اختصارئےبلوچستانعابد میرلکھاری

” غدار اختر مینگل “ ۔۔ عابد میر

عمران خان کی حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہی، پاکستانی میڈیا، پی ٹی آئی کے جیالے ورکرز اور ’’محبِ وطن‘‘ عوام کو اچانک پتہ چلا کہ اختر مینگل تو ایک ظالم سردار ہے، جو دراصل ملک دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے اور ایک بکاؤ مال ہے۔
ملکی مین اسٹریم میڈیا کے ایک نمایاں لکھاری کی وال پہ ہونے والی بحث میں ایک صاحب نواب بگٹی کا حوالہ لے آئے کہ وہ کتنا جابر سردار تھا۔ پنجاب کے عوام کی عمومی ذہنی سطح کچھ ایسی نہیں کہ ان سے مکالمہ ہو سکے۔ اس لیے درگزر سے کام لیا۔ کہنا وگرنہ یہ تھا کہ بگٹی جب تک ایک ظالم سردار تھا، اس کی پشت پناہی کرنے والا کون تھا؟ بگٹی، جب تک ڈیرہ بگٹی تک محدود ایک ظالم شخص تھا، تب تک وہ اچھا سردار تھا، جس دن وہ اپنا طبقاتی کردار چھوڑ کر، پاکستانی سیاست کی پِچ چھوڑ کر، عوام کے ساتھ آ کھڑا ہوا، اور اپنے بدترین مخالفین کے لیے بھی ہیرو قرار پایا، پنجاب اور بقیہ پاکستان میں وہ غدار قرار پا گیا۔
بعینہٰ یہی معاملہ آج اختر جان کو درپیش ہے۔ اختر مینگل آج سے بیس، بائیس سال پہلے نواز شریف کا ساتھی تھا، اچھا تھا۔ وہ وزیراعظم پاکستان کی گاڑی ڈرائیو کر کے اسے چاغی تک لے گیا، اور بلوچستان کے سینے میں ایٹم بم داغنے کے تاریخی ’’کارنامے‘‘ میں ساتھ رہا، تب بھی اچھا تھا۔ بگٹی کے قتل پر اس نے اسمبلیاں چھوڑیں تو زندان کا حقدار قرار پایا۔ ایک دہائی بعد وہ پھر انھی اسمبلیوں کی طرف آیا تو اسے سرآنکھوں پہ بٹھایا گیا۔ اسے بلوچستان کی آواز قرار دیا گیا۔ وہ دو برس تک پاکستانی کی مشہورِ زمانہ اسٹیبلشمنٹ نواز پی ٹی آئی حکومت کا ساتھی رہا تو اچھا تھا، لیکن جس دن اُس نے اِس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا اور عوامی سیاسی اتحاد کے ساتھ بیٹھا، غدار قرار پا گیا۔
جب تک ہمارا سیاسی رہنما اسلام آباد کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو، اُسے سو خون معاف ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں اُس کی ہر قسم کی بدمعاشی پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ جوں ہی وہ اسلام آباد سے مایوس ہو کر عوامی پِچ پر آتا ہے، اچانک اس کی عوام دشمنی کے قصے زدِعام ہونے لگتے ہیں۔ وہ ایک دم ملک دشمن قرار پا جاتا ہے۔
یہ وہ بنیادی تضاد ہے جو ملکی اسٹیبلشمنٹ اور بلوچستان کی حقیقی عوامی سیاست کے مابین پایا جاتا ہے۔ آج بھی بلوچستان کے سرداروں کی اکثریت (بلکہ اختر مینگل کے سوا لگ بھگ سبھی سردار) اسٹیبلشمنٹ کے بغل بچے ہیں، آپ کبھی ان کی بدمعاشیوں پر کوئی بات نہیں سنیں گے۔ اس وقت پورے بلوچستان میں صرف ایک ہی برا سردار ہے، اور وہ اختر مینگل ہے۔ کیوں کہ اس وقت وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی ٹیم کا حصہ نہیں۔ کل یہ اختر مینگل اسی ٹیم کا حصہ بن جائے، یہی ملکی میڈیا ہمیں اس کی اچھائیاں چن چن کر بتائے گا۔
سو، اس تناظر پہ اختر جان سمیت بلوچستان کی ہر سیاسی قوت کو خود بھی غور کرنا ہو گا کہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں بلوچ حقوق کا حصول تو خیر ایک طرف رہا، اگر اس میں باعزت طریقے سے صرف سروائیو بھی کرنا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن کر رہنا ہے یا عوامی سیاسی محاذ کے ساتھ جڑے رہنا ہے۔
اپنی سیاسی عزت و ذلت کا فیصلہ سیاسی قیادت کے اپنے ہاتھ میں ہے!

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker