کل بلاول بھٹو زرداری ملتان تشریف لائے۔ ملتان کے ایک اہم سیاستدان رانا محمود الحسن نے ان سے ملاقات کی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پہلی دفعہ پنجاب میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو لاہور سے خود انتخاب لڑ رہے ہیں اور پنجاب میں ان کے جلسوں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو بھی بڑھ چڑھ کر بلاول کا ساتھ دے رہی ہیں اور ان کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ اے آر وائی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بلاول نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے فوج یا عدلیہ کو نہیں بلکہ سیاستدانوں کو پہل کرنا ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ شہید بینظیر بھٹو اور والد آصف علی زرداری کی مفاہمت اور برداشت کی سیاست کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے نوز شریف پر تنقید کی کہ لگتا ہے انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور اور وہ عوامی حمایت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر چوتھی بار وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی ماں کی طرح ایک ذہین اور زیرک سیاستدان ہیں۔ ان کا مؤقف بہت واضح ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک جگہ کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست سوشلزم سے شروع کی تھی۔ میرے خیال میں پاکستان کی انتخابی سیاست میں اس وقت سوشلزم کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ یہاں سرمایہ دار مافیا کی سیاست ہے جس میں فوجی اشرافیہ، سیاستدان، سول بیوروکریسی اور عدلیہ حصہ دار یا اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ محنت کش عوام تو دور کی بات ہے متوسط پڑھا لکھا طبقہ بھی پاکستان میں سیاسی عقل و شعور سے عاری ہے۔ اس کا اندازہ عمران خان جیسے نالائق شخص کی پڑھی لکھی مڈل کلاس میں مقبولیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ پچھلے 16 سال کی انتخابی سیاست غریب عوام کے معاشی حالات بدلنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا بلاول کی جمہوریت پسندی مستقبل میں عوام کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ بلاول کی سیاست لبرل ڈیموکریٹک سیاست ہے۔ یہ سرمایہ داری کے بدنما چہرے پر ایک خوبصورت ماسک کی مانند ہے۔ نام نہاد ترقی یافتہ ملکوں میں تو یہ طرز سیاست ابھی چل سکتا ہے لیکن کیا پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کے باشندے اسے مزید برداشت کر سکتے ہیں؟
یہ جمہوریت پسند ایک طرف غریب عوام کے مسائل حل کرنے کے دعویدار ہوتے ہیں اور دوسری جانب اقتدار حاصل کرنے کے لیے سرمایہ دار مافیا کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔ سرمایہ دار مافیا کے لیے جمہوریت یا آمریت کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اسے تو بس محنت کش عوام کا خون پینے اور اپنی تجوریاں بھرنے سے غرض ہوتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں ایک کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا“ لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ سرمایہ داروں اور محنت کش طبقے میں مفاہمت ناممکن ہے، یہ ایک طبقاتی جنگ ہے جس کا نتیجہ کسی ایک طبقے کی فتح یا شکست کی صورت میں نکلے گا۔ کیا پاکستان میں محنت کش طبقے کو ہمیشہ کے لیے شکست ہو چکی ہے۔ اس کا جواب ہمیں پاکستان میں جاری غیرانتخابی سیاست کے تجزیے سے ملے گا جسے ریاست اپنے کٹھ پتلی میڈیا کے ذریعے مقبول ہونے سے روک رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑی سیاسی ہلچل کسی انتخابی سیاستدان نے نہیں بلکہ بلوچ محنت کشوں کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مچائی ہوئی ہے۔کہنے کو وہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے چند سو خواتین کا دھرنا ہے لیکن اس کی حمایت میں بلوچستان بھر میں لاکھوں افراد روزانہ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کر رہے ہیں۔ کل ہی پیپلز پارٹی کے سابقہ گڑھ لیاری میں ہزاروں بلوچ محنت کشوں نے ایک طویل احتجاجی جلوس نکالا اور پولیس کے روکنے پر دھرنا بھی دیا۔ غیرانتخابی سیاست سے عوام کی اکثریت نالاں ہے اور ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ دار مافیا کی جمہوریت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ ایک سمجھدار محنت کش رہنما کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وہ دن بدن اپنی پر مغز تقاریر کے ذریعے بلوچ عوام میں بالخصوص اور دوسرے پاکستانی محنت کشوں میں بالعموم سیاسی شعور کو بیدار کر رہی ہیں۔ پاکستان کی تمام ترقی پسند اور روشن خیال غیرانتخابی سیاسی تنظیمیں جوش و خروش کے ساتھ بلوچ تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہیں۔پشتون رہنما منظور پشتین اور علی وزیر بھی عوام میں روزبروز مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان سب کا مشترکہ نعرہ پاکستان کی اشرافیہ کے خلاف سیاسی مزاحمت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ محنت کشوں کی طبقاتی سیاست پاکستان میں نام کی جمہوری اور انتخابی سرمایہ دارانہ سیاست کا خاتمہ کر دے گی۔ اس وقت ملک میں بہت افراتفری مچی ہوئی ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کی مفاہمت اور برداشت کی سیاست کتنے دن چلے گی، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

