آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: گاجر بوٹی آئی جے!

اگر آپ کا بچپن پنجاب کے دیہات میں گزرا ہے تو ممکن ہی نہیں کہ آپ پنجاب کی مقامی جڑی بوٹیوں سے آشنا نہ ہوں۔اگر آپ ان کے نام نہیں بھی جانتے ہوں گے تو کسی کھیت کی مینڈھ پر، کسی سڑک کے کنارے، کسی فٹ پاتھ کی گھاس میں، کہیں بھی آپ کو یہ کسی پرانے آشنا کی طرح اچانک مل جاتی ہوں گی، ایک ایسے آشنا کی طرح جس کا نام تو یاد نہیں ہوتا مگر اسے دیکھتے ہیں جانے کیا کیا یاد آ جاتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں اور بہت سے کاموں کے ساتھ ایک کام یہ بھی ہوا کہ کتنی ہی بوٹیوں سے، جنھیں دیکھے برسوں بیت گئے تھے، دوبارہ ملاقات ہو گئی۔
باتھو، اٹ سٹ، ولوور، سوانکھ، مورک، ڈیلہ، پیلکاں اور جانے کاسنی، نیلے، گلابی اور پیلے پھولوں والی کون کون سی بوٹیاں نظر آئیں۔ سارا بچپن ان ہی بوٹیوں کے ساتھ گزرا ہے۔ نیلے پھولوں والی بوٹی، جسے مسلنے پر جھاگ سی نکلتی تھی اور ہم اسے ’چڑیوں کا صابن‘ کہتے تھے۔
پیلکاں کے اودے پھل، جن کا ذائقہ کچھ کچھ گوندنی سے ملتا تھا۔ باتھو کے ہرے ہرے پتے، جنھیں ست رنگے ساگ میں ذائقہ بڑھانے کے لیے ڈالا جاتا تھا۔ آک کا زہریلا پودا جس کے پتے مجھے ہمیشہ جنگلی بلے کے کانوں جیسے لگتے تھے، ولوور جسے بیلی بھی کہا جاتا ہے، بھر بھر کے کاسنی برش جیسے پھول، لوسن بوٹی جسے پھونک مار کے اڑانے پر سفید سفید مائی بڈھیاں سارے میں پھیل جاتی تھیں۔
دھتورے کا پراسرار کافوری پھولوں والا پودا اور چبھڑ کی خودرو بیلیں، گھوئیں، بھوئیں اور مدھانہ گھاس کے پنجے نما پھول، یہ سب بچپن کی وہ یادیں ہیں جو مضبوط میخوں کی طرح مجھے میری زمین سے گاڑے ہوئے ہیں۔میں دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں جس موسم میں جو بوٹی اگتی ہے، ہزاروں میل دور سے بھی اس کی مہک مجھے گاؤں واپس کھینچ لاتی ہے۔
لیکن اس برس، جب ساری دنیا میں کرونا وائرس کی وبا غدر مچائے ہوئے ہے، کھیتوں کی مینڈھوں پر اُگتی آشنا جڑی بوٹیوں کے درمیان ایک اجنبی بوٹی بڑی ڈھٹائی سے سینہ تانے کھڑی نظر آئی۔
یہ موسم باتھو کے عروج کا ہوتا ہے اور کھیتوں کی مینڈھوں، نالوں کے کنارے سب طرف درویش صفت باتھو ہاتھ باندھے قطار اندر قطار کھڑا ہوتا ہے۔ مگر اس برس باتھو کے فقط چند خوفزدہ پودے، اس اجنبی بوٹی کے پھیلاؤ میں سے ڈرے ڈرے جھانک رہے تھے۔
سفید سفید چاندی کے گھنگھروں جیسے ننھے ننھے پھولوں سے لدی یہ بوٹی کسی اجنبی حملہ آور کی طرح تاحدِ نظر پرے جمائے کھڑی تھی۔ یہ گاجر بوٹی تھی۔ میں اس بوٹی کو نہیں جانتی نہ وہ مجھے جانتی تھی۔ تھوڑی دیر ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے دیکھتے رہنے کے بعد میں نے بڑھ کے اسے جڑ سے اکھیڑ دیا۔
گو اس عمل کی قیمت مجھے ایک خوفناک الرجی کی صورت ادا کرنا پڑی لیکن میں جان گئی کہ ہمارے ماحول کا توازن بگڑ رہا ہے۔ گلدستوں میں یا جانے کیسے یہ منحوس بوٹی آسٹریلیا سے کچھ برس پہلے پاکستان پہنچی اور یہاں آ کر ’پیسٹ‘ یعنی زحمت بن گئی ہے۔
یہ نہایت تیزی سے پھیلنے والی ایک بالکل غیر منفعت بخش بوٹی ہے۔ جو مقامی بوٹیوں کو ہرا کر ان کے لیے زراعت سے بچی کھچی جگہ بھی چھین رہی ہے۔ چارے کے ذریعے جانوروں میں بیماریاں پھیلا رہی ہے اور انسانی صحت کے لیے سخت مضر ہے۔
گو میں جڑی بوٹیوں کے معاملے میں ایک ذرا مختلف نکتہ نظر رکھتی ہوں۔ میرے خیال میں جڑی بوٹی اپنے قدرتی ماحول میں جی رہی ہے۔ وہ غلط جگہ نہیں ہے۔ ہم اس کی جگہ اپنے لیے چھین کر وہاں اپنے فائدے کے پودے اگا رہے ہیں۔ پھر بھی یہ جڑی بوٹیاں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں اور شاید ہمارا وجود بھی۔ لیکن گاجر بوٹی کے لیے میرا نظریہ بالکل بدل جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا دشمن ہے جو مقامی پودوں، فصلوں، مویشیوں اور انسانوں کی جان کا بیری ہے۔ اسے جلد از جلد اپنے ماحول سے تلف کر دیجیے۔ صرف یہ ہی نہیں، بدیسی درختوں اور پودوں کی جگہ مقامی درختوں پودوں میں حسن تلاش کیجیے، حسن تو یوں بھی دیکھنے والی آنکھ ہی میں ہوتا ہے۔ ہمیں تو دب اور مورک بھی ڈھاکہ گراس سے کہیں زیادہ حسین نظر آتی ہیں۔
دنیا پہلے ہی ایک بڑی آفت کا شکار ہے، جس کے پیچھے سر گوشیوں میں یہ ہی بات چل رہی ہے کہ یہ فطرت سے ناجائز چھیڑ چھاڑ کا منطقی نتیجہ ہے۔ گاجر بوٹی کا پھیلاؤ بھی خدانخواستہ کسی نئی ڈراؤنی کہانی کا پیش لفظ نہ ہو۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker