لاہور : پاکستان میں سیاسی غیر یقینی کے دوران جہاں سب کی نظریں اتوار کے قومی اسمبلی کے اجلاس پر ہیں، وہیں انتہائی دلچسپ اور اہم کشمکش پنجاب میں طول پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
گذشتہ چند روز کی طرح سنیچر کو بھی پنجاب کی سیاست میں خاصی ہل چل رہی۔ جمعے کی رات جب پنجاب اسمبلی کا شیڈول جاری کیا گیا تو اس کے ایجنڈے میں سنیچر کو نئے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کروائی جانی تھی۔تاہم علی الصبح ہی سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے اعلان کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج محض شیڈول جاری کیا جائے گا اور ووٹنگ نہیں ہو گی۔
وفاق کی طرح پچھلے کچھ دنوں سے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے حوالے سے بھی یہی سوالات پوچھے جا رہے تھے کہ ’نمبر گیم‘ میں کون آگے ہے کیونکہ دونوں جانب سے ہی ’واضح سبقت‘ کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔تاہم جہاں وفاق میں اس وقت اپوزیشن اتحاد کو واضح برتری حاصل ہے، پنجاب میں اب بھی کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اس کی ایک وجہ پنجاب میں کئی گروپس کا ابھرنا ہے جنھوں نے باضابطہ طور پر کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا تھا۔
اس بنیاد پر آغاز میں چوہدری پرویز الہی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ الیکشن میں ’نمبر گیم‘ پوری کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوں گے یا پھر وفاق کی طرح انھیں بھی اپنے حق میں ووٹوں کے نمبر پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا؟
اس وقت اگر پنجاب اسمبلی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان تحریک انصاف کے پاس 183، مسلم لیگ ن کے پاس 165، ق لیگ کے پاس 10، پیپلز پارٹی کے پاس 7، پاکستان راہ حق پارٹی کے پاس ایکسیٹ اور 5 اراکیں آزاد حیثیت میں موجود ہیں جبکہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے کے لیے 186 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیال رہے کہ آزاد رکن صوبائی اسمبلی جگنو محسن نے رواں ہفتے ہی ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔
پرویز الٰہی کی فتح کے امکانات میں کمی کی ایک وجہ گذشتہ روز لندن میں موجود جہانگیر ترین اور اسحاق ڈار کے درمیان ملاقات کو بھی سمجھا جا رہا ہے۔
جہانگیر ترین کو اب بھی پنجاب کی سیاست میں انتہائی اہم کردار سمجھا جاتا ہے اور ان کی اسحاق ڈار سے ملاقات کے بعد آج جہانگیر ترین گروپ نے حمزہ شہباز کی حمایت کا باضبطہ اعلان بھی کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس سے قبل ان کے گروپ کو منانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔اس وقت جہانگیر ترن گروپ کے پاس 16 اراکین صوبائی اسمبلی ہیں۔ جن میں نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، عبدالحئی دستی، امیر خان، رفاقت گیلانی، فیصل جبوانا، سعید اکبر نیوانی، طاہر رندھاوا، اسلم بھروانا، غلام رسول سنگھا، زوار وڑائچ، بلال وڑائچ، قاسم خان لانگھا، ناظر خان بلوچ، امین چوہدری اور سلمان نعیم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ علیم خان گروپ نے بھی سنیچر کی شام اپوزیشن کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نمبر گیم اب پہلے سے بہتر ہے۔
تاہم مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے مخالف جماعتوں کے صوبائی اراکین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آپ ووٹ نہیں دینا چاہتے تو آپ الیکشن والے دن سیشن سے غیر حاضر رہیں۔
یاد رہے کہ وزیرِ اعلٰی منتخب ہونے کے لیے انھیں 186 ووٹ درکار ہوں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا اور دونوں امیدواروں کے ووٹ کم ہوتے ہیں تو اس کے بعد ’رن آف الیکشن‘ کیا جائے گا اور اس میں جس کے ووٹ زیادہ ہوں گے وہ وزیر اعلی منتخب ہو جائے گا۔اسمبلی کی جانب سے جاری کردہ نئے شیڈول کے مطابق کل گیارہ بجے نئے وزیرِ اعلیٰ کے لیے ووٹنگ کی جائے گی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس موقع پر یہ ٹویٹ کی گئی ہے کہ تمام پارٹی ممبران کل سیشن میں موجود ہوں اور پرویز الٰہی کو ووٹ دیں۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر کسی نے ان کے خلاف ووٹ دیا یا پھر غیر حاضر رہا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔‘
اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز رات گئے مختلف صوبائی اراکین سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔

