Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, مارچ 16, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • متحدہ عرب امارات میں ایران کے ڈرون حملے سے پاکستانیوں سمیت 7 افراد ہلاک 145 زخمی
  • رحیم یار خان میں دکان کی چھت گرنے سے 8 خواتین ہلاک، 76 زخمی
  • حکومت کا پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے سے گریز ۔۔ مگر کب تک ؟ برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • تل ابیب میں کلسٹر بم حملوں میں متعدد افراد زخمی: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز
  • اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری؛ 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق
  • پچاسویں سالگرہ اور ایک خاموش صدمہ : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • حکیم شہزاد المعروف لوہا پاڑ نے نویں جماعت کی طالبہ سے پانچویں شادی کر لی
  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر میزائل حملے کی اطلاعات
  • ایران ’بیڈ بوائے‘ بننے سے گریز کرے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جنریشن زی کو لبرل سے نفرت کیوں ہے؟ : وجاہت مسعود کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»سہیل وڑائچ»سہیل وڑائچ کا کالم : حمزہ شہباز کہاں ہے ؟
سہیل وڑائچ

سہیل وڑائچ کا کالم : حمزہ شہباز کہاں ہے ؟

ایڈیٹرمئی 25, 202513 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
suhail warraich joins dunya news girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

والد صاحب وزیر اعظم ہیں تایا جان کی پارٹی وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار ہے چچا زاد بہن کے اقتدار کے پھریرے پنج پانیوں پر زور وشور سے لہرا رہے ہیں مگر ماضی میں تایا کا نامزد کردہ جانشین والد کی واحد سیاسی امید اور اپنی کزن کا پیارا بھائی حمزہ شہباز شریف کہاں ہے؟ اس وقت خاندان شریفیہ کا اقتدار نصف النہار پر ہے، مقتدرہ سے تعلقات غیر معمولی طور پر خوشگوار ہیں، مخلوط حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی سے ورکنگ ریلیشن شپ بہترین ہے ،اپوزیشن تحریک انصاف کوئی بڑا چیلنج نہیں بن رہی ۔ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کی چھڑی دینے کی خوشی کی تقریب میں اس کے والد اسٹیج پر تشریف فرما مسلسل مسکرا رہے تھے۔ تایا کی تقریب میں اچانک اور غیر متوقع شرکت خاندان کی غیر معمولی عزت و حشمت کا پتہ دے رہی تھی خاندانِ شریفیہ کی نئی سپر سٹار وزیر اعلیٰ بھی تقریب میں جلوہ گر تھیں اور تو اور خاندان شریفیہ کا غیر سیاسی فرزند حسن نواز شریف بھی اپنی بہن کے برابر والی نشست پر تشریف فرما تھا اگر خاندان شریفیہ کا کوئی سیاسی نام وہاں نہیں تھا تو وہ حمزہ شہباز تھا۔
پہلے سنا گیا کہ مریم حکومت سنبھالے گی اور حمزہ پارٹی سیاست، مگر حمزہ کا پارٹی سیاست میں عرصہ دراز سے کوئی کردار نظر نہیں آیا پھر کہا گیا کہ وزیر اعظم کا پبلک افیئرز یونٹ چلائیں گے جس کا دفتر سٹیٹ گیسٹ ہائوس مال روڈ پر ہو گا مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا ،اب تو پبلک افیئرز یونٹ کا انچارج وزیر رانا مبشر کو بنا دیاگیا ہے اور یوں یہ کہانی ختم ہو گئی۔ حمزہ شہباز زیادہ تر لاہور میں رہتے ہیں دن میں وہ لاہور مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹائون آفس میں واقع اپنی خوبصورت انیکسی میں بیٹھتے ہیں ان کے کمرے کے شفاف شیشوں سے سفید سنگ مرمر کا فوارہ اور موسم کے رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں ،فوارے کا رقص کرتا پانی اور پھولوں کی رنگا رنگی انہیں ٹھنڈک دیتی ہو گی۔ اپنے دفتر میں وہ خاموشی سے سیاسی کارکنوں سے ملتے ہیں۔ اہل اقتدار کا رش ان کے ہاںسے غائب ہو چکا ہے، سیاسی سرگرمیاں ان کے حلقے کی خوشی اور مرگ تک محدود ہیں ۔ان کے کمرے میں میاں شریف اور ان کے تینوں بیٹوں نواز، شہباز اور عباس کی تصویریں نمایاں ہیں۔ حمزہ پنجاب حکومت کے معاملات یا کاموں میں نہ تو دخل اندازی کرتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سفارش ہی کرتے ہیں۔ کئی شرارتی انہیں بغاوت اور کئی سازشی انہیں متحرک ہونے پر بھڑکاتے رہتے ہیں مگر وہ ٹھنڈے ٹھار وفاداری اور صبر و شکر کی علامت بنے سب کچھ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ والد شہباز شریف ویک اینڈ پر لاہور آتے ہیں تو بیٹے سے صلاح مشورہ بھی کرتے ہیں اور یہ دعوت بھی دیتے رہتے ہیں کہ اسلام آباد آ کر وہیں رہو اور حکومتی معاملات چلانے میں میری مدد کرو مگر ابھی تک اس کا کوئی فارمولہ نہیں بن سکا، اس لئے اس پر عمل بھی نہیں ہو سکا۔
حمزہ شہباز قومی سیاسی منظرنامے سے بھی غائب نہیں نونی سیاست سے بھی مکمل غیر حاضر اور شائد لاتعلق بھی، تایا نواز شریف البتہ کبھی کبھی سیاسی معاملات پر جاتی عمرا میں ان سے مشورہ لے لیتے ہیں جاتی عمرا میں ہی ان کی وزیر اعلیٰ مریم سے دعا سلام اور خوشگوار راہ ورسم کا اعادہ ہو جاتا ہے۔
کہاں حمزہ شہباز پارٹی ٹکٹوں، ضمنی انتخابات اور پارٹی تنظیم وسیاست کے مرکزی کردار ہوا کرتے تھے اور کہاں انکی پراسرار خاموشی، اہم سیاسی واقعات سے انکار غائب ہونا، کسی بڑے فیصلے میں ان کی شرکت کا نظر نہ آنا غیر معمولی نہیں یقیناً یہ غیر معمولی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خاموشی کا سبب ان کا اپنا راہ فرار ہے یا پھر وہ اپنے لئے کوئی کردار نہ پا کر پیچھے ہو گئے ہیں اگر ان دونوں آپشنز کا جائزہ لیں تو شائد یہ دونوں ہی باتیں درست ہیں حمزہ کی شخصیت میں عہدوں کی حرص اور جدوجہد کا مادہ سرے سے ہی نہیں اسی لئے وہ مریم نواز کی متوقع جانشینی وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی نامزدگی اور پھر کامیابی پر حسد و نفرت کا شکار نہیں بلکہ وہ خود سے اقتدار اور ذمہ داری کا بوجھ اتار کر زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہو رہے ہیں انہیں طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد بیٹی کی صورت میں پہلی اولاد نصیب ہوئی ہے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھیل کر اور بات چیت کرکے اقتدار و طاقت کے حصول سے کہیں زیادہ مطمئن اور خوش نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف اس حقیقت سے بھی صرف ِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ حمزہ بحرانوں کے دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب رہا ہے اور سالہا سال تک نون مسلم لیگ میں نمبر2اور سب سے طاقتور سیاسی شخصیت رہ چکا ہے اس لئے اس کو کسی کم اہم سیاسی ذمہ داری میں کوئی کشش نظر کیوں آئے گی اس لئے وہ اقتدار کی سنٹر سٹیج سے بیک سٹیج پر چلا گیا ہے۔
مغلیہ خاندان میں شہزادہ اورنگزیب عالم گیر اور شہزادہ دارالشکوہ کی کشمکش پر قصے کہانیاں بہت دلچسپ ہیں خاندان شریفیہ کا دار الشکوہ کون ہوگا اور اورنگزیب عالمگیر؟ ابھی تو اس پر حتمی فیصلہ تاریخ اور واقعات نے کرنا ہے البتہ ایک بات طے ہے کہ اقتدار کی لڑائی اگر ہوئی بھی تو خاندان شریفیہ میں وہ مار دھاڑ نہیں ہو گی جو عالمگیر اور دارالشکوہ میں ہوئی تھی۔
تضادستان میں سیاست کے عروج و زوال حالات کو الٹ پھیر دیتے ہیں زوال کو سہنے اور برداشت کرنے کے لئے پتھر کا دل چاہئے جب بادشاہ شاہ جہاں کا اقتدار زوروں پر تھا تو دارالشکوہ بادشاہ کا جانشین تھا بادشاہ کے تخت پر جگہ پاتا تھا ہندو مسلمان اور سکھ سب اس کو مانتے تھے فقیر صوفی میاں میر سے لیکر جرنیل تک سب اس کے حامی تھے جب اقتدار چھن گیا اور وہ خوبصورت اور صلح کل شہزادہ دربدر ہوگیا تو سوائے صوفیوں، جوگیوں اور سنتوں کے سب اسے چھوڑ گئے اقتدار ہے ہی ایسی ظالم چیز !!!جس کے سر پر اقتدار کا ھما بیٹھے اس کے گرد خوشامدی طوطے گھیرا کر لیتے ہیں اور اہل اقتدار کو یہ بھی بھلا دیتے ہیں کہ آپ کو اقتدار تک پہنچانے والے کون لوگ تھے؟ دوسری طرف عروج سے زوال کو آنے و الے لوگوں کے نہ کوئی در پر دستک دیتا ہے اور نہ کوئی فریادی آواز لگاتا ہے نہ تو حمزہ شہباز دارالشکوہ ہے اور نہ ہی زوال کا شکار کیونکہ نہ تو وہ حصول اقتدار کے لئے دیوانہ اور جنونی ہے اور نہ خاندان شریفیہ نے اسکی آپشن کو ابھی مکمل طور پر NOکیا ہے ابھی مریم کی باری ہے اسے فری ہینڈ ہے ہو سکتا ہے کہ اس بار دارالشکوہ کو بھی چانس دے دے تاریخ میں ہر بار ایک جیسے نتائج نہیں نکلتے عروج و زوال، اقتدار اور بے اختیاری دونوں زندگی کا حصہ ہیں جو دونوں حالتوں میں اچھا انسان رہے وہ ہی کامیاب ہے وگرنہ اگر بادشاہ، اچھا انسان نہیں تو اس کی بادشاہی بھی تاریخ میں بدنما داغ ہوتی ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

حمزہ شہباز سہیل وڑائچ کالم
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleپنجاب میں طوفان اور بارش سے تباہی، 13 شہری جاں بحق ، 92 زخمی
Next Article حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی، وزیراعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے: وزیر توانائی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پچاسویں سالگرہ اور ایک خاموش صدمہ : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

مارچ 14, 2026

جنریشن زی کو لبرل سے نفرت کیوں ہے؟ : وجاہت مسعود کا کالم

مارچ 14, 2026

جنگ تہذیب نہیں، وحشت کا استعارہ ہے : وجاہت مسعود کا کالم

مارچ 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • متحدہ عرب امارات میں ایران کے ڈرون حملے سے پاکستانیوں سمیت 7 افراد ہلاک 145 زخمی مارچ 16, 2026
  • رحیم یار خان میں دکان کی چھت گرنے سے 8 خواتین ہلاک، 76 زخمی مارچ 16, 2026
  • حکومت کا پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے سے گریز ۔۔ مگر کب تک ؟ برملا / نصرت جاوید کا کالم مارچ 16, 2026
  • تل ابیب میں کلسٹر بم حملوں میں متعدد افراد زخمی: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز مارچ 15, 2026
  • اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری؛ 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق مارچ 14, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.