امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس )نے چند روز پہلے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں پاکستان کے گزشتہ انتخابات کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں اور حکومت امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے اس سلسلے میں بات کرے یہ بھی تقاضا کیا گیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی پر بھی سختی سے بات کی جائے اس طرح کے چند اور مطالبات بھی اس قرار داد کا حصہ ہیں جس پر پاکستان میں متضاد ردہائے عمل سامنے آئے ہیں ۔
تحریک انصاف اور اس کے حامی اس پر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں کہ ان کی کافی مہنگی لابنگ کام کرگئی اور امریکہ کے سب سے اہم جمہوری فورم نے ان کے موقف کی حمایت کردی ہے اور اب امریکہ کی موجودہ اور آئندہ حکومت پاکستان پر ان کے حق میں اپنا دباو بڑھادے گی اور یوں پاکستان کے بقول ان کے اصل حکمران ایک بار پھر ان سے بات کرنے اور ان کے ساتھ حسب سابق ایک صفحہ پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اس صورت حال سے کھبرا کر موجودہ حکمران سکتے کی سی حالت میں لگتے ہیں اس لئے ایک طرف تو وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بانی تحریک انصاف عمران خان کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے میثاق معیشت پر یکجا ہونے کے اپنے دعوے کو دہرایا ہے اور دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکہ کے خلاف ایک سخت بیان داغ دیا ہے اور قرارداد کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے لیکن حکومتی جماعتوں کا عمومی انداز بے حد کنفیوژن کا شکار لگتا ہے کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کہاجائے اور کیا کیا جائے؟
امریکہ بہادر کی ناراضی کا ڈر ان کی زبانوں کو روکنے کیلئے کافی ہے۔۔۔ بس تحریک انصاف کو یہ طعنے دے کر دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے کہ سائیفر کیس کے معاملے میں پی ٹی آئی والوں نے بھی امریکی مداخلت کا واویلا کرکے ایک پاپولر بیانیہ بنایا تھا جسے عوام نے امریکہ سے اپنے روایتی love hate کے گوڑھے رشتے کے باعث بہت پذیرائی دی دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا ہر شہری امریکہ سے شدید نفرت کے باوجود اپنا تن من دھن اور شاید ضمیر بھی بیچ باچ کر اپنے خوابوں کے مطابق اسی جنت نظیر(؟) ملک میں خود جانا چاہتا ہے یا اپنی اولاد کو بھیجنا چاہتا ہے۔ خیر یہ محض ایک جملہءمعترضہ تھا ۔۔۔ ہم پاکستانیوں کی سادگی یہ ہے کہ ہم جو پاکستانی سیاست اور پولیٹیکل اکانومی کے ہر معاملے میں سازشی تھیوریز تلاش کرتے اور گھڑتے ہیں اس معاملے کو صرف پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھ اور سمجھ رہے ہیں یعنی امریکی اتنے بھولے بادشاہ ہیں کہ امریکہ کی کانگریس کے اکثر ممبران تحریک انصاف کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور ہو گئے لیکن امریکی کانگریس کی تاریخ اس سے مختلف کہانی سناتی ہے کیونکہ عالمی سیاست کے بازیگر سیدھی سادی بساط کبھی نہیں بچھاتے ۔۔۔ (جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

