Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جنوری 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • "عشق آباد سے اشک آباد” درد کی داستان : محمد عمران کا کتاب کالم
  • گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، تعداد 61 ہوگئی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے : فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا
  • "اعتراف” سے کچھ سبق ، ضیاء نے بھٹو حکومت کیوں ختم کی ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • گل پلازہ میں آتشزدگی ، ہمارے شہرسے ہوکردھواں گزرتا ہے : وجاہت مسعود
  • سرخ گلابوں کے موسم میں ۔۔ ڈاکٹر خدیجہ وکیل کی نثری نظم
  • گل پلازہ کے 26 میں سے 24 دروازے بند تھے : 28 لاشیں برآمد، 81 افراد لاپتا
  • قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے کو سپریم کورٹ نے 15 برس بعد بری کر دیا
  • ایران کے ’روپوش‘ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا انجام کیا ہو گا ؟
  • گل پلازہ آتش زدگی اور فائر بریگیڈ اہلکار کی ماں کے آنسو : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»یاسر پیر زادہ کا کالم : مایوسی پھیلانے والے ہم لوگ
تازہ ترین

یاسر پیر زادہ کا کالم : مایوسی پھیلانے والے ہم لوگ

رضی الدین رضیدسمبر 8, 202410 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
columns of yasir pirzada girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

نہ جانے کیوں میرا خیال ہے کہ ہم اپنی کچھ زیادہ ہی مذمت کرنے لگ گئے ہیں۔ ممکن ہے یہ خیال غلط ہو، کیونکہ جس معاشرے میں ایک شادی شدہ عورت کو اُس کی ساس اور گھر والے مل کر مار ڈالیں اور پھر اُس کی تکہ بوٹی کرکے غائب کر دیں، اُس معاشرے کے بارے میں یہ کہنا کہ سب کچھ برا بھی نہیں ہے، خاصی غیرمعقول بات ہے۔ اور پھر یہ تو صرف ایک مثال ہے، یہاں تو آئے دن بے گناہ لوگ مرتے ہیں، کبھی ٹریفک کے حادثات میں تو کبھی محض شناختی کارڈ کی وجہ سے، کبھی کوئی دہشت گرد حملہ آور ہو جاتا ہے تو کبھی کوئی پولیس کی فائرنگ سے مارا جاتا ہے۔ اور پھر چوبیس گھنٹے تک درجنوں ٹی وی چینل یہی خبریں صبح شام دہراتے رہتے ہیں جس سے ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ لگتا ہے کہ جو شخص بھی گھر سے باہر نکلے گا زندہ سلامت واپس نہیں آئے گا۔ مایوسی ایسی ہے کہ کسی شہری کو ریاست پر اعتبار نہیں رہا، معاشی اعداد و شمار دیکھیں تو سمجھ نہیں آتی کہ آخر وفاقی حکومت کا خرچہ کیسے چل رہا ہے، موسم کا حال بھی سنیں تو لگتا ہے جیسے خاکم بدہن ہمیں اگلا سال دیکھنا نصیب نہیں ہو گا۔ اِن تمام باتوں میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہو گی لیکن مجموعی طور پر مجھے لگتا ہے کہ معاشرے میں مایوسی کا تناسب کئی گنا زیادہ ہے اور یہ خطرناک بات ہے۔ غالب نے کہا تھا ’’دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا… زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا‘‘ یہی حال ہمارا ہے، زخم بھرنے لگتا ہے تو کوئی تازہ زخم لگ جاتا ہے اور نہ لگے تو ہمارے ناخن اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ ہم اُن سے نئے زخم لگا لیتے ہیں۔
چلیے مان لیا کہ ہماری قوم کی بعض قبیح عادات ایسی ہیں کہ اُن کی بنا پر اُسے موردِ الزام ٹھہرانا ٹھیک ہوگا مگر یہ کیا کہ ہر بات میں ہی ہم اپنی ذلت کا سامان پیدا کر لیتے ہیں! اب ایسا بھی نہیں کہ جہان بھر کی سماجی برائیاں صرف ہم میں ہیں اور باقی دنیا پاکباز ہے۔ ہمارا یہ رویہ معاشرے میں منفی رجحان کو بڑھاوا دے رہا ہے جس کی وجہ سے ریاست کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ایک دوسرے سے بھی اعتبار اُٹھ رہا ہے۔ اِس کی ایک وجہ تو سنسنی خیز میڈیا ہے مگر یہ بات مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی میڈیا کہیں زیادہ سنسنی خیز ہے، وہاں بھی مایوسی ہے مگر اُس کی شدت اِس قدر نہیں جتنی ہمارے ہاں ہے۔ دوسری وجہ سیاسی قیادت ہے، یہ درست ہے کہ دنیا بھر میں سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں مگر بہرحال اُن کی کوئی نہ کوئی حد ضرور ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں اِس کی کوئی حد نہیں، یہاں اب سیاسی بیانیے کی کامیابی اِس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ کسی سیاست دان نے عوام کو اِس نظام سے کتنا بیزار اور مایوس کیا، اِس سے سیاست دان کو وقتی فائدہ ضرور حاصل ہو جاتا ہے مگر یہ حکمت عملی سماج میں بد دلی اور نااُمیدی کا باعث بن رہی ہے۔
اِس سے پہلے کہ میں آگے کچھ اور لکھوں ایک بات کی دوبارہ وضاحت کردوں کہ معاشرے میں مایوسی بلاوجہ نہیں ہے، غریب اور پسماندہ طبقات کا جینا واقعی محال ہو چکا ہے، تاہم میرا مقدمہ صرف اتنا ہے کہ مایوسی غیر متناسب حد تک بڑھی ہوئی ہے، یعنی اگر ہم اپنے نظام کی کارکردگی کو ایک سے دس کے پیمانے پر تین نمبر دیں تو مایوسی اِس قدر زیادہ ہے کہ لوگ اسے تسلیم نہیں کریں گے اور اِس نظام کو صفر بلکہ منفی تین نمبر دیں گے۔ جس طرح معاشرے میں جھوٹ تیزی سے سفر کرتا ہے اسی طرح مایوسی کا بھی Snowball Effect ہوتا ہے، لوگ بلا تصدیق کیے باتیں پھیلاتے ہیں جو مزید ناامیدی کا سبب بنتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے۔ اگلے روز دوستوں کی محفل میں یہ سوال زیر بحث آیا کہ درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کیا ہوتی ہے اور رپورٹر اور تجزیہ نگار میں کیا فرق ہوتا ہے۔ برادرم عمران مختار، جو ایک معتبر صحافی ہیں اور غیر ملکی میڈیا سے وابستہ ہیں، انہوں نے بہت عمدگی سے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اگر کسی واقعے میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے جھوٹ پھیلانے کا الزام ہو اور ساتھ ہی ریاست پر تشدد کا الزام بھی ہو تو ایک اچھا رپورٹر دونوں باتوں کی چھان پھٹک کرے گا اور اگر وہ تجزیہ نگار ہوگا تو دونوں زاویوں سے بے لاگ تجزیہ کرے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ اپنی پسند کے حقائق منتخب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل تصویر کشی نہیں ہوتی۔ اِس مثال کو یہاں جَڑنے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ ہم لکھاری بھی موضوع کا انتخاب کرنے میں آزاد ہوتے ہیں، لیکن یہ کام کرتے وقت ہم اکثر ایسا موضوع منتخب کرتے ہیں جس میں کوئی منفی پہلو ہو، اور یہ کسی بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ نیت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس دلایا جائے کہ معاشرے میں فلاں برائی پھیل رہی ہے لہٰذا اِس کا تدارک کیا جائے، مگر اِس طریقے کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم غیرشعوری طور پر معاشرے میں مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ لکھاری اپنے ارد گرد ہونے والے ظلم سے بیگانہ ہو جائے یا چھ ماہ کیلئے صرف ”مثبت رپورٹنگ“ کرکے نتائج کا انتظار کرے اور دیکھے کہ پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ لیکن ہم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹنے کی پیش گوئیاں بند کردیں۔ خطرے سے آگاہ لازماً کریں مگر اِس طرح کہ لوگوں کو حقائق سے آگاہی ہو نہ کہ وہ یہ سوچ کر گھر سے باہر نکلیں کہ نہ جانے شام کو بچوں کو منہ دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔
یہاں تک لکھ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ یہ کالم لکھ کر میں نے اپنے لیے مشکل ہی پیدا کی ہے کیونکہ اب موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے مجھے دھیان رکھنا ہوگا کہ کہیں میں بھی تو خواہ مخواہ سماج میں بد دلی پھیلانے کا باعث نہیں بن رہا! لیکن پھر یہ سوچ کر دل کو کچھ تسلی ہوئی ہے کہ اِس میدان میں بڑے بڑے جغادری موجود ہیں جو روزانہ لوگوں کو اپنا یہ تجزیہ سنا کر سوتے ہیں کہ (خدانخواستہ) بہت جلد اِس ملک میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ مایوس کُن باتوں کو ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ تقریبات اور سیمینارز میں بھی بیان کرتے ہیں اور اُس کے بعد اڑھائی کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے فارم ہاؤس روانہ ہو جاتے ہیں۔ ایک فقرے میں لکھنا ہو تو یوں لکھیں گے کہ اِس ملک میں جو جتنا خوشحال ہے وہ اتنی ہی مایوسی پھیلا رہا ہے۔ بغیر کسی شرم کے!
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعطا ء الحق قاسمی کا کالم : میری کہانی ( 14 ) مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی بمبا شہزادی اور گورا قبرستان
Next Article شام میں کشیدہ صورتحال، سیکڑوں پاکستانی زائرین پھنس گئے
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

"عشق آباد سے اشک آباد” درد کی داستان : محمد عمران کا کتاب کالم

جنوری 22, 2026

گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، تعداد 61 ہوگئی

جنوری 22, 2026

پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے : فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا

جنوری 21, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • "عشق آباد سے اشک آباد” درد کی داستان : محمد عمران کا کتاب کالم جنوری 22, 2026
  • گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، تعداد 61 ہوگئی جنوری 22, 2026
  • پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے : فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا جنوری 21, 2026
  • "اعتراف” سے کچھ سبق ، ضیاء نے بھٹو حکومت کیوں ختم کی ؟ نصرت جاوید کا کالم جنوری 21, 2026
  • گل پلازہ میں آتشزدگی ، ہمارے شہرسے ہوکردھواں گزرتا ہے : وجاہت مسعود جنوری 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.