ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

ہاتھی کے ساتھ لڑائی میں چیونٹی مسلی جاتی ہے : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

تاریخ ویت نام کو کیسے بھول سکتی ہے۔ یہ بظاہر ہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی تھی۔ مورخ یہی لکھتے ہیں کہ اس میں ہاتھی کو بدترین شکست ہوئی، مگر شاید دنیا نے پلٹ کر کبھی چیونٹی کی حالت نہیں دیکھی۔ویت نام کی جنگ 1973ءمیں ختم ہوئی،اس میں امریکہ کے اٹھاون ہزار فوجی مارے گئے،امریکہ کا ایک ہزار ارب ڈالر اس جنگ میں راکھ ہوگیا۔ اس جنگ کے بعد ویت نام کھنڈر ہوگیا،بیس لاکھ نہتے شہری مارے گئے،دس لاکھ فوج ماری گئی،اس جنگ نے ویت نام کی معیشیت تباہ کردی اور وہ ملک تباہ و برباد ہوگیا۔2003ءمیں امریکہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ عراق میں اترا،اور عراق تباہ و برباد ہوگیا،اس میں لاکھوں عراقی مارے گئے، عراق پوری دنیا کی ایجنسیوں کی آماج گاہ بن گیا،عراق میں تعلیم،روزگار سب ختم ہوگیا۔لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے،خاندان کے خاندان اجڑ گئے،اور جو ظلم صرف شک کی بناہ پر عراق کی جیلوں میں ڈھایا جاتا رہا،وہ بھی پوری دنیا نے تصویروں میں دیکھا۔
امریکہ نے اٹھارہ سال پہلے افغانستان پر حملہ کیا،یہ حملہ بظاہر جس مقصد کے لیے کیا گیا،وہ پورے دنیا میں کینسر بن کر پھیل گیا،اسامہ بن لادن تو مارا گیا، مگر القائدہ جیسی کئی تنظیموں نے مشرقی وسطی سمیت پوری دنیا کا رخ کرلیا،امریکہ کے ہزاروں فوجی مارے گئی،کئی لاکھ ڈالرز اس جنگ میں لگ گئے ،مگر امریکہ بہترین معیشت اور سپر ہی رہا۔افغانستان کی جنگ وہ جنگ تھی کہ جس میں پاکستان براہ راست میدانِ جنگ بنا،اس میں ایک لاکھ پاکستانی ایک ایسی جنگ کا شکار ہوگئے،جس کا اس ملک سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہماری وادیاں بارود ہوگئیں،ہماری معیشت تباہ ہوگئی، بے روزگاری بڑھی،لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ، ہم پر پوری دنیا میں دہشت گردوں کی آماج گاہ کا لیبل لگ گیا اور امریکہ بہادر کا اس میں سوائے ڈالروں اور کچھ فوجیوں کے کچھ نہیں گیا۔
ایران اور امریکہ کی ممکنہ جنگ کو ہم سب نے بہت چھوٹے کینوس پر دیکھا ہے۔کسی نے اسے اسلام اور کفر کی جنگ کہا،کسی نے اسے تیسری عالمی جنگ کہا اور کسی نے اس کو امریکہ کے سپرپاور غرور کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے سے تشبیح دی۔ مگر اس سب میں دو غلطیاں کی گئیں، سب افغانستان،ویت نام ،عراق بھول گئے اور سب خود پاکستان بھول گئے۔ جنرل سلیمانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تھے۔ یہ ایران کی اس فوج کا نام ہے جو ایران کی سرحدوں سے باہر ایران کے قومی مفادات کو دیکھتی ہے۔اسی کی ذیلی ا لقدس بریگیڈ نے عراق،لبنان،شام میں ایران کے انقلابی ِ ویژن کے لیے بہترین کام کیا ، لبنان سے حزب اللہ،عراق سے حرکتہ النجابہ، افغانستان سے فاطمیوں کی بہت بڑی فوج اس بریگیڈ کا حصہ بنی۔ القدس بریگیڈ نے جنرل سلیمانی کے دور میں دو بڑے کام کیے،ان میں ایک بشار الاسد کے اقتدار کو بچانا تھا اور دوسرا عراق سے داعش کا خاتمہ تھا۔یہ دونوں بظاہر پاسداران کی مسلمانوں کی بقا کی لڑائیاں تھی، مگران میں لاتعداد مسلمان مارے گئے اور حیران کن طور پر ان سب میں القدس بریگیڈ کی ماسٹر پلاننگ میں امریکہ ان کے ساتھ رہا۔ داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی مارا گیا، داعش کا زور عراق میں ٹوٹ گیا، داعش نے کئی مسلمانوں کو اپنااسلام قبول کرانے کے چکروں میں ان کی گردنیں کاٹ دیں،اور بعد میں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ البغدادی بھی اسامہ کی طرح ،خود امریکی سی آئی اے کی پیداوار تھا۔
برطانوی اخبار دی ویک 2015 میں ایک کارٹون شائع کرتا جس میں جنرل سلیمانی کو انکل سام کے ساتھ دکھایا جاتا ہے،یعنی 2015ءتک جنرل سلیمانی امریکہ کا آئی کینڈی تھا۔ مقصد پورے ہوگئے تھے، پورے مشرقی وسطی میں آگ لگا دی گئی تھی، خود ایران کی معیشیت کا اچھا خاصہ پیسہ پاسدران ِ انقلاب کے نام پر فرقہ واریت یا عرب و عجم کی جنگ میں جھونکا جاچکا تھا،چنانچہ ایبٹ آباد میں اترے ہیلی کاپٹر کی طرح ،یہاں کام ڈرون سے کردیا گیا۔ سپاہ پاسداران ِ انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ جنرل حاجی زادہ کی پریس کانفرنس اہم تھی،اس میں ایران کے علاوہ، حزب اللہ، حشد الشعبی،انصار اللہ،فاطمیوں،زینبیوں کا پرچم لگا تھا۔امریکہ فوجی اڈے عین الاسد پر حملے پر اپنی عسکری طاقت کا بیان دیا گیا،اور ساتھ ہی امریکہ کو دھمکیاں لگائی گئیں۔ یہ سب یہ پیغام تھا کہ ہم نے جان کر کوئی میزائیل امریکہ کے اڈے کے اصل مقام پر نہیں پھینکا،کیونکہ ہم امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے،ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد،وہ ملک جس پر کسی نے ایک گولی تک نہ چلائی ہو،ہم نے تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ ہم میں امریکہ سے لڑائی کی طاقت ہے۔ادھر امریکہ کے صدر ٹرمپ پوری دنیا کے کیمروں کے سامنے آئے،یہ خطاب پوری دنیا کے ہر چینل پر براہ راست نشر کیا گیا،اور باتیں کچھ ایسی ہی تھیں ،کہ ایران نے جو کیا ہماری امداد سے کیا،ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا،ہم جنگ نہیں چاہتے اور ہم ایران پر مزید سخت پابندیاں لگائیں گے۔
حیران کن طور پر اس پورے معاملے پر اسرائیل اور سعودی عرب نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ہم اس سب لڑائی کو فرقہ واریت سے باہر نکل کر اگر بڑے پردے پر دیکھیں، تو سپاہ پاسداران ِ انقلاب نے اب تک جنہیں مارا وہ سب مسلمان تھے، القائدہ نے جنہیں مارا وہ بھی سب مسلمان تھے اور داعش نے جتنے لوگ ذبح کر ڈالے،وہ سب بھی مسلمان تھے۔ یہ سب پلاٹ ایسے ہے کہ جیسے امریکی سی آئی اے کوئی افسانہ تحریر کرتی ہے،کردار پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر کام پورا ہونے پر انہیں مار دیا جاتا اور ایسا صرف اسامہ ،البغدادی تک محدود نہیں،یہ سب صدام حسین، کرنل قذافی تک بھی جاتاہے۔ مطلب ایک وقت میں امریکہ کے آئی کینڈی شہزادے اور دوسرے وقت میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد اور ختم۔ ان سب جنگوں میں کچھ مقاصد پورے ہوتے ہیں، درجنوں مسلمان برباد ہوجاتے ہیں ، درجنوں بے گھر ہوجاتے ہیں،مسلمانوں کی نسلیں تعلیم،روزگار،اچھے مستقبل سے محروم ہوجاتی ہیں، مشرقی وسطی میں گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہوتا ہے،امریکہ کی دی امداد سے ہی اسلحہ خریدا جاتا ہے ،مسلم دنیا میں شورش جنم لیتی ہے، اور امریکہ کئی لاکھ ڈالر لگا کر بھی پہلے سے زیادہ مضبوط معیشیت اور بڑی سپر پاور بنتا ہے۔
ہاتھی اور چیونٹی کی اس لڑائی میں ایران کو ہوا دینے والے،یہ حقیقت جان لیں کہ اگر یہ جنگ ہوتی ،تو میدان ِ جنگ عراق ہوتا، یہ جنگ براہ راست ایران کی سرزمین کو ٹارگٹ کرتی،ایران بظاہر یہ جنگ جیت بھی جاتا تو وہ اگلا ویت نام ہوتا اور سی آئی اے کو اپنا کام کرنے کے لیے ایک اور بڑا شورش زدہ تباہ حال اسلامی ملک مل جاتا،جہاں پھر کوئی القائدہ،داعش جنم لیتی ،اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پھر کسی پاکستان کو تورا بورا بنانے کی دھمکی دی جاتی، پھر کوئی پاسدارانِ انقلاب پیدا کی جاتی، مسلمان وسیع تعداد میں مسلمانوں کا ہی گلہ کاٹتے ۔ یہ صلیبی جنگوں کی گوریلا شکل کے طویل سلسلے ہیں۔ یہ سب تماشہ صدیوں سے برپا ہے،جس کا اصل نتیجہ روزِ محشر ہی نکلے گا۔ اس تماشہ کے کھلاڑی بس رسول پاک ﷺ کا ایک فرمان یاد رکھیں’ جب کو ئی دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جانے والے بن جاتے ہیں‘۔ اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی اجازت دینے والے یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ اڈے آپ کی قریبی زمین پر آگ لگاتے ہیں ،وہ آگ جو کسی وقت بھی آپ کی ہر گلی بارود کردیتی ہے۔ آخر میں ہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی کو حوصلہ دینے والے یہ بھی یاد رکھیں کہ لڑائی کے بعد ہاتھی ہارکر بھی ہاتھی ہی رہتا ہے،جبکہ چیونٹی جیت بھی جائے تو مسلی جاتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker