کراچی : کارساز روڈ پر پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے کیس میں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے۔جاں بحق عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا نے حلف نامے تیار کروا لیے، حلف نامے آج ملزمہ کی درخواست ضمانت کی سماعت میں پیش کیے جائیں گے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے باپ بیٹی کے ورثا کی جانب سے ملزمہ کی درخواست ضمانت پر نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرایا جائے گا، این او سی حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف کی اہلیہ کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔عمران عارف کے بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی کی جانب سے بھی این او سی جمع کرائے جائیں گے۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ہمارے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ہم نے ملزمہ کو معاف کر دیا ہے، ہم نے اللہ کے نام پر معاف کیا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔متاثرہ فیملی کے حلف نامے میں کہا گیاہے کہ ملزمہ کو ضمانت دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جو حادثہ ہوا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا، ہم نے بغیر کسی دباؤ کہ یہ سرٹیفکیٹ دیا ہے، ہم نے حلف نامے میں جو کچھ کہا ہے بالکل درست کہا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نتاشہ کے اہل خانہ نے آمنہ کے اہل خانہ کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کے طور پر رقم ادا کردی، رقم کی ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے کی گئی۔
یاد رہے کہ 20 اگست کو کارساز روڈ کر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی جاں بحق ہو گئے تھے، حادثے میں جاں بحق ہونے والی آمنہ عارف گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھی، والد نے اسے پاپڑ فروخت کر کے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔حادثے کے بعد پولیس نے خاتون ملزمہ کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں خاتون ملزمہ کی میڈیکل رپورٹس میں آئس نشے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس واقعے کا مقدمہ پروفیسر امتیاز عالم کی درخواست پر ہی درج کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ 19 اگست کو شام چھ بج کر45 منٹ پر انھیں حادثے کی اطلاع ملی تو وہ ہسپتال پہنچے جہاں علم ہوا کہ ٹکر مارنے والی گاڑی کی ڈرائیور ایک خاتون تھیں۔
اس حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں جن میں دیکھا گیا کہ مشتعل لوگ ایک خاتون کو گھیرے ہوئے ہیں جبکہ بعد میں انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ کراچی پولیس کی ایس ایس پی شعبہ تفتیش علینہ راجپر کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی تفیش میں بظاہر ایسے لگ رہا ہے کہ خاتون تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہی تھیں جس وجہ سے حادثہ ہوا۔‘یاد رہے کہ 31 اگست کو ملزمہ نتاشہ دانش پر ریاست کی مدعیت میں منشیات استعمال کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس پر جمعے کو دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو پیر نو ستمبر کو سنایا جائے گا۔
فیس بک کمینٹ

