تجزیےعلی نقویلکھاری

علی نقوی کا تجزیہ :سٹار کڈز پر مشتمل بالی وڈ مافیا

خاندانوں کی اجارہ داری کتنی جانیں لے گی ؟

سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشُ موت نے جہاں بالی وڈ پر سوگواریت طاری کی وہیں کچھ سنجیدہ سوال بھی چھوڑ دئیے، بھونچال تب پیدا ہوا کہ جب کنگنا رناوت نے سٹار کڈز کے حوالے سے بات کی، کنگنا بہت عرصے سے بالی وڈ میں موجود مافیاز کے متعلق کھل کر بات کر رہی ہیں اس کا آغاز تب ہوا کہ جب انہوں نے معروف ٹی وی شو “آپ کی عدالت” میں رجت شرما کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اور بالی وڈ سٹار ہریتھک روشن کے تعلق سے متعلق کھل کر بات کی اور نہ صرف ہریتھک بلکہ کرن جوہر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکو مافیا تک کہہ دیا، اس سے پہلے عمران ہاشمی اور ویوک اوبرائے نے بھی ایک بار اپنا مدعا اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ سٹار کڈز کو چانس دینے کے لیے انکی کئی فلمز انکے ہاتھ سے جا چکی ہیں…
بالی وڈ اپنے آغاز سے سٹار کڈز کی آماج گاہ رہا ہے کپور خاندان انُ خاندانوں میں سب سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے اس خاندان کی حکمرانی کی ایک دنیا گواہ ہے، اس خاندان میں پیدا ہونے والا بچہ بھی لائم لائٹ میں رہتا ہے چاہے وہ بالی وڈ جوائن کرے یا نہ کرے کپورز کو فلمیں ملتی ہی ملتی ہیں، چلے نہ چلے، بکے نہ بکے، کپورز فلمز میں رہتے ہیں اسی طرح اب کئی خاندان ہیں کہ جن کے بچوں کا نصیب کپورز جیسا ہے آئیے ذرا اس سب کو تفصیل سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں…
کپور خاندان کا تذ کرہ میں اوپر کر چکا میرا بہت دل کرتا ہے کہ کبھی میں اس سب سے بڑے فلمی خاندان کا تفصیلی پروفائل لکھوں.. اس وقت صرف اتنا کہ پرتھوی راج کپور سے شروع ہونے والا فلمی اداکاری کا یہ سلسلہ 1929 میں شروع ہوا اور آج اکانوے سال گزر چکے لیکن ایک بھی لمحہ بالی وڈ پر ایسا نہیں آیا کہ اس خاندان کا کوئی سوپر سٹار انڈسٹری پر راج نہ کر رہا ہو آج بھی اگر آپ دیکھیے تو رنبیر کپور اپنے تمام ہم عصروں میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے، اسی طرح بچن فیملی، ٹیگور فیملی، سپی فیملی، ملہوترا فیملی اور پٹودی فیلمیز کو ہم بالی وڈ کی اہم فیلمیز کے طور پر جانتے ہیں، لیکن اب صورتحال مزید گمبھیر ہوتی جا رہی ہے اب حالت یہ ہے کہ جو جو بھی سٹار بنا اس نے اپنی اولاد کو انڈسٹری میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کیا وہ جیکی شروف ہو، سنیل سیٹھی ہو گوندا ہو، شاہ رخ ہوں سیف ہو یہاں تک کہ کہ شکتی کپور ہو ہر ایک کے بچے انڈسٹری میں یا تو قدم رکھ چکے ہیں یا تیاری کر رہے ہیں…
bolly wood stars
اب اس پر لوگ کہیں گے کہ اس میں کیا حرج ہے تو اس میں واقعی کوئی حرج نہیں ہے لیکن بات یہ ہے کہ ایک ایسا لڑکا یا لڑکی کہ جس میں ایکٹنگ ٹیلنٹ ہو اسکے لیے بالی وڈ تک پہنچنا ایک خواب ہے، لیکن ایک سٹار کڈ کے لیے ٹیلنٹ ثانوی چیز ہے، چانس اس کے لیے اس لیے مسئلہ نہیں ہوتا.. اگر ہم ایک نظر ڈالیں تو یہ سٹار کڈز کی بالی وڈ میں جوق در جوق آمد اسی کی دہائی میں شروع ہوئی اور نوے کی دہائی میں تیز ہو گئی، اگر آپ انُ زمانوں کے ابھرتے ہوئے سٹارز پر نظر ڈالیں تو اس میں اکثریت سٹار کڈز کی نظر آتی ہے چاہے وہ انیل کپور ہو، سنجے دت ہو، سنی دیول ہو، سلمان خان ہو، اجے دیوگن ہو، عامر خان ہو، پوجا بھٹ ہو، کرشمہ کپور ہو، کاجول ہو، ٹوئنکل کھنہ، بوبی دیول ہو یا رانی مکرجی ہو یہ تمام لوگ 1980 سے لیکر 1995 کے دوران انڈسٹری میں آئے اس کے بعد تو جیسے لائن ہی لگ گئی، اوسط درجہ کے فلم رائیڑ سلیم خان کا بیٹا سلمان خان ہیرو بنا تو کچھ ہی عرصے میں ارباز اور اسکے بعد سہیل خان بھی فلموں میں آنا شروع ہوگئے لیکن تینوں بھائیوں کو آج تک ایکٹنگ کی الف بے نہ آ سکی، عامر خان کے والد فلم پروڈیوسر تھے عامر خان بھی اپنے بھائی کو لائے تھے لیکن وہ نہ چل سکے تو کچھ توقف کے بعد انہوں نے بھانجا عمران خان متعارف کرایا جو شاید اب زوال پذ یر ہے، سن 2000 میں کرینہ کپور، ریتھک روشن اور ابھیشیک بچن جیسے تین بڑے سٹار کڈز لانچ کیے گئے، کرینہ اور ابھیشیک تو ایک دوسرے کے مقابل فلم رفیوجی میں آئے لیکن فلم نہ چل سکی، ریتھک روشن اپنے والد کی پروڈکشن “کہو نہ پیار ہے” میں لانچ کیے گئے اور خوب نوٹس ہوئے لیکن وہ آج تک ڈانسر سے بڑھ کر ایکٹر نہ بن سکے، فرحان اختر جو کہ جاوید اختر کے سگے اور شبانہ اعظمی کے سوتیلے بیٹے ہیں 1991 میں انیل کپور اور مادھوری کے مشہور فلم لمحے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر متعارف ہوئے اور 2001 میں اپنی فلم
“دل چاہتا ہے” ڈائریکٹ کی جاوید اختر ایک مشہور فلمی شاعر اور سکرپٹ رائٹر ہیں شبانہ اعظمی لیجنڈری کیفی اعظمی کی بیٹی ہیں اور خود سٹار کڈ ہیں، کچھ ہی عرصے میں فرحان کی بہن زویا اختر بھی انڈسٹری کا حصہ بن گئیں، شاہد کپور کا تعلق مشہور کپور خاندان سے تو نہیں لیکن انکے والد پنکج کپور ٹی وی اور تھیٹر کے اداکار تھے اور انہوں نے سلیم خان اور سبھاش گھئی کو اسسٹ کیا تھا، نوے کی دہائی کے آخر تک ایک اور ٹرینڈ بھی بالی وڈ میں آ چکا تھا کہ جو بھی لڑکی مس ورلڈ یا مس یونیورس بنتی وہ انڈسٹری میں جگہ پا لیتی ایکٹنگ آتی ہو یا نہیں اسے جگہ مل جاتی یہ سلسلہ شروع میں مس انڈیا تک محدود تھا جس میں جوہی چاولہ، دیا مرزا اور پریا گل کو چانس ملے سوائے جوہی چاولہ کے کسی کی ایکٹنگ نوٹس نہ ہوئی، ایشوریا رائے مس ورلڈ بنی اور ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اسکے بعد پرینکا چوپڑا اور ایکتا موکھے بھی مس ورلڈ بنی سُشمیتا اور لارا دتا مس یونیورس کا ٹائٹل جیتیں اور انڈسٹری میں آئیں سوائے ایکتا موکھے کے سب نے خاصا کام کیا، ماضی کی ایکٹریس ہیما مالنی کی بیٹی ایشا دیول بھی انڈسٹری میں آئیں لیکن کامیاب نہ ہو سکیں..اسی طرح جتندر کا بیٹا توشار کپور بھی انڈسٹری میں آیا نہ شکل نہ ایکٹنگ لیکن چانس پہ چانس ملتا رہا کیونکہ ایکتا کپور کا وہ بھائی تھا، 2007 میں ایک جوڑی کو پورے اہتمام کے ساتھ لانچ کیا گیا اور فلم کو ہٹ کرانے والے تمام لوازمات پورے کیے گئے، سنجے لیلا بھنسالی ڈائریکٹر، اے آر رحمان کا میوزک، سائیڈ رولز بھی سلمان خان اور رانی مکھرجی سے کرائے گئے یہ جوڑی تھی انیل کپور کی بیٹی سونم کپور اور رشی کپور کے بیٹے رنبیر کپور کی، فلم تو ہٹ نہ ہوئی لیکن یہ دونوں نہ جانے کیوں سٹار بن گئے، دبنگ میں شترو گن سنہا کی بیٹی سوناکشی سنہا کی سلمان خان کے ساتھ دبنگ انٹری کرائی گئی جسکی کامیابی یقینی تھی، انہی دنوں میں پرینیتی چوپڑہ جو پرینکا چوپڑہ کی کزن ہیں نے بھی انڈسٹری میں قدم رکھا اور انکے مقابل بونی کپور کے سگے اور سری دیوی کے سوتیلے بیٹے ارجن کپور کو کاسٹ کیا گیا، سری دیوی کی بیٹی جانوی کپور بھی انڈسٹری میں قدم رکھ چکی ہیں دو فلمز کیں اور دونوں نہ چل سکیں، مہیش بھٹ کی چھوٹی بیٹی عالیہ بھٹ اور ورن دھون جو کہ ڈیوڈ دھون کے بیٹے ہیں انڈسٹری میں ایک ساتھ لائے گئے اور کامیاب ہوئے اور کیسے نہ ہوں کہ دونوں کی پہلی فلم کرن جوہر نے ڈائریکٹ کی، ٹائیگر شروف جو کہ جیکی شروف کے بیٹے ہیں انڈسٹری میں آئے اور بغیر کسی دشواری کے اپنا کیرئیر آگے بڑھا رہے ہیں…
یہ ایک مختصر سی تاریخ ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انڈسٹری میں اس وقت کام کرنے والے بیشتر لوگ سٹارز کی اولادیں ہیں جن کو کامیاب کرانے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے اور جن کا کیرئیر تمام کوششوں کے باوجود ایکٹنگ میں نہیں بن ہاتا انہوں نے ڈائریکشن اور پروڈکشن شروع کردی مثال کے طور پر عجب اتفاق ہے کہ سلمان خان کے بھائی ارباز جو آج تک ایک بھی یادگار کردار نہیں نبھا سکے وہ اس لیے ایک کامیاب ڈائریکٹر اس لیے ہیں کہ انکی ہر فلم کا ہیرو سلمان خان ہوتا ہے، اسی طرح شاہ رخ خان کی بیوی گوری انکی فلمیں پروڈیوس کرتی ہیں اور فلم کا ہیرو شاہ رخ خان ہوتا ہے، اسی طرح عامر کے بیوی کرن راؤ عامر خان کی فلمیں ڈائریکٹ کرتی ہیں، اکشے کمار کی بیوی ٹوئنکل کھنہ ماضی کی ایکڑیس رہی ہیں لیکن اب وہ اکشے کی فلمیں ڈائریکٹ کرتی ہیں، یعنی کُل ملا کر بات یہ ہے کہ یا تو ہر کامیاب سٹار کا اپنا پروڈکشن ہاوس ہے یا وہ اپنے ہی دوستوں کی بنائی ہوئی فلموں میں پارٹنر شپ میں کام کرتا ہے، اس سب میں مشکل ان انتہائی ٹیلنٹڈ اداکاروں کے لیے ہے کہ جن کو ایکٹنگ تو آ تی ہے لیکن انکو چانس ملنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، نواز الدین صدیقی جیسے انتہائی ٹیلنٹڈ اداکار کو ایک مدت پزیرائی نہ ملی جب تک وہ سلمان خان کے ساتھ فلم میں نہیں آئے کسی حد تک یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دیپیکا اور انوشکا شرما اگر اپنی پہلی فلمیں شاہ رخ خان کے ساتھ نہ کرتیں تو وہ شاید اس طرح نوٹس نہ ہو پاتیں جس طرح کی کامیابیاں انکو ملیں، اگر کترینہ کیف سلمان خان کی گرل فرینڈ کے طور پر متعارف نہ ہوتیں تو کیا وہ یہ کامیابی سمیٹ پاتیں جو انکو ملی کیونکہ ایکٹنگ تو انکو اگلے سات جنموں تک نہیں آ سکتی…ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ انڈین مین سٹر یم میڈیا کی فلمیں اپنا معیار کھوتی جا رہی ہیں اور اب لوگ Parallel Cinema کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں خصوصاً Netflix پر جو انڈین سیزنز آ رہے ہیں وہ بہت پزیرائی حاصل کر رہے ہیں….
اسی طرح کی صورتحال سے پاکستان بھی دوچار ہے پاکستان میں گزشتہ دس سالوں کی سب سے بڑی کمرشل ہٹ کوک سٹوڈیو ہے جب تک روحیل حیات جیسا ایک جینوئن میوزیشن اس کے سُر خیل تھے تو شاندار میوزک بن رہا تھا لیکن جیسے ہی روحیل نے اسکو چھوڑا تو نہ جانے کون کون گلوکار بن گیا، کوئی علی ظفر کا بھائی ہے تو کہیں نجم سیٹھی کا بیٹا نظر آتا ہے، کوئی دانیال ظفر کی گرل فرینڈ ہے تو کوئی ساحر علی بگے کی، عائشہ عمر اور مہوش حیات تک نے تو کوک سٹوڈیو جیسے سیریس پلیٹ فارم پر اپنے ہاتھ صرف اپنے تعلقات کو استعمال کر کے صاف کیے، اسی طرح اگر آپ تاریخ میں بھی جھانکیے تو میڈم نور جہاں اور مہدی حسن خان صاحب جیسے عظیم فنکاروں کے بچے بھی فیلڈ میں لائے گئے لیکن نہ چل سکے، نصرت فتح علی خان کے جانشین نے انڈیا میں مشین میڈ گانے تو بہت گائے لیکن اپنی ایک قوالی نہ سنا سکا، یہی حال صابری خاندان کا ہوا امجد صابری مظلوم شہید ہوئے لیکن اگر فن کی بات کریں تو مرحوم کی بھی اپنی ایک قوالی نہیں سنی ساری زندگی چچا کی آواز میں بھر دو جھولی اور والد کی آواز میں تاجدارِ حرم گا کر سناتے رہے تو بھائی عرض یہ ہے کہ یہ کام تو ببو برال مرحوم بھی کر لیا کرتے تھے آپ اپنی قوالی کیوں نہیں سناتے، اگر گانے میں کسی نے اپنے وراثت کو آگے بڑھایا وہ عارف لوہار ہیں یا اس کے بعد عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی اولاد ہے باقی آپکو صرف مایوسی ہی ہوتی ہے چاہے آپ پٹیالہ گھرانے کو ہی دیکھ لیں کہ امانت علی خان کے بیٹے شفقت امانت کا حال یہ ہے کہ آج تک ایک سیریس راگ داری ان سے نہ سنی راگ چھوڑیے قومی ترانہ نہیں گایا جاتا، حامد علی خان کے بیٹوں نے آج تک کچھ گا کر نہیں سنایا، کیا عابدہ پروین ہوں کیا کوئی اور ایک شاگرد نہیں ہے جو انکا کام آگے بڑھاتا، یہی حال بالی وڈ کا ہے آج بھی آپ یہ دیکھیں کہ بالی وڈ میں اگر کسی سٹار کڈ نے پرفارم بھی کیا تو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسکو چانس کتنے ملے سنجے دت کے کیرئیر میں اگر ہٹ فلمز ہیں تو یہ بھی دیکھیے کہ فلاپ کتنی ہیں ریتھک روشن نے اسی پچاسی فیصد فلمیں وہ کیں کہ جو انکے والد کے پروڈیوس کیں، ابھیشیک بچن کو فلمیں دلوانے کے لیے کئی فلموں میں امیتابھ بچن نے خود کام کیا لیکن ابھیشیک تاحال چل کر نہ دئیے، سوال یہ بھی ہے کہ کوئی امیتابھ کا بیٹا ہو کہ جس نے بچپن سے اپنے گھر میں بہترین میوزک ڈائریکٹر، بہت فلم ڈائریکٹر، بہترین ایکٹرز کی بہتات دیکھی ہو، ہر سہولت کہ جس کا عام آدمی تصور تک نہیں کر سکتا آپ کے لیے معمولی باتیں ہوں، امریکہ یورپ کی بہترین یونیورسٹیوں کے آپ پڑھے ہوئے ہوں، پانی آپ فرانس کا پیتے ہوں اور کافی لندن کی، شاپنگ آپ برازیل سے کرتے ہوں اور رہنے کو آپ کا اپنا جزیرہ ہو، تب جا کر آپ کہیں دیکھنے کے قابل بنیں تو واقعی آپ کا کوئی حق نہیں کہ آپ بالی وڈ جیسی انڈسٹری پر راج کریں صرف اس لیے کہ آپکے ابا یا اماں کسی ڈائریکٹر، سیٹھ یا انڈر ورلڈ مافیا کے کسی ڈان کی مہربانی سے ہٹ ہوگئے تھے…
بالی وڈ میں پر اسرار اموات کوئی نئی باتیں نہیں ہیں، سنا ہے کہ پروین بوبی نے امیتابھ کی بےوفائی کی وجہ سے خود کشی کی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ امیتابھ کی حاملہ تھی، لیکن اب ان اموات کا سلسلہ کچھ تیز ہے لیجنڈری اوم پوری انڈین ملٹری کے خلاف میڈیا پر بات کرتے ہیں اور کچھ عرصے میں انکی پر اسرار موت ہو جاتی ہے، سورج پنچولی ایک نئے معمے کا نام ہے جیا خان ایک اپ کمنگ ایکٹریس تھی کہ جس کو امیتابھ کے ساتھ ایک فلم “نیشبدھ” اور عامر خان کی فلم “گجنی” کے ایک سائیڈ رول سے خاصی شہرت حاصل ہوئی یہ لڑکی پاکستانی سابقہ ایکٹریس سنگیتا کی بھانجی تھی اس لڑکی سے سورج پنچولی جو ادتیہ پنچولی کا بیٹا ہے کا افئیر تھا ادتیہ پنچولی سلمان خان کا دوست اور فلم پروڈیوسر ہے جیا خان نے بھی کچھ عرصے پہلے خودکشی کی تھی اور مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ بھی حاملہ تھی، اس خود کشی کا تعلق بھی سورج پنچولی سے جوڑا گیا تھا، سورج پنچولی کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن وہ رہا ہو گیا، سوشانت کے ساتھ بھی سورج پنچولی کی لڑائی کی خبریں آئی تھیں اور کچھ عرصے میں سوشانت نے بھی خود کُشی کر لی، ملتے جلتے واقعات کا تذکرہ کریں تو ویوک اوبرائے کی سلمان خان سے لڑائی ہوتی ہے اور اسکا کیرئیر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے، نیل نیتن مکیش کہ جو مشہور گلوکار مکیش کا پوتا ہے ایوارڈ شو میں شاہ رخ اور سیف کو انکی ایک بیہودہ گفتگو پر شٹ اپ کہتا ہے اور اسکے بعد اسکو کوئی فلم نہیں ملتی یہ سب گذشتہ برسوں کی باتیں ہیں…
اس سب نے نئے آنے نان فلمی گھرانوں کے ایکٹرز میں جہاں خوف پیدا کیا ہے وہیں غصے کو بھی ابھارا ہے ایک واضح تعصب بالی وڈ میں نظر آتا ہے جس میں مذہبی تعصب بھی نمایاں ہے کہ ایک دن عرفان خان جیسا شاندار ایکٹر فوت ہوتا ہے تو انڈسٹری کا کوئی نامور شخص اسکی آخری رسومات میں نہیں آتا جبکہ اگلے ہی دن رشی کپور فوت ہوتا ہے تو آدھی سے زیادہ انڈسٹری وہاں پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد سوشانت کی موت پر کوئی ٹوئٹ تک نہیں کرتا…
اگر کھل کر بات کریں تو بات یہ ہے کہ جس شہرت کے اس وقت سلمان، شاہ رخ، کاجول، کرن جوہر، اجے دیوگن، اور اسی طرح کے باقی لوگ حامل ہیں وہ اس کے بلکل حقدار نہیں ہیں آج تیس سال گزر جانے کے باوجود سلمان خان کو ایکٹنگ نہ آ سکی شاہ رخ خان ایک مخصوص سٹائل کے علاوہ کوئی جاندار کام نہ کر سکا لیکن پتہ نہیں انکو کیا کیا بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جب میں بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں فلم پڑھ رہا تھا تو نصیر الدین شاہ صاحب سے میاں سلی کی حویلی بارُود خانہ پر ایک ملاقات ہوئی تھی انہوں نے یہ بتایا تھا کہ کس طرح امیتابھ بچن نے انڈسٹری پر قبضہ کیا اور کس طرح اُن جیسے اداکاروں کو فلموں سے کٹ کرایا گیا، اور کس طرح امیتابھ کی امیج بلڈنگ کی گئی، انکو سامنے رکھ کر فلمیں لکھی گئیں انکی آواز سے ملتے جلتے (سدیش) جیسے گلوکار ڈھونڈے گئے، بلکل اسُی طرز پر شاہ رخ اور سلمان کی امیج بلڈنگ کی گئی مخصوص ڈائریکٹرز، مخصوص کہانی کار، بہترین میوزک ڈائریکٹرز اور گلوکار، ہیلی کاپٹرز پر انٹری، سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور یورپ کی بہترین لوکیشنز اس تعداد میں کسی کو نصیب نہیں ہوئیں جتنی ان لوگوں کو مہیا کرائی گئیں، ہر ایوارڈ شو کی ہوسٹنگ، بیسٹ ایکٹر ایوارڈز، سو سو لڑکیوں اور چار چار ہیروئینوں کے جُھرمٹ میں اپنے ہی گانوں پہ پرفارمنسز نے ان انتہائی عامیانہ اداکاروں کی جو امیج بلڈنگ کی اسُ نے ان لوگوں کو فلم انڈسٹری میں مافیا بنا دیا ہے، “کون بنے گا کروڑ پتی” ہو “دس کا دم” ہو یا “بگ باس” یا IPL ہر کام یہی دو چار لوگ جب کریں گے تو یہی نظر بھی آئیں گے اور من مانی بھی کریں گے سلمان خان کے انڈر ورلڈ سے تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، شاید ایشوریا کا حال بھی جیا خان جیسا ہوتا اگر وہ امیتابھ بچن کی بہو نہ بن جاتی کیونکہ ایشوریا کی سٹیٹمنٹس ریکارڈ پر ہیں کہ سلمان اور دادو ابراہیم نے اس کو اور اسکے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں تھیں…
آخر میں صرف یہ کہ بالی وڈ کے کرتے دھرتوں کو اگر انڈسٹری کو قائم رکھنا ہے تو میرٹ کو بحال کرنا ہوگا کسی کو خدا بنانے اور کسی کو مارجنالائز کرنے سے کوئی انڈسٹری کوئی ادارہ نہیں چل سکتا… جس طرح انڈین کرکٹ ٹیم کے پلئیرز نے نئے آنے والوں کے لیے جگہ بنائی جس طرح سنیل گواسکر نے کپل دیو کو جس طرح کپل دیو نے اظہر الدین کو جس طرح اظہر الدین نے سچن ٹنڈولکر کو جس طرح سچن ٹنڈولکر نے دھونی کو اور جس طرح دھونی کے کوہلی کو مواقع دئیے تو دنیا نے دیکھا کہ انڈین ٹیم نے کس طرح کامیابیاں سمیٹیں اسی طرح بالی وڈ کے سٹارز کو بھی فریش ٹیلنٹ کو موقع دینا چاہیے تاکہ انڈسٹری پھلے پھولے اور آگے بڑھے…..

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker