میں جس ای میل کا انتظار کرتا ہوں، وہ کبھی نہیں آتی۔ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اِن باکس چیک کرتا ہوں، پھر جنک میل دیکھتا ہوں۔ کوئی نئی ای میل نہیں ہوتی۔ وہی پرانی، گھسی پِٹی، روایتی ای میلز۔ جب بھی کوئی نوٹیفکیشن آتا ہے، میں فوراً ای میل چیک کرتا ہوں۔ یہ میرا نارمل ریفلیکس بن چکا ہے، چاہے میں کچھ کر رہا ہوں یا کہیں بھی بیٹھا ہوں۔ نوٹیفکیشن کی گھنٹی مندر کی گھنٹی کی طرح کانوں میں بجتی ہے تو امید کی ایک لہر ذہن و دل میں دوڑ جاتی ہے، لیکن ہمیشہ کوئی بیکار پیغام ہی ملتا ہے۔ وہی گھسا پٹا روزمرہ کا پیغام۔ امید وہیں دم توڑ دیتی ہے۔
کئی دفعہ سارا سارا دن کوئی ای میل نہیں آتی، تو میں کسی نوٹیفکیشن کے بغیر ہی ای میل چیک کرنے لگتا ہوں۔ اِن باکس، اور پھر جنک میل کا خانہ۔ جنک میل چیک کرنا ہمیشہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کئی بار بہت اہم ای میل جنک باکس میں چلی جاتی ہے۔ پھر ہمیں ای میل کمپنی کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ بے کار ای میل نہیں ہے اور آئندہ اسے اِن باکس میں ہی بھیجا جائے۔ لیکن کمپنی کو اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ جسے وہ غیر اہم سمجھتی ہے، وہ دراصل بہت اہم ہوتی ہے۔ کئی دفعہ تو اس ای میل پر ہماری زندگی کا دارومدار ہوتا ہے، مگر وہ ای میل بہت نایاب ہوتی ہے۔ کئی دن، مہینے اور سال گزر جاتے ہیں، لیکن وہ نہیں آتی۔
کچھ عشرے پہلے چٹھیاں آیا کرتی تھیں۔ محاذِ جنگ پر گئے ہوئے فوجی، بیرونِ ملک کام کرنے والے محنت کش، اور کسی دورافتادہ شہر میں سزا کے طور پر تبادلہ کیے گئے سرکاری ملازم اپنے پیاروں کو یہ چٹھیاں بھیجا کرتے تھے۔ دن کے کسی پہر یا رات کو یہ خط لکھے جاتے، لفافوں میں بند کیے جاتے، اُن پر ڈاک ٹکٹ چپکایا جاتا، اور پھر لیٹر باکس میں ڈال دیے جاتے۔ ڈاکیا انھیں پوسٹ آفس پہنچاتا، وہاں اِن چٹھیوں کی چھانٹی ہوتی اور اُن پر مہریں ثبت کی جاتیں، پھر یہ خط اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ کر دیے جاتے۔ یہ کسی نئے اور اجنبی شہر پہنچتے اور کسی اپنے کا پیغام اُس کے پیاروں تک پہنچا دیتے۔ اِن خطوط کا کئی دن انتظار کیا جاتا، پھر اُن کی آمد کو سیلیبریٹ کیا جاتا۔ خوشی یا غم کے آنسو گالوں پر امڈ آتے، اور پھر اسی محبت سے اُن کے جواب لکھے جاتے۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہتا۔
خط کا انتظار شاید اُس بے چینی سے کہیں کم ہوتا ہوگا جس سے ای میل کے منتظر لوگ گزرتے ہیں۔ پہلے لوگوں کو وقت پر خط نہ آنے پر مایوسی ہوتی ہوگی، اب درست ای میل نہ آنے پر ہوتی ہے۔ پہلے کئی دنوں میں کوئی امید ٹوٹتی تھی، اب دن میں کئی بار نئی امید بنتی اور ٹوٹ جاتی ہے۔ دکھی لوگوں میں دکھ کا موازنہ نہیں کرنا چاہیے؛ یہ شاید بہت سے عظیم دکھوں کی توہین ہو۔ لیکن اگر دکھوں کو شمار کیا جائے تو جدید دنیا کا وہ انسان جو ای میل کا منتظر ہے، شماریاتی لحاظ سے شاید خط کے منتظر انسان سے زیادہ دکھی ہے۔
پہلے عمریں عددی لحاظ سے لمبی نہیں ہوتیں تھیں، مگر خط کا انتظار وقت کی رفتار سست کر دیتا تھا۔ دن کاٹے نہیں کٹتے تھے اور راتیں آنکھوں میں کٹتی تھیں۔ اب وقت برق رفتار گھوڑے کی طرح دوڑتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور ہم اپنی مطلوبہ ای میل کے انتظار میں محبت بھری جوانی سے ناخوشگوار بڑھاپے میں قدم رکھ دیتے ہیں۔ عمریں عددی اعتبار سے بڑھ گئی ہیں، مگر پلک جھپکتے میں بیت جاتی ہیں۔ یہ اچھا ہی ہے، لیکن بے چینی اور بے قراری سے بھرے دن اور رتجگوں سے عبارت راتیں اسی طرح قائم ہیں۔
گاڑی بہت تیز چل رہی ہے، وقت بہت تیزی سے کٹ رہا ہے۔ ہمارا اسٹاپ جلد ہی آنے والا ہے، مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ اور تب تک وہ نوٹیفکیشن، جو لمحوں میں بننے والی امید کو لمحوں میں توڑ دیتا ہے، یوں ہی آتا جاتا رہے گا: کبھی موبائل فون پر، تو کبھی ڈیسک ٹاپ کی اسکرین پر۔ ہاتھوں کی انگلیاں تھک چکی ہیں، مگر انھیں اسی طرح حرکت میں رہنا ہوگا۔ پلکیں بوجھل ہو سکتی ہیں، مگر انگلیوں کی رفتار کم نہیں پڑ سکتی۔ وہ انگلیاں جو کبھی قلم تھاما کرتی تھیں، اب بٹن دباتی رہتی ہیں۔ کبھی حرفوں اور ہندسوں سے بھرے کی بورڈ پر، تو کبھی ای میل کے بٹن پر۔
انگلیاں محبت سے بھری ای میل ٹائپ کرتی ہیں اور “سینڈ” کا بٹن دباتی ہیں۔ کبھی کبھی پیغام ارسال نہیں ہوتا اور خودکار پیغام آتا ہے کہ مطلوبہ صارف نے آپ کی ای میل مسترد کر دی ہے۔ مگر اکثر ای میلز چلی جاتی ہیں، اُن منتظر لوگوں کے پاس جن کے لیے ہماری ای میلز زندگی کا سرمایہ ہوتی ہیں اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں ہوتا۔ ہمیں اُن لوگوں کی قدر نہیں ہوتی جو ہمیں بآسانی میسر ہوتے ہیں اور ہر وقت ہم سے محبت کرتے ہیں۔ ہم انھیں اسی طرح مسترد کرتے رہتے ہیں جیسے کوئی ہمیں مسترد کرتا رہتا ہے۔
میں اپنی کئی ای میلز “سینٹ آئٹمز” یا کسی دوسرے فولڈر میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہوں۔ یہ اکثر وہی ای میلز ہوتی ہیں جن کا جواب کبھی نہیں آتا، وہی جواب جس کے انتظار میں مجھے دن میں کئی بار جینا اور مرنا پڑتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

