اہم خبریں

شہزادہ اینڈریو کو جنسی حملے کے الزامات کا سامنا کرنا ہوگا: امریکی جج کا فیصلہ

واشنگٹن : برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کو ایک خاتون پر جنسی حملہ کرنے کے الزامات میں امریکہ میں دیوانی مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔ جس وقت یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت اس خاتون کی عمر 17 سال تھی۔ورجینیا جُفرے کا دعویٰ ہے کہ شہزادہ اینڈریو نے 2001 میں ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی تھی۔
شہزادے کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس کیس کو خارج کر دینا چاہیے۔ وہ 2009 کے ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہیں جو جُفرے نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن نیویارک کے ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ ان الزامات کی سماعت کی جا سکتی ہے۔شہزادہ اینڈریو مسلسل ان دعوؤں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ بکنگھم پیلس نے کہا کہ وہ اس جاری قانونی معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔
مقدمہ خارج کرنے کی اپیل کو نیویارک کے جنوبی ضلعے کے جج لیوس اے کپلان نے اپنے 46 صفحات پر مشتمل فیصلے میں رد کیا، جس کا مطلب ہے کہ اس سال 61 سالہ ڈیوک آف یارک کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو سکتی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جُفرے کہتی ہیں کہ وہ ارب پتی جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں جنسی سمگلنگ اور بدسلوکی کا شکار ہوئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انھیں دوسرے طاقتور مردوں کو بھی سونپا جاتا تھا۔ملکۂ برطانیہ کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے 2019 میں بی بی سی نیوز نائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں کچھ یاد نہیں کہ کبھی ان کی ورجینیا جُفرے سے ملاقات بھی ہوئی تھی، اور انھوں نے کبھی جفرے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھے۔
ان کے وکلا کہتے ہیں کہ جُفرے نے 2009 میں ایپسٹین کے ساتھ ہرجانے کے تصفیے کے بعد عدالت میں کہا تھا کہ وہ ایپسٹین سے منسلک کسی اور شخص پر مقدمہ نہیں کریں گی۔ورچوئل سماعت کے دوران وکلا نے کہا کہ معاہدے کے حساب سے ڈیوک آف یارک ایک ’ممکنہ مدعا علیہ‘ ہیں اور کیس کو ’خارج کر دیا جانا چاہیے۔‘
ورجینیا جُفرے کے وکیل نے کہا کہ صرف تصفیہ کے معاہدے کے فریق ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کوئی ’تیسرا فریق‘ نہیں۔
جج کپلان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاہدہ ڈیوک آف یارک کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھا۔انھوں نے کہا کہ ان کے فیصلے میں ’مدعا علیہ کی مِس جُفرے کے الزامات کی سچائی پر شک کرنے کی کوششوں پر غور نہیں کیا گیا، حالانکہ مقدمے کے دوران ان کی ایسی کوششوں کی اجازت ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کی وجوہات کی بنا پر، عدالت اب یہ فیصلہ نہیں کر سکتی، کہ حقیقت میں، 2009 کے تصفیے کے معاہدے میں جو فریقین نے کیا، جس پر مس جُفرے اور جیفری ایپسٹین کے دستخط تھے، اس کا اصل مطلب کیا تھا۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker