کیا زیادہ تکلیف دہ ہے: محبت میں ناکامی یا نوکری حاصل نہ کر پانا؟
اف، یہ کیسا بےہودہ سوال ذہن میں آ گیا ہے! بےروزگاری میں محبت کس کمبخت کو یاد رہتی ہے۔ بقولِ فیضؔ:
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
کیا محبت ایک Privilege ہے؟
کیا بھوکے پیٹ والوں کو بھی محبت ہوتی ہے؟ اشتراکیوں کے نزدیک تو انسان کے معاشی حالات ہی اس کی زندگی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور شاید محبت کا تعین بھی وہی کرتے ہیں۔ لیکن کیا جن کے پیٹ بھر جاتے ہیں وہ محبت بھی کرنے لگتے ہیں؟ شاید ایسا نہیں ہے۔ پیٹ بھرے انسان کے احساسات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس نے اپنا پیٹ کیسے بھرا ہے۔ کیا اس نے کسی کا حق مارا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ محبت سے خالی ہے۔
لیکن کیا دوسروں کا حق غصب کرنے والے سب انسانوں کو پتا ہوتا ہے کہ وہ ظلم کر رہے ہیں؟ نہیں۔ ظلم کے نظام میں ظلم کو حق قرار دے دیا جاتا ہے، استحصال کو منافع کا نام دے دیا جاتا ہے۔ وہ انسان نہیں جانتا کہ وہ ظالم ہے، لیکن چونکہ وہ ظالم ہے اس لیے وہ بھی محبت سے خالی ہے۔ یوں ظلم کے نظام میں دنیا محبت سے خالی ہوتی چلی جاتی ہے۔
ہم محبت کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہماری مٹی میں محبت شامل نہیں ہوتی۔ ہم نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اردگرد بےپناہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ہم ان پر کڑھتے ہیں، ہم مظلوموں سے ہمدردی کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ظلم بند ہو جائے اور ظالموں کو سزا ملے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا۔
ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ کچھ ایسا ہو چکا ہے جس نے دنیا کو بےمحبت کر دیا ہے۔ محبت ظلم کے زہر کا تریاق ہے، لیکن وہ تریاق ناپید ہو چکا ہے۔
ہو سکتا ہے ہم احساسِ جرم کا شکار ہو جائیں۔ پھر ہم Closure کے لیے خدا کو ڈھونڈتے ہیں۔ ہم اپنے اپنے خدا سے کہتے ہیں کہ ہم بےاختیار ہیں۔ ہم روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں۔ ہم ان مظلوم بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں جو کبھی اپنے کھانے کا خود انتظام نہیں کر سکتے۔ ہم انہیں خیرات دیتے ہیں جو خود اپنے حالات بدلنے کے قابل نہیں ہوتے۔
ہم اپنے اندر بیدار ہونے والے ہر احتجاج کو سلا دیتے ہیں۔ ہم ہر احساسِ جرم کو دبا دیتے ہیں۔ ہم ہر ظلم پر ثواب کا ورق چڑھا دیتے ہیں۔ ہم جانے انجانے میں اپنے اردگرد موجود ظالموں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ہم انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ وہ اختیار رکھتے ہیں۔
کیا ہم انہیں خدا سمجھنے لگتے ہیں؟ کیونکہ وہی خدا ہوتا ہے جو ہماری تقدیر کا مالک ہوتا ہے۔ ہم ظالموں کو اپنا مددگار سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم خود ان کے مددگار ہیں اور انھیں ہماری ضرورت ہے۔ کبھی انھیں ظلم کرنے میں ہماری ضرورت ہوتی ہے اور کبھی ظلم کو نیکی سے چھپانے میں۔
ہم ایسا کرنے کا عذر ڈھونڈتے ہیں۔ ہم اپنے دنیاوی اور دینی کاموں کو الگ الگ خانوں میں رکھ دیتے ہیں۔ دنیاوی کاموں میں ہم اپنے افسروں کی خوشامد کرتے ہیں، اور دین میں اپنے ضمیر کو مسلسل عبادت سے تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔
ہم آگے بڑھنے سے ڈرنے لگتے ہیں، کیونکہ ہم اپنے کاموں میں حد سے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ ہم خوداعتمادی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں علم بھی ہم سے روٹھ جاتا ہے، کیونکہ ہم اسے استعمال کرنا بھول جاتے ہیں۔ وہ زنگ لگے ہتھیار کی طرح الگ تھلگ پڑا رہتا ہے۔
ہم کبھی کبھی اپنے طاقتور حاکموں کے حکم پر اس ہتھیار کو صاف کر کے چمکا دیتے ہیں، تاکہ دنیا اسے دیکھ کر یہی سمجھے کہ ہم اہلِ علم ہیں۔ علم اور عمل کو الگ الگ کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دونوں ایک ہی مٹی میں گندھے تھے۔
عمل بےسمت ہو کر ہمیشہ بدنظمی کا شکار رہتا ہے۔ اسے کاہلی کے نشے کی لت لگ جاتی ہے۔ کاہلی اسے تسلی دیتی رہتی ہے کہ وہ درست ہاتھوں میں ہے اور اسی لیے اسے علم کے ساتھ گوندھا گیا تھا۔
پھر اچانک ہماری بےمحبت زندگی میں کوئی آتا ہے۔ وہ بےلوث اور مخلص ہوتا ہے۔ وہ ہمیں محبت دینا چاہتا ہے۔ ہم جو محبت سے خالی اور محبت سے ناآشنا ہوتے ہیں، اس کی محبت سے ڈر جاتے ہیں۔ اسے اپنے کیریئر، نوکری اور پیسے کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ہر کام اصول کے مطابق کرتا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل میں علم کو نافذ کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ ہمیں منظم ہونا چاہیے، تاکہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔ وہ ظلم کی نشاندہی کرتا ہے، وہ مظلوموں پر ہونے والے ظلم کی وجوہات تلاش کرتا ہے۔ وہ ظالم کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ وہ ہمیں اور ہمارے آقاؤں کو خطرناک نظر آنے لگتا ہے۔
وہ ہمیں خطرناک لگتا ہے، حالانکہ وہ ہم سے بےپناہ محبت کرتا ہے۔ ہم اس کی محبت سے Overwhelmed ہو جاتے ہیں۔ ہم اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ کونے میں جا بیٹھتا ہے۔ لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ اب کسی کام کا نہیں رہا۔
اور ہم، اپنے دنیاوی اور دینی کاموں کو الگ الگ رکھے، دوبارہ اپنے معمولات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

