ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : رسول پاک ﷺ کی تعلیمات اور موجودہ طبقاتی تقسیم

کرہ ارض پر آنے والے انبیاء یا اولیاء کی زندگیوں سے الوہیت نکال دی جائے تو ان میں سے بیشتر ہمیں صرف انسانیت، مساوات اور ظلم اور ملوکیت کے خلاف احتجاج کا سبق دیتے نظر آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی خدائی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، حضرت عیسی علیہ السلام نے انسانی برابری کا سبق دیا اور جذ ام کے ایسے مریضوں سے محبت اور ہمدردی کا پیغام دیا جنہیں اکیس سو سال پہلے شہر بدر کر کے سماج سے کاٹ دیا گیا تھا۔
اسی طرح حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم پندرہ سو سال پہلے عرب کے ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جو خود کو باقی دنیا سے بہتر تصور کرتا تھا اور جس کی گردن تکبر سے تنی رہتی تھی۔
کالے اور گورے کے درمیان تفریق صدیوں پرانی ہے اور کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ جونیر اور نیلسن منڈیلا جیسے بیسویں صدی کے عظیم رہنماؤں نے جو پیغام دیا تھا وہی پیغام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم پندرہ سو سال پہلے عرب سماج میں دیتے نظر آتے ہیں، انہوں نے غلام اور آقا کے سماج میں مساوات کا تصور دیا جو اس زمانے میں ایک عجیب و غریب اور غیرمنطقی بات سمجھی گئی ۔آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، گورے کو کالے پر اور امیر کو غریب پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو، جو ایک سیاہ فام حبشی تھے، سب سے بلند مقام پر کھڑا کر کے مسلمانوں کو آواز دے کر اکٹھا کرنے کا کام سونپ دیا۔ ان کے کالے رنگ اور زبان کی لکنت پر عرب مسلمان ہنسنے لگے جس پر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں خاموش کر دیا۔ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی رائج کردہ صلوٰۃ جو بظاہر ایک مذہبی رسم تھی ہر طبقے اور رنگ و نسل کے افراد کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے مساوات کا درس دیتی تھی۔
عرب سردار حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی نافذ کردہ غیرروایتی تبدیلیوں کے خلاف متحد ہو گئے۔لیکن حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے انقلابی اصولوں پر عوام کی اکثریت کی سیاسی حمایت حاصل کر لی اور عرب سماج کو اپنے افکار سے بدلنے کی کوشش کی۔ عرب سرداروں نے جب دیکھا کہ اس انقلاب کو روکنا اب ممکن نہیں رہا تو وہ خود جوق در جوق حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی حمایت کا اعلان کر کے ان کی جماعت یعنی اسلام میں داخل ہونے لگے ۔مسلمان ہو کر ان لوگوں نے اسلام کی جڑیں کاٹنا شروع کر دیں اور اس کا چہرہ مسخ کرنے کا آغاز کر دیا۔
حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد ان لوگوں نے بتدریج پرانے نظام کو بحال کرنے کی کوششیں تیز تر کر دیں. ان عناصر کے رویوں سے دلبرداشتہ ہو کر حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور ان جیسے کچھ لوگ عرب سے کوچ کر گئے اور کچھ افراد نے ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر دی۔ ان آوازوں میں سب سے توانا آواز حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی تھی۔ انہوں نے ایک صوبے کے حاکم کے عظیم الشان سبز محل کے سامنے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تو نے یہ محل عوام کے مال سے بنایا ہے تو تو نے خیانت کی ہے اور اگر اپنے مال میں سے بنایا ہے تو تو نے اصراف کیا ہے، دونوں صورتوں میں تو گنہگار ہے۔ صوبے کے حاکم سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی اور اس نے بادشاہ وقت سے ان کی شکایت کر دی ۔بادشاہ نے سزا کے طور پر انہیں ربزہ نامی صحرا میں بھیج دیا ۔ ابوذ ر صحرا کی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر اپنی زوجہ اور دختر سمیت وہیں وفات پا گئے۔
حیران کن طور پر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بہت قریبی ساتھیوں، رفقاء اور عزیزوں نے ملوکیت کے علمبرداروں کے ساتھ سمجھوتے کر لیے ۔ ان سمجھوتوں نے تاریخ کو بہت الجھا دیا اور اسلامی تاریخ میں اچھے اور برے لوگوں میں تمیز کرنا بہت مشکل ہو گیا۔ ان حالات میں حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام اٹھے اور انہوں نے حق و باطل میں فرق کو واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔
61 ہجری میں کربلا کے مقام پر یزید نامی بادشاہ کی ملوکیت کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بہت سے نظریات کو واضح کیا ۔ ان نظریات میں سب سے بڑا نظریہ انسانی مساوات کا تھا۔ اس کی مثال حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک بزرگ ساتھی جون بن حوی کا واقعہ ہے۔ جون نے امام حسین علیہ السلام سے میدان جنگ میں لڑنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ابتدا میں بظاہر انکار کر دیا۔ اس پر جون بولے کہ کیا مجھے اس جنگ میں شامل ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک سیاہ فام ہوں اور میرے پسینے میں سے بدبو آتی ہے ۔اس پر امام حسین علیہ السلام مسکرائے اور جون کو بخوشی جنگ لڑنے کی اجازت دے دی۔ جون کی شہادت کے وقت امام حسین علیہ السلام ان کے پاس پہنچے اور ان کا سر اپنے زانو پر اسی طرح رکھا جیسے آپ نے اپنے بیٹے علی اکبر کا سر رکھا تھا۔ اس عمل سے انہوں نے اپنے نانا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی اس فکر کو زندہ کیا کہ کسی گورے کو کالے اور عربی کو عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور سب انسان برابر ہیں۔ اختر چنیوٹی نے اس منظر کو کچھ یوں بیان کیا.
اکبر کا جہاں سر ہے وہیں جون کا سر ہے
شبیر کا زانو ہے مساوات کی دنیا
کربلا کی جنگ میں امام حسین علیہ السلام اپنے بہتر ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے اور ان کے اہل خانہ کو قیدی بنا لیا گیا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اگرچہ اپنی قربانی کے ذریعے اپنے نانا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن دوسرے تمام مذاہب کی طرح وہ اسلام کی اصل شکل کو بھی تبدیل ہونے سے نہ روک سکے. امام حسین علیہ السلام کے بعد بھی ملوکیت کا نظام جاری رہا اور عرب حکمرانوں نے حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد سے پہلے کی ظالمانہ روایات کو جاری رکھا۔
آج کا مذہبی مسلمان، امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہونے کا دعوٰی کرنے والوں سمیت، جو ہر سالبظاہر ان کی یاد مناتے ہیں، سرمایہ دار ظالم اور جابر طبقے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ آج حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم جیسی عظیم شخصیات کے ماننے والوں کے مذاہب کو سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر تمام مذاہب موجودہ ظالمانہ طبقاتی تقسیم کو خدا کی تقسیم قرار دے کر اس پر “جائز ہے” کی مہر ثبت کرتے ہیں ۔
ہمیں مذاہب کی تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے تاکہ دور حاضر کے فرعونوں اور یزیدوں کے خلاف کھڑے ہو کر ان کے خلاف اشتراکی انقلاب برپا کیا جا سکے۔
کارل مارکس کا پیش کردہ اشتراکیت کا نظام ہی دور حاضر میں انسانیت کی معراج ہے جو امیر اور غریب کے درمیان حائل طبقاتی تضادات کو ختم کر کے عدل و انصاف اور برابری پر مبنی معاشرے کے قیام کا سائنسی نظریہ پیش کرتا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker