ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

زندگی ، ریاست ،شہری اور جشن ِ آزادی : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

زندگی شاید اتنی آسان نہیں ،جتنی دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں جو راستے منزل نظر آرہے ہوتے ہیں،وہی درحقیقت سراب ہوتے ہیں، قریب آتے ہی راستہ بدل جاتا ہے اور ہم کھو جاتے ہیں۔ بچپن سے اپنی نانی اماں کو ایک ہی راگ الاپتے سنا، اللہ چلتے پھرتے اپنے پاس بلا لیں،کبھی کسی کا محتاج نہ کریں، نیک بخت دنیا سے ایسے ہی چلی گئیں۔اس وقت اس جملے کی سمجھ نہیں آتی تھی، مگر آج ڈاکٹر بن کر ہر روز کئی کہانیاں دل دہلا دیتی ہیں۔ یہ13 اگست کی رات تھی، میں اپنی کینیڈین نژاد دو جونیئر ڈاکٹرز حنا اور ثنا کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود تھا۔ رات کے دس بج رہے تھے، اور وقفے وقفے سے ہسپتال کے باہر سے آتش بازی کے دھماکے سنائی دے رہے تھے، عجیب سا شور تھا۔یہ آزادی کا جشن تھا۔ میرے سامنے بستر پر چالیس سال کا ایک معذور شخص لیٹا تھا،جس کا کسی زمانے میں چائے کا کوئی سٹال ہوتا تھا، خاندانی دشمنی پر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں گولی مار دی گئی، انصاف کیا ملتا،اس کے علاج پر دس لاکھ لگ گیا ،جس میں اس کی ساری جمع پونجی لگ گئی اور شدید غربت کے ساتھ دو ٹانگوں کی معذوری بھی اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ بستر پر پڑے اس معذور کی ذہنی کیفیت بہت تکلیف دہ تھی، اس حالت میں اس کی بیوی اس کی خدمت گزار تھی اور مانگ تانگ کر اپنا گزارا کررہے تھے اور اوپر سے یہ بیماری۔ حنا بولی ،سر آپ کو پتہ ہے ، کینیڈا میں اٹھارہ سال کی عمر میں آپ کو کوئی جاب نہ ملے تو آپ سٹیٹ کی ذمہ داری ہوتے ہیں کہ جب تک آپ پڑھ لکھ کر اپنے پاﺅں پر کھڑے نہ ہوجائیں،اسی طرح اگر کوئی بیوہ ہوجائے یا اس کی طلاق ہوجائے، تو اس عورت اور اس کے بچوں کا ذمہ کینیڈین سٹیٹ کا ہوتا ہے، اس کا فائدہ پاکستانی اکثر جھوٹ بول کر بھی اٹھاتے ہیں،اور اگر آپ ساٹھ سال سے اوپر کی عمر کے ہیں تو آپ مکمل طور پر سٹیٹ کی ذمہ داری ہیں، آپ کے علاج پر اربوں بھی لگ جائے، کینیڈا دے گا۔آپ کو ہر طرح سے مراعات دی جائیں گی،حتی کہ آپ کو عدالتوں میں بھی آسان سزائیں سہولیات کے ساتھ دی جائیں گی۔ آپ کے کپڑے ، جوتے، کھانے پینے ہر چیز کی ذمہ داری سٹیٹ اٹھاتی ہے۔ یہاں اب آپ اس کو دیکھیں، اگر اس کی مدد لوگ نہ کریں ،تو اس کا کیا بنے گا۔ وہاں تو ایسے Disable شہریوں کو ایکسٹرا سپیشل سٹیزن کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے او ر ان کے جتنے مزے ہوتے ہیں، ہمیں رشک آتا ہے۔ حنا بول رہی تھی اور میرا دماغ باہر آزادی کے دھماکوں کی گونج سے پھٹ رہا تھا، انہی دھماکوں کی گونج مجھے ایک ایسی ریاست کی جانب لے گئی ، جو پوری دنیا میں وہ واحد ریاست ہے کہ جس نے جنگ عظیم دوم کے بعد سے اب تک، دوسرے ملکوں پر سب سے زیادہ بمباری کی ہے۔ اس ملک کی ایجنسیاں پوری دنیا میں سب سے زیادہ فعال ہیں اور جان لیوا مانی جاتی ہیں اور کسی بھی ملک کی تباہی کے لیے امریکہ کو تین دن سے کم وقت درکار ہے۔ اسی ملک کی ایک ریاست Wyoming میں چھوٹا سا ایک قصبہ ہے، جسے ایک امریکی جنرل John Bufford نے امریکی خانہ جنگی کے دوران 1865 میں آبادکیا اور آج یہ قصبہ اسی کے نام سے منسوب ہے۔ 8 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس قصبے کی آبادی 2013 ءکی مردم شماری کے مطابق صرف ایک شخص پر مشتمل ہے اور اس شخص کا نام Don Sammons ہے۔ سردیوں میں شدید برف باری اور منفی بیس ڈگری تک درجہ حرارت رکھنے والے اس قصبے میں Don Sammons کئی دہائیوں سے رہ رہا ہے۔ اس کی بیوی کا تین سال پہلے انتقال ہوچکا ہے اور اس کا اکلوتا بیٹا،اس قصبے کو چھوڑ کر دور جا چکا ہے۔ Don Sammons کا ایک چھوٹا سا جنرل سٹور ہے، جو وہ اپنے مقرر وقت پر کھول کر پورا دن گاہکوں کا انتظار کرکے اسے بند کردیتا ہے۔ پوری سردیاں وہ اکیلا گزارتا ہے اور گرمیوں میں موسم بہتر ہونے کے باعث کوئی اکا دکا سیاح Bufford دیکھنے یہاں آجاتے ہیں۔ حیران کن طور پر امریکی ریاست نے ، اپنے اس ایک شہری کی زندگی کی تمام ذمہ داری لے رکھی ہے۔ یہاں گیس سٹیشن، ڈاک خانہ، ٹیلی فون، انٹرنیٹ ، حتی کہ ریلوے سٹیشن تک موجود ہے، اور یوں آٹھ ہزار فیٹ کی بلندی پر بھی، ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر Don Sammons کو یہاں میڈیکل کی سہولیات کی کوئی ضرورت پیش آگئی تو وہ بھی ریاست بہترین ڈاکٹروں، نرسوں کی صورت میں منٹوں میں فراہم کردے گی۔ یہ فرسٹ ورلڈ امریکہ ہے، جو باقی دنیا کے شہریوں کے لیے جتنا بھی مہلک ہو،اپنے عام شہریوں کے لیے وہ فرسٹ ورلڈ ہی ہے۔ ہم اس فرسٹ ورلڈ کا جب مقابلہ اپنے ملکوں سے کرتے ہیں تو یہ سب سہولیات ،جن میں انصاف جیسی بنیادی ضروریات بھی شامل ہیں،صرف خواص یا VVIP,S تک محدود دکھائی دیتی ہیں اور عام شہری اس سے محروم نظر آتے ہیں۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ زندگی ہے، وہی زندگی جو اتنی آسان نہیں ہے۔ 13 اگست کی رات، جشن آزادی کی آتش بازی کے دھماکوں کا شور، Don Sammons کا لائف سٹائل اور میرے سامنے زندگی کو ترستا ، بلکتا ، میرے ملک کا شہری یہ معذور مریض۔ ایک گونج یہ سوچنے پر مجبور کررہی تھی کہ آج میں معذور ہوگیا، بوڑھا ہوگیا، بے روزگار ہوگیا ،تو بھی اس آزادی کا جشن ، یہ ہرا رنگ ،مجھے اتنا ہی مائل کرے گا یا تب مجھے صرف زندگی کی طلب ہوگی۔ جواب آسان ہے، اور وہ صرف اتنا ہے کہ نہیں، آپ کسی آزادی کے حقیقی جشن کو جو بھی رنگ دے لیں، اصل آزادی کا جشن ،صرف انسانیت میں نظر آئے گا، چاہے وہ آٹھ ہزار فیٹ کی بلندی پر برف کے درمیان، شہر میں اکیلے ہی بیٹھ کر انجوائے کیوں نہ کیا جائے۔جہاں کسی آتش بازی کے دھماکوں کا شور نہیں ہوگا، مگر آپ کو ہر لمحے اس بات کا احساس ہوگا، کہ آپ ایک آزاد مملکت کے شہری ہیں اور مملکت کو آپ کی زندگی عزیز ہے۔ نیک بخت کبھی Don Sammons سے نہیں ملی ،مگر وہ سب جانتی تھی،اسی لیے جوانی سے ہی خدا سے ایک ہی دعا مانگا کرتی تھی ، اللہ چلتے پھرتے اپنے پاس بلا لیں،کبھی کسی کا محتاج نہ کریں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker