بلوچستان میں لسانی شورش کی بڑی وجہ ہر آنے وفاقی حکومت کی جانب سے اس وسیع و عریص رقبہ اور قدرتی معدنیات پر مشتمل صوبے کے عوام کومسلسل معاشی،تعلیمی ترقی سے محروم رکھناہے ۔ترقیاتی فنڈز، فلاح و بہبود جیسے منصوبوں میں بھی اس صوبے کونظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان نا انصافیوں اور حق تلفیوں نے بلوچستان کے عوام کو انتہا پسندی اور شدت پسندی جیسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔بیرونی طاقتوں کے عمل دخل کو بھی جھٹلایا نہیں کیا جا سکتا۔بلوچستان کی سیاست نوابوں اور سرداروں کے گرد گھومتی ہے۔لیکن وہ بھی ان محرکات کا حل نہیں نکال سکے۔ حالات و واقعات نے سیاسی جماعتوں کو قوم پرست بنا دیا اور دائیں باز و جیسی انتہا پسند تنظیموں نے شدت اور لسانی نفرت کو جنم دیا ہے۔احساس محرومی کی ماری عوام جب بھی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو ان کی آواز کو قوت سے دبا دیا گیا یا پھر بندوں کوہی غائب کردیا گیا۔ شورش کو طاقت سے دبانا مسئلہ کا حل نہیں،بلکہ مسئلے کا حل مذاکرات ہیں ۔جس پر کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔بلکہ طاقت کے استعمال کو ترجیح دی۔دائیں باز وکی انتہا پسند تنظیموں کا ردعمل سکیورٹی فورسز پر خود کش حملے ،معصوم شہریوں پربم دھماکے،بلوچ علاقہ میں کام کرنے والے پنجابیوں یا بسوں پر سوارپنجابی مسافروں کو نیچے اتار کر ان کی شناخت کرنے کے بعد ان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کاسلسلہ نیا نہیں
۔
میرا تعلق چونکہ صوبہ بلوچستان سے ہے اور میں بلوچستان دارالحکومت کوئٹہ میں صحافتی سرگرمیاں سرانجام دیتا رہا ہوں۔ا س لئے حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ ہوں ۔گزشتہ مہینے نوشکی میں بس سے مسافروں کو اتارکر پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو شہریوں کو قتل کردیا گیا اور پھر 26 اگست کونواب اکبر خان بگٹی کی 18 ویں برسی کے موقعہ پر کالعدم تنظیم بی ایل او نے دس اضلاع میں کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے اور 14 فوجی اہلکار شہید ہوگئے۔ بیلہ میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں کئی فوجی شہید ہوگئے۔وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر اعلیٰ سرفرازبگٹی کے درمیان ان بڑھتے ہوئے اندوہناک قتل و غارت کے واقعات پر بات ہوئی ۔سرفرازبگٹی کا سخت موقف سامنے آیا کہ تخریب کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔پھرسردار اختر مینگل رکن قومی اسمبلی نے اپنا استعفیٰ دے دیا کہ ان کی کوئی نہیں سنتا۔ابھی تک ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا۔شکرہے کہ اپوزیشن اور پی ڈی ایم برسراقتدار حکومت ان کےاستعفے پر خوش نہیں اور ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں رانا ثناءاللہ ،عثمان بادینی ،اعجاز جھکرانی اختر مینگل سے ملاقات کریں گے ۔ کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لیں لیں اور بلوچستان کا مسئلہ حل کیا جائے۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بلوچستا ن میں لمحوں میں بدلتے ہوئے وہ تمام مناظر دیکھے ہیں ۔

نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کی صورت حال نہایت سنگین ہو گئی تھی۔ اور لسانی شورش پھر سے پھوٹ پڑی ۔چونکہ بلوچ ،نواب اکبر خان کی شہادت کا ذمہ دار پنجابیوں کو سمجھتے تھے۔ اسلئے بلوچستان میں پنجابیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بلوچ بیلٹ میں عرصہ دراز سے رہنے والے بڑے بڑے ڈا کٹر ز ، اساتذہ ،کاروباری اور بہت سے پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کچھ ہی عرصے میں تقریباً تمام ہی پنجابی رات کے اندھیرے میں اپنے گھر بار چھوڑ کر پنجاب میں یا پختون بیلٹ میں منتقل ہو گئے۔ نوجوانوں کا اغوا عام ہوگیا۔بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے بلوچ بیلٹ میں بڑے بڑے شہروں اورکوئٹہ شہر میں اکثر اوقات کرفیو لگا رہتا تھا۔اور جگہ جگہ ایف سی کی پوسٹیں بنی ہوئیں تھیں۔ خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو چکے تھے۔موت کے خوف سے لوگوں نے پینٹ شرٹ پہننا چھوڑ دیا تھا کیونکہ انکا خیال تھا کہ پنجابی ہی پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ پنجابیوں کابلوچ علاقوں میں جانا گویاموت کو دعوت دینے کے مترادف ہو گیا تھا۔
بلوچ بیلٹ سے گزرنے والے تمام راستے پنجابیوں کے لئے غیر محفوظ ہو گئے تھے ۔ بلوچستان میں کراچی اور پنجاب آنے اور جانے والی بسو ں سے پنجابیوں کو اتار کر گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا تھا۔افغانستان پر امریکہ کے قبضہ کے بعد فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اورمذہبی دہشت گردوں نے شیعہ مسلک ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد ہزارہ کمیونٹی ہجرت پر مجبور ہوگئی۔صحافیوں کو حالات کی کوریج کر نا انتہائی دشوار ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اخبارات کو اشتہارات نہ ہونے کے برابر ملتے۔ جواخبارات بلوچوں کے علاوہ تھے ان کے لئے اخبارات جاری رکھنا مشکل ہو گیا ۔ ہم صحافی لوگ اپنے اخبار کے دفتر چھپ چھپا کرکبھی سائیکل پر اور کبھی پیدل جایا کرتے تھے۔ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ ہمیں اپنا دفتر ایک سے دوسری جگہ تبدیل کرنا پڑا اور ہمارے دفتر پر فائرنگ بھی کی گئی۔ گویا بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لئے کوئی موثر اقدام کار گر ثابت نہ ہوئے۔
کوئٹہ شہر ایک زمانے میں منی لندن اور دبئی کہلاتا تھا۔یہاں زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ صوبائی اور وفاقی حکومت بلوچستان میں امن بحال کرنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی تھیں۔ بلوچستان صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا ہے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے مطابق گذشتہ 10 سالوں میں 40 صحافی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور 4 ستمبر کو مستونگ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے سینئر صحافی سراوان پریس کلب کے آفس سیکرٹری وائس آف مستونگ اور سراوان پریس کلب سوشل میڈیا ایڈمن نثار احمد لہڑی شہید کردیا ۔جن میں چند ماہ قبل کوئٹہ میں ایک خبر رساں ادارے کے دفتر پر حملہ کر کے تین صحافیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔جنرل مشرف نے طاقت کا استعمال کرکے جو غلطی کی، موجودہ حکومت کو انتہا پسندی کے واقعات کی روک تھام کے لئے دیر نہیں کرنی چاہئے۔ قوت کی بجائے مذاکرات کا راستہ نکالنا چاہئے ۔خدا کرے کہ وہ حالات پھر نہ آئیں جو ہم نے دیکھے تھے۔اپنے ہی ملک میں جنگ کی حالت میں تھے۔
فیس بک کمینٹ

