حملے کا انداز تو بہت پرانا ہے۔
فلاں کو دیکھو، دوسروں کو وعظ کرتا ہے اور اپنی بیٹی ایسی۔
فلاں کو دیکھو، عورت کے پردے پہ درس دیتا ہے اور اپنی بہن کھلے سر۔
سچ پوچھیے تو اس انداز میں طعنہ دینے والوں میں اور ونی کرنے والوں میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ پہلا گروہ سمجھتا ہے کہ یہ مرد ناکارہ ہے گھر کی عورت کو قابو نہیں کر سکا تو اور کیا کرے گا؟ دوسرا گروہ سمجھتا ہے کہ مرد کی خطا معاف کروانی ہو تو گھر کی عورت دشمن کو ہدیہ کر دو۔
یعنی کچھ بھی ہو، مرد کی وحشت کا تاوان عورت کو ہی ادا کرنا ہو گا۔
ان خود ساختہ دانشوران اور سپیکرز سے ہمارا اختلاف چاہے آسمان تک ہو لیکن ہم یہ ہر گز نہیں چاہیں گے کہ ان کی شخصیت کی کجی اور ذہنی مغالطوں کو ان کے گھر کی عورت کے سر منڈھا جائے۔
زندگی کیسے گزارنی ہے یہ فیصلہ کرنا عورت کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مرد کا۔ اس میں یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ ان صاحبان سے تو گھر کی عورت قابو نہیں ہوئی۔
یہ کہنے کی بجائے ہمیں ان عورتوں کو بڑھ کر گلے لگانا چاہیے کہ جو اپنے گھر کے مرد کی لن ترانیوں پہ کان دھرنے کی بجائے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرتی ہیں۔ جبھی تو زچ ہو کر ساحل کہتے نظر آتے ہیں کہ نوے فیصد عورتیں جاہل ہیں اور قمر صاحب دن رات عورتوں کی بے راہ روی کا رونا روتے ہیں۔
ان کے گھر کی عورتوں کو طعنہ بنانے کی بجائے مثال بنائیے کہ کیا زبردست اور طاقتور عورتیں ہیں جو ان مرد نما بونوں کی گرفت سے آزاد ہوئی ہیں۔
چلیے اسی بہانے ہم ایک قصہ آپ کو سنا دیتے ہیں جس سے واضح ہو گا کہ ہمارے معاشرے کا تقریباً ہر مرد کیسے سوچتا ہے؟
ہم ان دنوں ابھی میڈیکل کالج میں ہی تھے جب ہم لاہور ٹی وی پہ پہلی بار نظر آئے۔ پروگرام تھا جہاں نما جو نعیم بخاری کی میزبانی میں دکھایا جاتا تھا۔
اس پروگرام میں ہمیں دو بار شرکت کرنے کا موقع ملا۔ بچپن سے ہم ان سرگرمیوں کے بہت سرکردہ کھلاڑی تھے اس لیے اجازت وغیرہ لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑی تھی بس گھر میں بتا دیا کرتے تھے کہ فلاں دن پروگرام دیکھیے گا۔
ہمارے ابا نے تو کبھی ماتھے پہ بل بھی نہیں آنے دیا اور۔ رہے باقی تو ہمیں کسی اور کی ہمیں پرواہ نہیں تھی۔
تئیس جنوری اٹھاسی میں پہلی بار ہم جہاں نما میں نظر آئے اور چوبیس جنوری کو ابا نے ہمیں یہ خط لکھا :
”بعد برخورداری کے واضح ہو کہ آپ کا مکتوب مل گیا تھا جس میں آپ نے ذہنی آزمائش کے پروگرام کے متعلق بتایا تھا۔ چنانچہ ہم نے کل وہ پروگرام دیکھا تھا۔ خاصا دلچسپ تھا لیکن سب سے پہلے آپ سے جو سوال پوچھے گئے وہ بہت مشکل تھے بہر حال کوئی بات نہیں۔ پھر بھی آپ نے 160، دوسری نے 170 اور تیسری نے ایک سو چالیس نمبر لے لئے تھے۔ باقیوں کے سوال کافی آسان تھے۔ کوثر کو بھی تمہاری امی نے پروگرام کے متعلق بتا دیا تھا۔“
کچھ مہینوں بعد ہمیں پھر دعوت دی گئی کہ پروگرام میں شرکت کریں اور ہم نے فوراً حامی بھر لی۔ میڈیکل کی پڑھائی ہماری غیر نصابی سرگرمیوں کی راہ میں کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنی تھی۔ دوسری بار بھی ابا کی شاباشی خط کے ذریعے ہمیں موصول ہو گئی۔
لیکن اس بار کچھ اور بھی تھا جس نے ہمیں چونکا دیا۔ بھائی بہنوں کی شادیاں ہو جانے سے ہمارا خاندان وسیع ہو رہا تھا۔ نئے آنے والے اور ان کے خاندان۔ پدرسری کی جھلک ہمیں نظر آنے لگی تھی۔ ہم لاہور سے کسی ویک اینڈ پہ گھر آئے ہوئے تھے جب سمدھیانے سے تعلق رکھنے والے قریبی عزیز نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
آپ کو ٹی وی پہ نظر نہیں آنا چاہیے۔
ان کی جرات دیکھ کر ہمارا حیرت سے منہ کھل گیا۔ کیوں؟
دیکھیے سید خاندان کی لڑکی۔
میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ کون یہ کہنے والے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟
جی۔ وہ۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کے بہن بھائی اچھا محسوس نہ کرتے ہوں اور انہیں اپنے احباب کے سامنے شرمندگی ہوتی ہو۔
معاف کیجیے گا اگر میرے کسی بہن بھائی کو میری ذات سے شرمندگی محسوس ہو تو یہ ان کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔
جس طرح میں اپنے آپ کو کسی اور کے عمل سے وابستہ کرتے ہوئے اسے کنٹرول نہیں کرتی۔ اسی طرح کسی کو بھی میرے کسی عمل پہ اپنی ناپسندیدگی کا اطلاق کرتے ہوئے کنٹرول کرنے کا کوئی حق نہیں۔
دیکھیے۔ لوگ طعنے دیتے ہیں کہ ان کی بہن۔
تو آپ کا خیال ہے کہ کسی بھی عورت کو اس لئے اپنی مرضی نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے رشتے داروں کو لوگوں کے اعتراضات سننے پڑیں گے؟
جی ہاں۔ آخر رہنا تو ہم نے اسی معاشرے میں ہے نا۔
میرا خیال یہ ہے کہ بجائے گھر کی عورت کو کنٹرول کرنے کے، ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دیجیے کہ کون کیا کرے گا، طے کرنا آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔ آپ مرد اپنی ملکیت کے متعلق بات کرتے ہوئے عورت کو بیچ سے نکال دیجیے۔ تبدیل کیجیے انداز فکر۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کے نظریات/ اصول / پسند ناپسند تو آپ کے گھر کی عورت کیوں نہیں مانتی؟
تو کہہ دیجیے کہ گھر کی عورت کے پاس اپنا دماغ ہے، وہ گھر کے مردوں کی غلام نہیں ہے اور گھر کے مردوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پدرسری نظام کے نام لیوا بن کر عورتوں کو غلام بنانے کی کوششیں بند کر دیں۔ زندگی پہ عورت کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مرد اپنے لئے بائی ڈیفالٹ سمجھتا ہے۔
یہ گفتگو انیس سو اٹھاسی میں ہوئی لیکن یہ آج بھی relevant ہے۔ خلیل اور ساحل اگر پدرسری نظام کے غلام ہیں تو ہوں، ان کے گھر کی عورتیں اپنی مرضی سے زندگی کیوں بسر نہ کریں؟ بلکہ ان کو داد دینی چاہیے کہ جاہلوں کے ساتھ رہ کر انہیں آگہی اور شعور کی منزل ملی ہے۔
فرعون کے گھر موسیٰ کا محاورہ تو سنا ہی ہو گا آپ نے۔ ؟
(بشکریہ:ہم سب)
فیس بک کمینٹ

