ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

یہ کیسے سلسلے تھے؟گونج/ ڈاکٹر عفان قیصر

قبریں تب معدوم ہوتی ہیں، جب عید ، بقر عید یا محرم کے ایام میں ان پر کوئی مٹی نہ ڈالے،پانی کا چھڑکاﺅ نہ کرے اور گلاب کی پتیاں نہ ڈالے،اور انسان تب معدوم ہوتے ہیں ،جب وہ اپنی معذوریوں کو اپنی محرومی بنا لیں،ان کو حرکت نہ دیں،ان میں جنبش نہ پیدا کریں اور جسم کو بے حرارت جیتے جی مزار کا درجہ دے دیں،اور ان پر چڑھاووں کا انتظار کریں۔ نادر میرا بچپن کا یار ہے،اس کی زندگی میرے لیے ذاتی طور پر حرارت کا سبب ہے کیونکہ میں جب نادر کو دیکھتا ہوں، پہلے اس کی ہمت اور پھر رب کی نعمت کو سلام کرتا ہوں۔ ایک شخص جس کی دونوں ٹانگیں بچپن میں ہی پولیوکھاگیا ہو،ان میں کوئی حرکت نہ ہو اور وہ شخص گاڑی چلائے ، سوئمنگ پول میں سوئمنگ کرے اور نوکر رکھنا پسند نہ کرے۔ اب کی بار عید آئی تو اہلیہ کو ڈیوٹی روسٹر میں شدید مشکلات کا سامنا تھا،جونئیر تھی اور عید پر اس کی ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہلے دن ڈیوٹی تھی۔ ہمیں ملتان عید کرنا ہوتی ہے اور یہ سب مشکل تھا۔ ایک دن وہ ہسپتال اس بات کی پریشانی لے کر بیٹھی تھیں کہ سامنے ایک مریضہ کی بیٹی روتی نظر آئیں، اس کو کسی دوسرے ہسپتال رپورٹس اٹھانے جانا تھا،اور وہ اگر ایسانہ کرپاتیں تو شاید ماں کے ٹیسٹ کی اہم رپورٹ ملنا رہ جاتی اور یوں علاج میں مزید تاخیر ہوتی۔اہلیہ نے اس کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور یوں اس کی تمام رپورٹس مل جانے سے اس کو ماں کی اہم رپورٹ بھی وقت پر مل گئی۔ اہلیہ یہ کام کرکے فارغ ہوئیں تو ایک سہیلی کا فون آگیا،وہ کہنے لگی کہ مجھے عید کے پہلے دن ایمرجنسی ڈیوٹی کرنے دو تم تیسرے دن کردینا۔ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی مدد کا فوری صلہ تھا،جو رب نے دیا تھا، مگر اس کے ذریعے میرے لیے میرے والدین سے عید ملنا ممکن ہوا۔ بات شاید اتنی نہیں تھی، قدرت کوئی بڑا کام لینا چاہ رہی تھی۔ ملتان آیا تو مجھے نادر خان کا فون آیا،اس کے والد زمینوں کے تنازع پر دس سال پہلے قتل کردیے گئے تھے اور وہ بیچارہ ویل چیئر پر ان کا مقدمہ دس سال لڑتا رہا تھا، چچازاد بھائی نے قتل کیا تھا اور آج دس سال بعد اسے بری کردیا گیا تھا۔ وہ اداس تھا، میرے ذہن میں نادر کا انٹریو کرنا تھا جو میں نے نجی چینل پرکیا کرتا ہوں، نادر آیا تو خود انٹرویو دینے کی بجائے ، مجھے ممتاز آباد کے 10 ضرب 7 فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں لے آیا۔ یہ ایک کمرے کا مکان تھا، ساتھ چھوٹا سا باتھ روم، وہیں کچن۔ اس کمرے میں ایک بیڈ تھا اور اس پر تین مسکراتی پریاں بیٹھی تھیں۔ یہ تینوں بہت زیادہ خوبصورت تھیں۔ عمریں آٹھ ، دس اور بارہ سال ۔ ماں نے مہمانوں کی آمد سے پہلے ان کو خوبصورت کپڑے پہنا رکھے تھے،یہ تینوں ان کپڑوں میں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ ان بچیوں کا باپ ایک غریب مزدور تھا، یہ پانچ سال کی عمر تک ٹھیک رہیں اور جوں جوں بڑی ہوتی گئیں ،ان کے پٹھے کمزور ہوتے رہے، اب یہ تینوں بچیاں مکمل طور پر اپاہج تھیں، نوبت یہ تھی کہ ان کے لیے بغیر سہارے کے بیٹھنا بھی دشوار ہوگیا تھا اور چند فٹ کے کمرے میں سارا دن ایک پلنگ پر لیٹی یا بیٹھی رہتی تھیں۔ ان کا انٹرویو کرنے کے لیے پلنگ پر ان کے بیچ بیٹھا تو سب سے چھوٹی بچی حفظہ کی ٹانگیں، مجھے سے ٹکرانے لگیں،انٹرویو کے دوران عید پر چوڑیوں اور مہندی کا ذکر کیا تو مفلوج ٹانگوں میں جنبش ہونے لگی اور یہ میری زندگی کے ہزار کے قریب کیے گئے انٹرویوز میں پہلا لائیو انٹرویو تھا جس میں یہ جنبش میری آنکھوں میں آنسو لے آئی۔ان بچیوں کی ماں ان کو کیسے اتنا سجا سنوار کے رکھتی تھیں، وہ کیسے ان کا اتنا خیال رکھتی تھیں؟ یہ سب حیران کن تھا؟ انٹرویو کے دوران ان کے لیے مدد کی اپیل کے بعد ہی پیسوں کی بارش ہونے لگی۔ ملتان کی شدید گرمی میں ایک کمرے کے مکان سے باہر نکلا تو باہر بادل گرج رہے تھے اور بارش ہورہی تھی، گاڑی میں بیٹھا، تو اکاﺅنٹ میں برطانیہ سے لاکھ روپے آنے کا میسج آیا، ایک ڈاکٹر دوست نے ان بچیوں کے لیے یہ رقم بجھوائی تھی۔ پھر ان کے لیے امریکہ سے مکان اور لاکھوں روپے کی مدد آنے لگی۔بارش تیز ہوتی گئی اور ساتھ ہی میرے آنسو بھی۔گاڑی کی ڈگی میں نادر کی ویل چیئر پڑی تھی، پچھلی سیٹ پر نادر بیٹھا تھا اور میں گاڑی چلا رہا تھا۔ خدا نے مجھے ملتان عید سے پہلے ماں باپ سے ملنے نہیں بلوایا تھا؟ یہ کہانی کچھ اور تھی؟ حفظہ عید پر نئے کپڑوں اور چوڑیوں کی ضد کررہی تھی اور گھر فاقے چل رہے تھے۔ میری اہلیہ جس مریضہ کی بیٹی کے ساتھ اس کی رپورٹس اٹھانے گئی تھیں ،وہاں سے حفظہ کی عید کی تیاری شروع ہوئی تھی۔ یہ میری بیگم کی نیکی یا اس کا صلہ نہیں تھا، خدا کسی اور ہی کی سن رہا تھا۔ بے حس و حرکت آٹھ سال کی بچی ، اس گھٹن سے بھرے کمرے میں بستر پر پڑی ،دعا مانگ رہی تھی اور خدا اسے پوراکرنے کی پلاننگ کا آغاز کہاں سے کررہا تھا؟یہ کیسے سلسلے تھے؟ بارش میں حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے روشنیوں کے چمکتے مزار کے سامنے سے گزرا، بے اختیار حاضری کے لیے اترا، تو دربار کے باہر بارش میں ملنگ دھمال ڈالتے نظر آئے، حفظہ کی بے حس ٹانگوں کی جنبش نے میری رانوں میں اتنی جان ڈالی تھی کہ دل کیا آج خود بھی ملنگ ہوجاﺅں اور ان کے ساتھ دھمال ڈالوں۔ یہ سلسلے مجھے کہاں لے آئے تھے؟ میں ذات کا ڈاکٹر ، میں یہ سب کہاں مانتا تھا؟مگر میں نے یہ سب دل سے محسوس کیا تھا۔ میں اندر جا کر مسجد میں رب کے حضور سجدے میں گرگیا ، بار بار اپنی ٹانگوں کو ہاتھ لگا کر شکر ادا کرنے لگا۔ میرا رب مجھے ملتان لایا، نادر کو گھر لایا ، مجھے چند فٹ کے مکان میں کھینچ کر لے گیا اور حفظہ کی چوڑیوں اور مہندی کی خواہش پوری کردی اور اس سے بھی زیادہ مجھے رب نے اپنی قدرت اور نعمتوں کا احساس دلایا۔ میں کئی دنوں سے ذہنی تناﺅ میں تھا، مسائل کیا تھے ، کبھی مریضوں کا سٹریس، کبھی ڈاکٹری کی پڑھائی کا ، کبھی کام سیکھنے کا، کبھی ہسپتال میں کام کی جگہ پر زیادتیوں کا غصہ، کبھی کوئی صحافتی مشکل مگر ان میں کوئی بھی مسئلہ نادر جیسا نہیں تھا؟ اور ان بچیوں جیسا تو بالکل بھی نہیں تھا۔ سامنے اللہ کے نیک بزرگ حضرت شاہ رکن عالم ؒ کا مزار تھا، میں تغلق فن تعمیر کے شاہکار مزار کے اندر زمین پر سجدہ ریز تھا، یہ مزار دہلی کے سلطان غیاث الدین تغلق نے اپنے لیے بنوایا تھا،جن کا مزار اب دہلی میں ہے۔ اسی بادشاہ سے روایت ہے کہ ان کے خاندان میں امیر ترین شہزادے کو آنکھوں کی پتلیوں کی بیماری لاحق تھی،اس کی پتلیاں اپنی مرضی سے کھل بند نہیں سکتی تھیں اور اس شہزادے نے اپنی ساری دولت اس شخص کے نام وقف کرنے کا اعلان کیا تھا،جو اس کو اس بیماری سے نجات دلا دے۔ خدا کے حضور سجدے میں اس مزار کا سحر نجانے دماغ میں کیا کیا خیالات لارہا تھا؟ یہ سب ان سوچوں کا محور ہے جو میرے دماغ میں اس وقت چل رہی تھیں۔ حفظہ پھر مزدور کی بیٹی تھی، میں تغلق خاندان کا شہزادہ بھی ہوتا تو بھی میں اپنے رب کی نعمتوں اور رحمتوں کو خرید نہیں سکتا تھا۔ میں بھیگی آنکھوں سے مزار سے باہر نکلا، تیز بارش ہورہی تھی، سامنے گاڑی میں نادر، ملنگوں کو ڈھول کی ٹاپ پر رقص کرتا دیکھ رہا تھا۔ جاندار پیر فرش پر پڑتے، بارش کا پانی اچھال دیتے اور یہ منظر اپنے اندر ایک وجد کی کیفیت لیے تھے۔ نادر اپنے اندر ہمت کی ایک کتاب تھا۔ میں جس اللہ کے ولی کے مزار سے آیا تھا وہ معدوم نہیں تھا، یہاں عید ، بقر عید یا محرم کے ایام پر پانی کا چھڑکاﺅ بھی ہوتا تھا، گلاب کی پتیاں بھی ڈالی جاتی تھیں، بالکل ویسے جیسے نادر اپنی معذوری کو جنبش، حرکت سے زندہ رکھے تھا، وہ بھی معدوم نہیں تھا اور نہ ہی چڑھاووں کے انتظار میں تھا۔ میں نادر کی پرسکون مسکراتی آنکھوں سے دھمال ڈالتی ٹانگوں کو دیکھنے لگا۔ سیاہ بادلوں کے پردوں میں حالت سکوت میں چھپی حقیقت ِمنتظر کا منظر ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ یہ پہلی بار دیکھا تھا، حفظہ کی ٹانگوں کی جنبش میں، دھمال ڈالتے ملنگوں کے رقص میں اور ان کو تکتی نادر کی آنکھوں میں، صنم آشنا دل کو جو منظر نماز کے سجدے نہ دکھا سکے،وہ بارش میں ڈالی ان دھمالوں نے دکھا دیا۔ یہ کیسے سلسلے تھے؟ یہ میرا رب جانتا تھا، حقیقتِ منتظر جانتی تھی۔

کبھی اے حقیقت ِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
طربِ آشنائے خروش ہو تو نوائے محرم گوش ہو
وہ سرو ر کیا کہ چھپا ہو ا سکوتِ پردہ ساز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملے گا نماز میں

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker