Browsing: بلوچستان

خضدار شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔بلوچستان میں 2000 کے بعد سے خضدار میں بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر سنگین بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔یاد رہے کہ نو جنوری کو ضلع خضدار کے علاقے زہری میں 70 سے زائد مسلح افراد آئے تھے اور انھوں نے وہاں لیویز تھانے اور نادرا کے دفتر کو نذر آتش کیا تھا۔ ماضی میں خضدار میں ہونے والے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر زیادہ تر واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

دالبندین میں پی ٹی سی ایل کے لینڈ لائنز پر بھی رابطہ نہیں ہورہا ہے جن میں سرکاری دفاتر کے نمبر بھی شامل ہیں۔دالبندین میں جب ڈپٹی کمشنر چاغی کے گھر اور دفتر کے لینڈ لائن نمبر کے علاوہ لیویز فورس کے کنٹرول روم کے لینڈلائن نمبر پر کال کی گئی تو ان سے رابطہ نہیں ہوپایا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے طلباء کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ریاست شہریوں کے کتابیں پڑھنے اور علم بانٹنے کے عمل سے بھی خائف ہے۔‘