پاکستان پیپلزپارٹی کا تاسیسی اجلاس 30نومبراور یکم دسمبر 1967 کو گلبرگ لاہور میں ڈاکٹر مبشرحسن کی کوٹھی کے لان میں منعقد کیا گیا۔جس میں 300 افراد نے شرکت کی۔مجھے یہ زندگی بھر فخر رہا ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ اس تاریخ ساز اجلاس میں شریک ہوا۔پندرہ سال کی عمر سے اب تک پارٹی سے تعلق ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی بصیرت، شجاعت اور کرشماتی شخصیت کے لازوال اثرات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اپنی جدوجہد کے حوالے سے بات کرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ جنرل ضیاکے عہدستم میں شہید باباقائدعوام ،بعدازاں شاہنوازبھٹوشہید ، میر بابا مرتضیٰ بھٹوشہید، شہیدرانی بینظیر کے جاں سے گزرنے کے علاوہ بیسیوں کارکن جۓبھٹو کے نعرے لگاتے ہوۓ پھانسی گھاٹ سے امر ہوۓ ۔ 80 ہزار سے زیادہ کارکنوں نے قیدوبند کی اندوہناک اذیتیں برداشت کیں اور ہزاروں جیالوں کو کوڑے لگاۓ گۓ ۔ مسلسل جبرواستبداد کی آندھیوں سے نبردآزما ان بہادروں کے مقابل میں اپنے آپ کو بہت ہی بے مایہ تصور کرتا ہوں۔
شہید بھٹو کی فقیدالمثال قیادت میں پاکستان نے زندگی کے ہر میدان میں ناقابل فراموش ترقی کی۔مزدوروں کسانوں محنت کشوں طالب علموں نوجوانوں کے حوالے سے ساڑھے پانچ سالہ دور حکومت اپنی مثال آپ تھا۔شکست خوردہ فوج اور پژمردہ قوم کو جناب بھٹو نے شبانہ روز محنت اور خداداد صلاحیت سے نہ صرف ولولہء تازہ دیا بلکہ عالمی افق پر قابل رشک وقار واعتبار دیا یہاں تک کہ ملکی دفاع کو میزائیلوں اور جوہری توانائی سے مضبوط و مستحکم کیا۔
پاکستان کے سابق صدر اوروزیراعظم بھٹوکی ایک ایسی تحریر سے اقتباس کوجو انہوں زندان میں قلمبند کی پیش کررہا ہوں تاکہ بھٹوازم اور پارٹی منشور کی اہمیت اجاگرہوسکے۔
"وزیراعظم کالیہان ایک رات کے لۓ پاکستان آۓ اور سورج طلوع ہونے تک وہ اپنے ساتھ چالیس لاکھ پونڈ کی رقم لے گۓ جو برطانوی انشورنس کمپنیاں اپنی انشورنس کمپنیوں کے قومیاۓ جانے کے عوض طلب کررہی تھیں۔میری حکومت چارسال سے زائد عرصہ تک ان کے بڑھا چڑھا کر پیش کۓ گۓ دعوؤں کی ادائیگی سے انکار کرتی رہی۔لیکن مسٹر کالیہان نے انگلی اٹھاتے ہی دعویٰ منظور کروالیا۔مجھے روپیہ کو خوردبرد اور ضائع کرنے والا کہاجاتاتھا لیکن میں نے خلوت میں کسی سرگوشی سے متاثر ہوکر بڑھاچڑھا کر پیش کۓ گۓ چالیس لاکھ پونڈ کے دعوے کو قبول نہیں کیا۔ہمارے اعدادوشمار کی سلامتی کے ساتھ کیا ہوگیاہے۔کیا بیلنس شیٹ میں برطانیہ پاکستان کا قرضدار ہے یا پاکستان برطانیہ کا مقروض ہے ؟ میں اس بات کو کھولنا نہیں چاہتا یہ تو ہرسکول کی نرسری کا قافیہ ھے۔
وزیراعظم کالیہان نے ری پروسیسنگ پلانٹ پر بھی پاکستان کی ڈانٹ ڈپٹ کی۔ہم نے اس معاملے پر بہت سے متضادبیانات سنے ہیں۔فرانس میں اسی سال مارچ میں انتخابات کے بعد حقیقت سامنے آجاۓ گی۔اب تصورات میں بسنے کے لۓ کچھ باقی نہیں بچا۔
جب میں پاکستان کا صدرتھا تو1973 میں میں نے اور صدر نکسن نے جس مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کۓ تھے اس میں کہاگیا تھا کہ”پاکستان کی سلامتی امریکی پالیسی کااہم ستون ہے” اب جنوری 1978 میں پاکستان پر پرواز کرتے ہوۓ صدر کارٹر نے فضا سے اپنے تہنیتی پیغام میں یہ کہہ کربڑی مہربانی کی کہ امریکہ تمام ملکوں کی سلامتی اور خودمختاری پر یقین رکھتاہے۔یہ شاندار پیغام دفتر خارجہ کے لۓ اس قدر مسرت آگیں تھا کہ خوشی کی گھنٹیاں آغاشاہی کی رہائش گاہ پر سنی گئیں۔اس سے اگلی خوشی انہیں واجپائی کے دورے پر حاصل ہوگی۔نئی دہلی واپسی پر اس نے ہمارے مارشلوں کی پوزیشن کو مضحکہ خیز بنادیا۔میں اسکی آواز میں حقارت کو نہیں بھول سکتاجب اس نے لوک سبھا میں کشمیر کا ذکر چھیڑا۔یہ دورہ یکطرفہ ٹریفک تھا۔مسئلہ ختم ہوچکاہے۔مریض مرچکاہے لیکن ننھے منے بچوں کوبتادیاگیا ہے کہ سانتاکلاز جلد لوٹ آۓ گا۔
سلامتی کی وجوہات کے پیش نظر میں اس مرض کی تشخیص نہیں کرسکتاجس نے تیس برس کی زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد مریض کی جان لے لی۔یقیناً بھارتی کشمیر پر بات کریں گے۔وہ آپ کو یہ بتا نےکے لۓ بات کریں گے کہ کشمیر پر بات نہ کرو، کشمیراور اس کی خوبصورتی پر کرنے کی بہت ساری باتیں ہیں۔کیا آپ نےسری نگر نشاط اور شالیمارباغ کو دیکھاہے؟ کیا پہل گام گلمرگ سے زیادہ خوبصورت ہے۔کیا آپ نے ہوٹل نیڈوز کی ڈھلوان سے شیش ناگ یا نانگاپربت کا نظارہ کیاہے۔ہم سداکشمیر کی باتیں کرسکتے ہیں لیکن اس دوران بھوانی جنکشن کوکھلنا چاہۓ۔فرق یہ ہے کہ جب جنرل دہلی کا دورہ کرے گا تو مسٹر ڈیسائی سےوہ دوا حاصل کرے گالیکن اگر میں نئی دہلی جاؤں تو مسٹر ڈیسائی کو خود دوائی دے کر آؤں گا۔
یہ پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی کی تصویرہے۔میرے دور میں ہم نے اسلامی سربراہ کانفرنس منعقدکی اور اب جو صومالیہ کے صدرایک رات پاکستان میں رکتے ہیں تو ہم مسرت کاسانس لیتے ہیں۔ اپنے دور میں میں نے بھارتیوں کو دوڑایا،اب بھارتی تم کو نچا رہے ہیں۔تم نے بھارتیوں پر اس قدر اعتماد کرلیاہے کہ ہم وہ واحد ہاکی میچ بھی ہار گۓ جسے تم نے دیکھنے کااعزاز بخشا۔۔۔۔تم سیٹھوں اور پٹھوؤں کی نمائندگی کرتے ہو تم سمجھتے ہو کہ پاکستان کو وہ سلامتی بخشیں گے۔۔۔۔میں غلاموں اور نوکروں کا نمائندہ ہوں میری راۓ کے مطابق صرف عوام ہی مملکت کو مناسب سلامتی فراہم کرسکتے ہیں۔ میں مفلوک الحال بے گھر عوام کی نمائندگی کرتاہوں۔۔۔۔تم امیروں کی نمائندگی کرتے ہو۔۔۔۔۔میں قومیانے پر یقین رکھتاہوں تم قومیائی گئی اشیاء کی واپسی پر یقین رکھتے ہو۔میں ٹیکنالوجی پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔۔تمھارا ایمان ریاکاری پرہے۔میرا دستورپریقین ہے ۔۔۔تم سمجھتے ہو کہ دستور کاغذ کا ایک پرزہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ملا کا مقام مسجدہے۔۔۔۔اورتم اسے پاکستان کا مالک بنادینا چاہتے ہو۔۔۔۔۔میں خواتین کی آزادی چاہتاہوں تم انہیں اندھیروں میں چھپاۓ رکھنا چاہتے ہو۔ میں نے سرداری نظام ختم کیاتم سبی میں شاہی دربار منعقد کرکے اسے بحال کرنا چاہتے ہو۔میں مشرق پر یقین رکھتاہوں۔۔۔۔تمھار یقین دولت مشترکہ میں ہے۔۔۔۔۔ہم ایک دوسرے سے قطبین کے بعدپر کھڑے ہیں اور میں اس کے لۓ خدا کا شکربجالاتا ہوں۔ تم تو تعفن زدہ ماضی کی نمائندگی بھی نہیں کرتے۔۔۔ میں مستقبل کی مکمل درخشانیوں کا نمائندہ ہوں۔تم نے تو ہمارے مقدس مذہب کی تبلیغ کوبھی پراگندہ کردیاہے۔یہاں تک کہ فرقہ وارانہ قتل و غارت پورے منتقمانہ قہر کے ساتھ شروع ہوگئی ہے۔جب تم پاکستان کی سلامتی کی بات کرتے ہو تو براہ کرم بتادو کہ تم پاکستان کو غرناطہ بنانا چاہتے ہو یا کربلا”
فیس بک کمینٹ

