ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ امیر عبداللہیان ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔ جون 2021 میں منتخب ہونے والے ابراہیم رئیسی کو سخت گیر اور قدامت پسند لیڈر تصور کیا جاتا تھا جنہیں ایران میں طاقت کے اصل منبع روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا بااعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ خیال بھی کیا جاتا تھا کہ خامنہ ای کے بعد رئیسی روحانی لیڈر بننے کے مضبوط امید وار ہوسکتے تھے۔
اگرچہ ایران میں مذہبی آمریت پر مبنی نظام کام کررہا ہے جس میں انتخابات تو باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں لیکن تمام اختیارات سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کی نگرانی میں کام کرنے والی مذہبی مشاورتی کمیٹیاں ہی فیصلہ کرتی ہیں کہ کون انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور کسے کس عہدے پر فائز ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ اس محدود اور کنٹرولڈ جمہوریت میں منتخب صدر، پارلیمنٹ یا دیگر عہدیداروں کی حیثیت اگرچہ ربر اسٹیمپ جیسی ہے لیکن اس کے باوجود صدارت جیسے اعلیٰ عہدے پر منتخب ہونے والا لیڈر روزمرہ معاملات اور سماجی زندگی و سیاسی امور کے بعض اہم پہلوؤں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابراہیم رئیسی سے قبل ایران کے صدر کے طور پر کام کرنے والے حسن روحانی نے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ مصالحت کے لیے کام کیا اور 2015 میں جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگرچہ ایران کے انتہا پسند لیڈروں نے اس معاہدے کو پسند نہیں کیا تھا۔ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے ابراہیم رئیسی جوہری معاہدہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے یورانیم کی افزودگی کے کام کو تیز کیا ۔ اس طرح امریکہ نے ایران پر مزید پابندیاں بھی عائد کیں۔
کسی بھی ملک کے سربراہ کی موت ایک اہم وقوعہ ہوتا ہے اور اس کی کمی آسانی سے پوری نہیں ہوتی۔ بلکہ اچانک حادثہ میں موت کی وجہ سے پیدا ہونے والا سیاسی خلا متعدد پالیسی معاملات پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ البتہ ایران میں چونکہ حتمی فیصلے کرنے کا اختیار مذہبی سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنی ای کے پاس ہے ، اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ابراہیم رئیسی کی موت سے پیدا ہونے والے خلا کو جلد ہی پر کرلیا جائے گا۔ البتہ ایرانی سیاست میں مذہبی انتہا پسندوں اور معتدل و متوازن رویہ اختیار کرنے کے حامیوں میں مسلسل کشمکش ہورہی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت 85 برس کے ہیں۔ ان کی عمر اور سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشمکش کی وجہ سے ابراہم رئیسی کی موت ایران کے داخلی سیاسی بحران میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے حکم سے فرسٹ نائب صدر محمد مخبر نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اب وہ ایرانی آئین کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ ایک کمیٹی کا حصہ ہوں گے جو 50 دن میں صدر کا انتخاب کروانے کی پابند ہوگی۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ یہ کمیٹی موجودہ سخت گیر سیاسی انتظام میں انتخابات منعقد کروالے گی لیکن یہ دیکھنا دلچسپی کا حامل ہوگا کہ صدارتی انتخاب میں کون لوگ میدان میں اترتے ہیں اور مذہبی قیادت کون سے معتدل مزاج لیڈروں کو انتخابی مقابلے میں حصہ لینے کی اجازت دیتی ہے۔
جون 2021 میں ابراہیم رئیسی 62 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے لیکن یہ انتخاب اس لحاظ سے ناقابل اعتبار ٹھہرے تھے کہ رئیسی کے مدمقابل بیشتر امیدوارں کو نااہل قرار دے کر انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں اگرچہ ابراہیم رئیسی کے لئے انتخاب جیتنا آسان ہوگا لیکن ووٹ ڈالنے والوں کی شرح میں شدید کمی نوٹ کی گئی تھی۔ 2021 کے انتخابات میں صرف 30 فیصد ایرانیوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا اور بہت بڑی اکثریت نے انتخابات سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔اس طرح ملک میں محدود اور بڑی حد تک نامزدگی پر مبنی انتخابی عمل پر ایرانی عوام نے بے اعتباری کا مظاہرہ کیا۔
ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالتے ہی سخت گیر سماجی کنٹرول کا طریقہ اختیار کیا ۔ عالمی تعلقات میں بھی انہیں انتہاپسند لیڈر کی شہرت حاصل تھی ۔ ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ عمر رسیدہ آیت خامنہ ای کی پالیسیوں کو سختی سے نافذ کرتے ہیں۔ اسی سماجی کنٹرول کی حکمت عملی کی وجہ سےستمبر 2022 میں ایک نوجوان لڑکی کو ایران کی اخلاقی پولیس نے حجاب پہننے پر کوتاہی کے الزام میں گرفتار کرکے تشدد سے ہلاک کردیا تھا۔ مہسا امینی کی دوران حراست موت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے۔ اس احتجاج کو دنیا بھر میں شہرت حاصل ہوئی ۔ اس احتجاج کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کی قیادت خواتین کے ہاتھ میں تھی اور مرد بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔ تاہم ابراہیم رئیسی کی حکومت نے سختی سے ان مظاہروں کو کچل دیا۔ سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے طویل المدت سزائیں دی گئیں اور کئی نوجوانوں کو احتجاج کرنے کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اس طرح کئی ماہ تک جاری رہنے والا احتجاج ختم ہوگیا لیکن ایرانی معاشرے میں گھٹن اور محرومی کا احساس گہرا ہؤا۔ حکومت نے کسی عوامی مطالبے کو ماننے سے انکار کیا اور خواتین کے لیے حجاب کی پابندیوں کو نرم نہیں کیا گیا۔
ابراہم رئیسی نے مارچ 2023 میں سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرکے سب کو حیران کردیا۔ اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے تھے۔ دونوں ملک یمن اور مشرق وسطی میں ایک دوسرے سے برسر پیکار رہے تھے لیکن اس معاہدہ سے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید یہ دونوں ملک مل کر مشرق وسطی میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ البتہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں 1200 اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت اور کئی سو یرغمال بنانے کے واقعہ کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کردیا جس میں ایران کے کردار کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ ایران فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کرتا ہے بلکہ اسے مشرق وسطی میں ایران کا پراکسی گروہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب حماس کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑ نہیں پڑی بلکہ ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والےحادثہ کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا اور ہیلی کاپٹرتلاش کرنے میں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی۔
ابراہیم رئیسی کی حکومت میں ہی اس سال جنوری میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں پاکستانی علاقوں پر میزائل حملہ کیا تھا ۔ اس حملے میں مبینہ طور پر جیش العدل نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان نے اس حملے پر شدید احتجاج ا کرتے ہوئے اپنی سرحدی حدود کی ایسی خلاف ورزی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور دو روز بعد ہی ایرانی علاقے میں جوابی میزائل حملہ کیا تھا۔ تاہم ابراہیم رئیسی کی حکومت نے اس بحران کو بڑھنے نہیں دیا اور پاکستان کے ساتھ معاملات درست کرنے میں تیزی سے اقدامات کیے۔ اپریل کے آخر میں پاکستان کے سہ روزہ دورہ کے دوران صدر ابراہیم رئیسی نے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور باہمی تجارت کے لیے 10 ارب ڈالر کا ٹارگٹ بھی مقرر کیا۔
تاہم 13 اپریل کو اسرائیل پر سینکڑوں ڈرون و میزائل حملہ صدر رئیسی کی حکومت کا سب سے اہم اور جرات مندانہ فیصلہ تھا۔ ایران نے یہ میزائل حملہ یکم اپریل کو دمشق کے ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا تھا جس میں متعدد اعلیٰ فوجی افسر مارے گئے تھے۔ ایرانی حملے میں مبینہ طور پر اسرائیل میں کوئی نقصان نہیں ہؤا اور بیشتر ایرانی میزائل و ڈرون گرنے سے پہلے ہی ضائع کردیے گئے تھے۔ تاہم اس حملہ کو اس لحاظ سے اہم سمجھا جارہا ہے کہ ایران نے پہلی بار پر اسرائیل پر براہ راست میزائل وڈرون حملہ کے ذریعے اپنی عسکری صلاحیت اور اسرائیلی بداعتدالی کو قبول نہ کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ۔ شدید عالمی دباؤ اور غزہ کی جنگ کی وجہ سے اسرائیل نے ایرانی حملے کا رسمی جواب دے کر بظاہر معاملہ ختم کردیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان جاری تناؤ کسی بھی وقت مشرق وسطیٰ میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ان حالات میں ابراہیم رئیسی کی رحلت سے ایران ایک اہم اور مشکل فیصلے کرنے والے لیڈر سے محروم ہوگیا ہے۔ ایران کے قدامت پسند مذہبی رہنماؤں کو ان کا متبادل ڈھونڈنے میں شدید مشکل کا سامنا ہوگا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے بھی اس اچانک سانحہ سے سنبھلنا اور اپنی طاقت کو اگلی نسل کے ذریعے مستحکم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ صدارتی انتخاب میں اگر نرمی کا مظاہرہ کیا گیا تو کوئی بھی اعتدال پسند لیڈر سماجی پابندیوں کے بارے میں سرکاری پالیسیوں سے عاجز ایرانی عوام کی ہمدردی و حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس طرح آیت علی خامنہ ای کا سخت گیر معاشرہ مستحکم کرنے کا خواب منتشر ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر 2021 کی طرح لبرل اور معتدل سیاسی لیڈروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا تو عوام میں اندر ہی اندر پکنے والا غم و غصہ کسی نئے احتجاج اور تصادم کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے۔
پچاس روز بعد منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں خواہ معتدل لیڈر کامیاب ہو یا ابراہیم رئیسی جیسا سخت گیر شخص صدر بنے، دونوں صورتوں میں اسے متعدد چیلنجز اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معتدل صدر کو ملک کی سخت گیر اور طاقت ور مذہبی قیادت کی طرف سے دباؤ اور مزاحمت کا سامنا ہوگا اور انتہاپسند صدر کو ایرانی عوام دل سے قبول نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ اسے عالمی طور پر شدید سفارتی مشکلات بھی پیش آئیں گی۔ اگرچہ روس و چین کسی بھی ایرانی حکومت کی حمایت کریں گے لیکن جب تک ایران ، امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک سے مصالحت و مفاہمت کا کوئی راستہ تلاش نہیں کرتا ، اس کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا اور سفارتی تنہائی برقرار رہے گی۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

