کے حملہ کا بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان ائرفورس کے ذریعے یوکرائن کو انسانی امداد بھیجی گئی ہے اور پاکستان یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے اگرچہ کسی بھی عالمی بلاک کا حصہ نہ بننے کی پالیسی کا دفاع کیا اور کہا کہ پاکستان ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اسٹریٹیجک اور تجارتی تعلقات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ملک کے لئے یہ تعلقات کس درجہ اہمیت رکھتے ہیں۔ جنرل باجوہ کی اس تقریر میں درحقیقت ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی حکومت بچانے کے لئے کی جانے والی مہم جوئی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ عمران خان الزام لگا رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر انہیں وزارت عظمی سے ہٹانے کی سازش کی ہے۔
عمران خان اس بارے میں ثبوت کے طور پر امریکہ سے سبکدوش ہونے والے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے ایک سفارتی مراسلہ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں بقول ان کے امریکی حکام نے مطلع کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت میں دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ وزیر اعظم اس ’پیغام‘ سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف واشنگٹن میں سازش تیار کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں پاکستانی اپوزیشن پارٹیاں اس کا حصہ بن گئیں کیوں کہ اپنی کرپشن کی وجہ سے وہ بھی عمران خان اور ان کی حکومت سے خوفزدہ ہیں۔ اس سازشی نظریہ پر اصرار کے ذریعے عمران خان پاکستانی عوام میں امریکہ مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ انہیں کسی طرح سڑکوں پر نکالا جا سکے اور اس دباؤ میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کو روکا جا سکے۔ امریکہ اس بات کی تردید کرچکا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستانی حکومت کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کی ہے یا اسے پاکستان میں جمہوری انتظام سے کوئی مسئلہ ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت واضح کر کے اور یوکرائن جنگ کی بالواسطہ مذمت کر کے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر جو باتیں کی جا رہی ہیں یا جو گرم جوشی پائی جاتی ہے، اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ شاید اسی لئے آرمی چیف نے صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دینا ہی ضروری نہیں سمجھا بلکہ یوکرائن میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے اسلام آباد کی پالیسی امریکی موقف سے قریب تر ہے۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ہی انہوں نے یوکرائن کے لئے پاکستانی امداد کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس گفتگو کا پس منظر بھی اسی تفہیم سے ہے جو عمران خان ملک میں اقتدار کی جنگ لڑتے ہوئے عوام کے ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ امریکہ نے ان کے خلاف ان کے دورہ روس کی وجہ سے ہی سازش کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی کیوں کہ امریکہ پاکستان کے روس جیسے ملک کے ساتھ تعلقات کو برداشت نہیں کر سکتا۔
آرمی چیف نے ایک اہم فورم پر قومی سلامتی کے حوالے سے کی گئی اس تقریر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خد و خال واضح کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پہلے ہی جیسی ہے اور اس میں نام نہاد خود مختاری کے جو نعرے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیے جا رہے ہیں، واشنگٹن یا دوسرے دوست ملکوں کو ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملکی سفارتی تعلقات کو درپیش اندیشوں کے باعث شاید ملک کے ایک با اختیار عہدیدار کی طرف سے اس قسم کی یقین دہانی ضروری بھی تھی۔ اس طرح وقتی طور سے شاید یہ اشارہ ضرور دیا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی جذبات اور انفرادی سیاسی ضرورتوں کی بجائے ادارہ جاتی جائزوں اور قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہیں اور ان پر عمل ہوتا رہے گا۔ البتہ اس حوالے سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا کہ آخر پاک فوج کو قومی سیاسی معاملات یا سفارتی تعلقات کے بارے میں متحرک ہونے کا کیا حق حاصل ہے؟ جنرل باجوہ نے کس آئینی استحقاق کے تحت پاکستان کی خارجہ پالیسی بیان کی ہے اور اس تصویر کو غلط قرار دیا ہے جو ملک کی سیاسی قیادت خارجہ پالیسی کے بارے میں واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اصولی طور پر اس سوال کا جواب وزیر اعظم عمران خان کو دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے خود بھی ایک روز پہلے اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کیا تھا لیکن ان کی یہ تقریر اسی سیاسی تھیسس پر استوار تھی جو وہ 27 مارچ کے جلسہ کے بعد سے بیان کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف ایک غیر ملکی طاقت نے دھمکی آمیز خط لکھا ہے اور انہیں آزادانہ خارجہ حکمت عملی کی وجہ سے منظر نامہ سے ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے لیکن وہ آخر دم تک اس سازش کا مقابلہ کریں گے۔ حالانکہ اس موقع پر وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کو حکومت پاکستان کی طرف سے وہ باتیں کہنی چاہئیں تھیں جو آج جنرل قمر جاوید باجوہ کو بتانا پڑیں۔ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامی خاص طور سے جنرل باجوہ کی اس تقریر کو سیاسی حکومت کے جائز اختیار میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ اس دلیل سے اتفاق کے باوجود یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ خود وزیر اعظم یا وزیر خارجہ نے اس بارے میں کیا موقف اختیار کیا ہے۔ جنرل باجوہ کی تقریر کے بعد شاہ محمود قریشی نے بھی اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کیا لیکن انہوں نے خارجہ پالیسی کے ان پہلوؤں پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جو جنرل باجوہ بیان کرچکے تھے۔
شام کے وقت عمران خان نے عوام کے ساتھ براہ راست مکالمہ کا سیشن کیا جسے قومی میڈیا پر براہ راست نشر کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے ابتدائی طور پر مختصر تقریر میں وہی باتیں دہرائیں جو وہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں۔ البتہ جنرل باجوہ کی اس ’فارن پالیسی‘ تقریر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جو براہ راست ان کے بیانیے اور موقف سے متصادم تھی۔ نہ ہی انہوں نے اس بات پر کوئی رد عمل ظاہر کیا کہ ملک میں سیاسی حکومت کے ہوتے ہوئے آرمی چیف نے سیاسی و سفارتی معاملات پر کیوں بات کی۔ بلکہ سوال جواب کے سیشن کے دوران ان سے فوج کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے استفسار بھی کیا گیا لیکن انہوں نے فوج پر تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ فوج کی طرف سے ’غیر جانبدار‘ رہنے کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔ اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہنا چاہیے کہ ہفتہ عشرہ پہلے وہ ایک پرجوش تقریر میں ’نیکی و بدی کی جنگ‘ میں نیوٹرل رہنے کو حیوانی خوبی قرار دے چکے تھے۔ عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں فوج کو ملکی سلامتی کا سب سے اہم ادارہ قرار دیا تاہم ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ فوج کے بعد تحریک انصاف ہی یعنی وہ خود ملک کو بچا سکتے ہیں۔
ملک کو بچانے کے دعوے دار عمران خان البتہ ان تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے بھی ملک میں انتشار اور فساد پیدا ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ اور جس سے قومی معاشی و سفارتی مفادات منفی طور سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد سے پہلے اس قسم کا کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اہم اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر کے قومی اسمبلی کے اجلاس کو ناکام بنایا جاتا ہے تو اس پر کوئی غیر متوقع رد عمل بھی آ سکتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کو احتجاج پر اکسانے اور قومی اسمبلی میں منحرف ارکان کے خلاف احتجاج کا پیغام دے کر بھی بے یقینی اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے ذریعے قومی اسمبلی کے ارکان کو زبردستی پارلیمنٹ جانے سے روکا جائے گا یا آخری کوشش کے طور پر ایوان میں ہنگامہ آرائی کی جائے گی تاکہ اسپیکر اس عذر پر عدم اعتماد پر ووٹنگ مؤخر کر دیں۔
اتوار کا دن ان سب قیاس آرائیوں اور اندیشوں کا جواب لے کر آئے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ ایک سیاسی و آئینی عمل کے دوران کوئی فریق بھی قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے کہ ملک میں آئینی انتظام کو کوئی اندیشہ لاحق ہو۔
عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد اتوار کو ہی پنجاب اسمبلی میں عمران خان کے نامزد امید وار چوہدری پرویز الہیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے امید وار حمزہ شہباز کے درمیان پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے بھی مقابلہ ہو گا۔ آج جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ نے حمزہ شہباز کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جس کے باعث یہ مقابلہ سنسنی خیز ہونے کی امید ہے۔ عمران خان نے تحریک انصاف کے ارکان کو چوہدری پرویز الہیٰ کو ووٹ دینے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو متعلقہ ارکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے متعدد ارکان خود بھی پارٹی سے نکلنے ہی میں بہتری سمجھتے ہوں۔
باقی باتوں سے قطع نظر اس مقابلہ کا یہ پہلو انتہائی افسوسناک ہے کہ گزشتہ چار دہائی سے سیاسی عمل کا حصہ رہنے اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لئے حمزہ شہباز سے بہتر کوئی امید وار نہیں مل سکا۔ پارٹی اگر انہی موروثی خطوط پر سیاست کرتی رہی تو یہ کبھی بھی عوامی خواہشات کی حقیقی نمائندہ نہیں بن سکے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

