ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

ریاست، لائف سٹائل کا چکر اور مرید : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

زندگی شاید اتنی آسان نہیں ،جتنی دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں جو راستے منزل نظر آرہے ہوتے ہیں،وہی درحقیقت سراب ہوتے ہیں، قریب آتے ہی راستہ بدل جاتا ہے اور ہم کھو جاتے ہیں۔ اس سفر میں سب سے مشکل سفر بھوک سے لڑائی کا ہوتا ہے، وہ بھوک جس کی تعریف تو شاید کھانے ،پینے اور جنس کی خواہش سے شروع کرتا ہے، مگر انسان بڑھتا بڑھتا جب لگژری لائف سٹائل کی طرف آتا ہے تو یہ بھوک حوس بن جاتی ہے اور انسان بالآخر اس کا خود نشانہ بن جاتا ہے۔ امریکہ کی ایک ریاست Wyoming میں چھوٹا سا ایک قصبہ ہے، جسے ایک امریکی جنرل John Bufford نے امریکی خانہ جنگی کے دوران 1865 میں آباد کیا اور آج یہ قصبہ اسی کے نام سے منسوب ہے۔ 8 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس قصبے کی آبادی 2013 ءکی مردم شماری کے مطابق صرف ایک شخص پر مشتمل ہے اور اس شخص کا نام Don Sammons ہے۔ سردیوں میں شدید برف باری اور منفی بیس ڈگری تک درجہ حرارت رکھنے والے اس قصبے میں Don Sammons کئی دہائیوں سے رہ رہا ہے۔ اس کی بیوی کا تین سال پہلے انتقال ہوچکا ہے اور اس کا اکلوتا بیٹا،اس قصبے کو چھوڑ کر دور جا چکا ہے۔ Don Sammons کا ایک چھوٹا سا جنرل سٹور ہے، جو وہ اپنے مقرر وقت پر کھول کر پورا دن گاہکوں کا انتظار کرکے اسے بند کردیتا ہے۔ پوری سردیاں وہ اکیلا گزارتا ہے اور گرمیوں میں موسم بہتر ہونے کے باعث کوئی اکا دکا سیاح Bufford دیکھنے یہاں آجاتے ہیں۔ حیران کن طور پر امریکی ریاست نے ، اپنے اس ایک شہری کی زندگی کی تمام ذمہ داری لے رکھی ہے۔ یہاں گیس سٹیشن، ڈاک خانہ، ٹیلی فون، انٹرنیٹ ، حتی کہ ریلوے سٹیشن تک موجود ہے، اور یوں آٹھ ہزار فیٹ کی بلندی پر بھی، ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے اور جب ریاست ایسے ذمہ داریاں اٹھا لیتی ہے تو انسان سب فکر وں سے آزاد ہوجاتا ہے،وہ جو محنت کرتا ہے زندگی میں لگژری یعنی بہترین لائف سٹائل کے لیے کرتا ہے اور باقی ہر فکر ریاست کی ہوتی ہے۔



مجھے آج بھی یاد ہے کہ دس سال پہلے جب راقم القلم نے میڈیا میں اثر رسوخ بڑھنا شروع کیا تو میڈیا کی دنیا میں تعلقات ایک چھتری کے نیچے پھلنے پھولنے لگے۔ یہ سب فیس بک فرینڈ شپ کے ذریعے ایک سفر کا آغاز تھا، میری معروف صحافی ناصر بیگ چغتائی صاحب سے دوستی ہوئی اور وہ ایک سایہ دار ایسا درخت ثابت ہوئی کہ کئی کونپلیں پھوٹنے لگیں،آج ٹی وی پر بطور مشہور اینکر پرسن نظر آنے والے کئی نوجوان چہرے جو راقم القلم کے اب گہرے دوست ہیں،اسی درخت کے نیچے مجھ سے ملے اور یوں دوستی کے سلسلے بڑھتے گئے،ان میں ایک نام مرید عباس کا بھی تھا۔ مرید سے جو دوستی تھی، فیس بک پر تھی، مگر یہ اتنی گہری تھی کہ ہم انجانے میں ایک دوسرے کے بارے میں سب جانتے تھے۔ مرید وہ بچہ تھا جو میانوالی کی تحصیل پپلاں یعنی لیاقت آباد کے نواحی علاقے سے کراچی گھروں میں کام کرنے آیا تھا،وہاں اس کو تر س کھا کر پڑھا دیا گیا اور یوں وہ محنتی لڑکا آگے بڑھتا گیا، جلد وہ بڑے میڈیا ہاﺅسز کی زینت بن گیا اور یوں آج وہ ملک کا ایک جانا مانا چہرا تھا۔ جب آپ زندگی کی اتنی منازل طے کر لیتے ہیں تو آپ بنیادی ضرورتوں سے لگژری کی طرف داخل ہوتے ہیں اور یہاں وہ ریاست جو بنیادی ضروریات کی ذمہ داری نہ لیتی ہو ،لگژری کے خواب کو بہت مہنگا کردیتی ہے ۔یوں اس بچے کی بنیادی ضروریات جو شاید روٹی کپڑے سے زیادہ نہ تھیں، لگژری میں بدل گئیں اور اس لائف سٹائل کو پاکستان جیسے ملک میں برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔ پاکستان میں اس لیے کیونکہ یہاں تھرڈ کلاس گاڑیوں پر بھاری ٹیکس، بچوں کے سکول کی بھاری فیس، علاج کی اچھی سہولیات سمیت، آپ کا سانس بھی آپ نے خود کمانا ہوتا ہے اور جو غریب ملک اپنے باشندوں کو بنیادی ضروریات تک کے لیے Disown کردے وہاں لگژری لائف سٹائل کے لیے یاں تو بہت محنت کرنا پڑتی ہے یا ں پھر کوئی مثبت شارٹ کٹ اختیار کرنا پڑتا ہے،بے شک حلال ہو،مگر پرکشش ہو تو اچھے بھلے انسان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی سی بندھ جاتی ہے۔ ملک میں ایک معروف چینل پرکشش آفرز کے ساتھ لانچ ہوا اور پھر پابندیوں کے باعث بند ہوگیا، مرید اس کا حصہ تھا اور یہاں مرید نے روزگار کے لیے مزید ہاتھ پیر مارنا شروع کردیے۔ راتوں میں پریشانی کے عالم میں چائے کے ہوٹلوں پر مرید کی ملاقات عاطف سے ہوئی اور یہاں مرید پرکشش لائف سٹائل کے لیے ایک جال میں پھنس گیا۔ عاطف کا ٹائروں کا بزنس تھا جو کہ بہت ہی تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ وہ خود بھی بہت کما رہا ہے اور جو انویسٹ کر رہا ہے اسے ریٹ آف ریٹرن بھی بہت اچھا دے رہا ہے حتی کہ بینک کے ریٹ آف ریٹرن سے بھی زیادہ۔ چونکہ عاطف کا لائف سٹائل خاصا مرعوب کن تھا کراچی ڈیفنس میں فلیٹ میں رہائش ، پراڈو یا لینڈ کروز جیسی جیپ وغیرہ وغیرہ جو شاید لوگوں کا ہی پیسہ تھا جو مال مفت دل بے رحم کی طرح اڑایا جارہا تھا اور شو بنائی جارہی تھی ۔



عاطف کے بزنس میں مرید نے پہلے تھوڑا پیسہ انوسٹ کیا اور جب بہترین منافع ملنے لگا تو مرید نے اس میں اپنا پچاس لاکھ لگا دیا اور نہ صرف یہ بلکہ اور دوستوں کے پیسے بھی لگا دیے اور یوں یہ کہانی ایک اندازے کے مطابق تین سو کر وڑ تک جا پہنچی۔ عاطف منافع دیتا رہا اور سب ٹھیک چلتا رہا، ملک کے حالات تبدیل ہوئے ، ایمنسٹی سکیم کا عمل دخل ہوا، ٹیکس میں سختی ہوئی تو عاطف کا بزنس جو نجانے کیسے ٹائروں سے اتنا کماتا تھا؟ نقصان میں جانے لگا۔ مرید نے منافع دینا بند کردیا تو مرید عباس جو اب تک اپنے ایک کر وڑ سے زائد عاطف زمان کے حوالے کرچکا تھا، رقم کی واپسی کا تقاضہ کرنے لگا۔ اسی طرح مرید کا دوست خضر بھی اپنی اچھی خاصی رقم عاطف زمان کے پاس پھنسا چکا تھا۔ تقاضہ بڑھا تو عاطف زمان نے مرید عباس اور خضر کو ایک شام اپنے پاس بلا کر ،ان پر فائرنگ کردی ،جس کے نتیجے میں مرید عباس اور خضر حیات کی جان چلی گئی اور بعد میں عاطف زمان نے خود کو بھی گولی مار کر شدید زخمی کرلیا، بظاہر خودکشی کی کوشش کرنے والا عاطف دسویں جماعت میں بھی ایسی ہی خود کشی کرچکا تھا، مرکزی ملزم عاطف جہاں مرید اور خضر کا کر وڑوں روپیہ ہڑپ کرگیا ،وہیں ان کے لگژری لائف سٹائل کے خواب کو بھی گولیوں سے چھلنی کرگیا۔ پپلاں کا مرید گھروں میں کام کرنے روشنیوں کے شہر آیا تھا،ان روشنیوں میں اتنا کھو گیا کہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے اس کا مقدر بن گئے۔ آج بھی یہ سوال نیندیں اڑا دیتا ہے کہ مرید کو کس نے مارا؟ اکنامک ال لٹریسی نے کہ جس میں مرید کو اتنا محنتی اور بہترین اینکر پرسن ہوتے ہوئے کبھی عاطف کے اتنے ریٹ آف ریٹرن کا خیال نہ آیا کہ اتنا پیسہ وہ کیسے اور کہاں سے لارہا ہے؟ یا پھر سٹیٹ کے اس Disown کرنے کی روایت نے کہ جہاں لاکھوں کما کر بھی سب بنیادی ضروریات پوری کرنے میں لگ جاتا ہے اور انسان کو لگژری کے لیے ایسے راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں؟ یا پھر اس معاشرے نے کہ جہاں اب فیس بک،انسٹا،ٹویٹر پر دنیا صرف اپنا اچھا لائف سٹائل دکھا کر ذہنوں کو اس قدر مرعوب کردیتی ہے کہ وہ عاطف زمان جیسے لوگوں کی اصل جانے بغیر ان کے منافع کے چکر میں پھنس جاتے ہیں، بالکل ڈبل شاہ کی طرح ،اور رقم ڈبل کرنے کے چکر میں سنگل زندگی بھی گنوا دیتے ہیں۔ یاں پھر مرید اور خضر کا اصل قاتل یہ معاشرہ ہے کہ جس میں بے جا بڑھتی آبادی، دہشت گردی اور نفسا نفسی نے انسان کو جینے کے لیے عاطف جیسے لوگوں کے حوالے کردیا ہے اور یہ لوگ سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بن کر مرید اور خضر جیسے لوگوں کو ان ضروریات کی رقم دیتے ہیں جو باہر کم آبادی اور اچھے وسائل خود انسان کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ نہیں ،مرید کو شاید اس اکنامک سسٹم نے مارا جس میں آج ہم زندہ رہنے پر مجبور ہیں جہاں ہر شخص آنے والے مستقبل کے خدشات سے لرزتا رہتا ہے کہ کل کلاں کو مجھے کچھ ہوگیا تو میرے گھر کا میرے بچوں کا کیا ہوگا ؟ کون انکے منہ میں نوالہ ڈالے گا ؟ اور دوا دارو کریگا ؟ کیونکہ ریاست کی طرف سے تو نہ علاج کی ضمانت ہے اور نہ فوڈ ، شیلٹر کی کوئی سیکیورٹی ہے جس نے کرنا ہے ” اپنا ” کرنا ہے۔ نوکری چھوٹ جائے تو کوئی دوست یار بیچارہ ایک ماہ سے زیادہ ادھار نہیں دے سکتا لوگ ملنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ امن و امان کا یہ عالم ہے کوئی بھی کسی کوبھی کہیں مار سکتا ہے۔ نجانے کون سا قاتل کس سے سپاری لیکر آپ کو اوپر پہنچا دے۔ نہ جانے کون گاڑی کی سیٹ سے پستول نکال کر تان دے۔ کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تو کل اچھی چیز ہے لیکن اپنی آنکھوں کے سامنے کسی امیر و کبیر شخص کے مرنے کے بعد اسکے بچوں کو در بدر پھرتے دیکھ کر ایمان ہل جاتا ہے۔ روٹی کی بھوک تو بندہ کھا جاتی ہے انسان کی انسانیت کیا چیز ہے۔ بھوک کی اصل تعریف میں شاید ،ہم میں موجود ہر شخص مرید ہے اور دو وقت کی روٹی کو ہر لمحہ ترسنے کے بعد لگژری کی طرف قدم بڑھاتے ہر مرید کی مدد کرنے والا ہر دوسرا شخص عاطف۔ کاش یہاں ہر مرید Don Sammons ہوجائے اور ہر عاطف امریکی ریاست ،تو بھوک جب لگژری کی شکل اختیار کرے تو وہ تھوڑی سی محنت سے حاصل ہوجائے،اس کو کسی ریٹ آف ریٹرن کے چکر میں جان نہ گنوانی پڑے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker