ایلسہم، انگلینڈ ۔۔۔ برطانوی شہزادے اینڈریو کو جمعرات کی شام پولیس کی حراست سے رہا کر دیا گیا، انہیں اس شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے عوامی عہدے میں بدعنوانی کے تحت خفیہ سرکاری دستاویزات Jeffrey Epstein کو بھیجی تھیں۔
شہزادہ اینڈریو جمعرات کو 66 برس کے ہو گئے، ان سے ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے سارا دن پوچھ گچھ کی۔ اس ماہ کے اوائل میں پولیس فورس نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ انہوں نے تجارتی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے یہ دستاویزات ایک ایسے شخص کو فراہم کیں جو بعد میں جنسی جرائم کے الزام میں مجرم قرار پایا تھا۔بادشاہ کے بھائی کو گرفتار کیا گیا، انھیں سینڈرنگھم میں کنگز سٹیٹ پر موجود ان کے گھر سے لے جایا گیا، ان کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) لیے گئے تاہم انھیں اب رہا کر دیا گیا ہے لیکن اُن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
محض چند دن پہلے، یہ وہ شخص تھے جو ونڈسر گریٹ پارک میں تیس کمروں کے شان و شوکت والے شاہی لاج میں رہ رہے تھے۔
محض چند ہفتے پہلے، یہ ’شہزادہ‘ اینڈریو تھے جو شاہی محل کے ذریعے بیانات جاری کر رہے تھے اور اپنی (عوامی) خدمت اور بے گناہی کا اعلان کر رہے تھے۔‘
محض چند ماہ پہلے، وہ ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل کی سیڑھیوں پر ’ڈچز آف کینٹ‘ کی آخری رسومات کے موقع پر خاندان کے دیگر افراد کے جھرمٹ میں نظر آئے۔
اور 2011 میں تجارتی سفیر کے عہدے سے دستبرداری کے بعد بھی، برسوں تک انھوں نے بکنگھم پیلس کو اپنے سرمایہ کاری کے منصوبے ’پچ ایٹ پیلیس‘ کے پسِ منظر کے طور پر استعمال کیا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

