برطانیہ میں آئے ہوئے مجھے تین چار ماہ ہوئے ہیں لیکن یہاں کے آزاد خیال ”جمہوری“ معاشرے کے اندر چھپا ہوا حبس مجھ پر ابھی سے واضح ہو رہا ہے۔ ان لوگوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے نسل پرستی، عورت دشمنی، بچوں کے استحصال اور دوسری سرمایہ دارانہ معاشی برائیوں کے خلاف بہت سے قوانین بنائے ہوئے ہیں اور یہاں ان پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی اداکاری بھی کی جاتی ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک مذہبی معاشرہ بےحد منافق معاشرہ ہوتا ہے۔ ہر مذہبی انسان اپنی ذاتی برائیوں اور مذہبی ریاست اپنی معاشرتی برائیوں کو مذہب کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ مذہبی معاشرہ اپنی سہولت کے لیے من گھڑت اخلاقیات وضع کرتا ہے جن کا مقصد اپنی باطنی برائیوں کی پردہ پوشی کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان ایک برائیوں کا گڑھ ہے لیکن وہاں کے لوگ ماشاءاللہ مسلمان ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں اور رمضان المبارک جیسے مذہبی تہوار اپنے مذہبی عقیدت و احترام اور روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ایک طرف یہ لوگ ہوس کی زندگی گزارتے ہیں اور سرمائے کی پوجا کرتے ہیں اور دوسری طرف دنیاوی زندگی کو عارضی اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دینے کا درس بھی دیتے ہیں. یہ لوگ سرمایہ دار کمپنیوں کے تعاون سے ٹی وی پر رمضان کے رنگا رنگ پروگرام کرتے ہیں، ان میں ایک دوسرے کے مقابلے پر انتہائی واہیات حرکتیں کرتے ہیں اور معاشرے کی قابل قبول اخلاقیات کی تشہیر کر کے دونوں ہاتھوں سے دولت بھی لوٹتے ہیں۔
پچھلے دنوں کراچی کے ایک مشہور مذہب فروش خیراتی کارکن نے ڈیڑھ لاکھ روپے کے شتر مرغ کی دعوت افطار کر دی جس کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت شور مچایا گیا۔ مخالف فرقے کی مذہبی خیراتی تنظیموں نے اس خیراتی کارکن کی بہت مٹی پلید کی کیونکہ کراچی کے خیراتی کاروبار پر ہمیشہ سے اس جماعت کی اجارہ داری رہی ہے جسے وہ کارکن ختم کرنے کے درپے ہے۔ یہ ہے وہ مذہبی منافقت ہے جسے ہم سب جانتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثریت چونکہ اس منافقت کی قائل ہے اور خود منافق ہے اس لیے اس کے بارے میں بات ہی نہیں کرتی۔
ایک طرف وہ مذہبی منافقت ہے جس کا میں نے پاکستان میں ساری عمر سامنا کیا ہے اور ایک یہ آزاد خیالوں کی منافقت ہے جس کا سامنا میں یوکے میں آ کر رہا ہوں۔ لبرل لوگوں کی اخلاقیات یہ ہیں کہ ہمیشہ شائستہ لہجے میں گفتگو کریں اور پھر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یا اخلاقی قوانین کو استعمال کر کے اپنے ناپسندیدہ افراد کو اپنی نفرت اور تعصب کی بھینٹ چڑھائیں۔ ایک طرف یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہر کسی کو اظہار رائے کی آزادی ہے، تعلیم اور علاج ہر کسی بنیادی حق ہے وغیرہ وغیرہ اور دوسری طرف ہر جگہ بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں بھی بکھیری جاتی ہیں۔
یہاں افریقہ، ایشیا اور دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ یہ لوگ اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے یا میری طرح کسی مجبوری کے تحت یہاں آ کر آباد ہوتے ہیں۔ ان افراد کے ساتھ روزمرہ کی بنیاد پر شدید امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ یہ ظلم بہت شائستگی اور ہنرمندی سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی کو اپنے سلوک سے اتنا زچ کر دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس صدائے احتجاج بلند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ بس پھر کیا ایک پورا کا پورا گروہ اس کے خلاف سرگرم عمل ہو جاتا ہے اور اخلاقی قوانین کا استعمال کر کے اسے یا تو سزا دلوا کر رہتا ہے یا گھٹنے ٹیک کر معذرت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ساری دنیا کی طرح یورپ اور امریکا میں بھی عالمی سرمایہ داری یا آزاد معیشت کی منڈی کا سفاک نظام رائج ہے۔ امریکا چونکہ سفاکیت میں سب سے آگے ہے اس لیے بدنام بھی سب سے زیادہ ہے لیکن یوکے بھی کسی سے کم نہیں۔ یہاں بھی پیسے کی عبادت کی جاتی ہے اور چڑھتے سورج کو سلام کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لبرل ازم بھی مذہب کی طرح عالمی سرمایہ داری کا غلام، خیرخواہ اور دلال ہے۔ اس پر بھی مذہب کی طرح وہی بات صادق آتی ہے کہ ”مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے“۔
میں بحیثیت ایک سوشلسٹ کے یہ سمجھتا ہوں کہ مذہبی اور آزاد خیالی کی اخلاقیات نرا فراڈ ہیں جن کا ازالہ سوشلسٹ سماج قائم کر کے معاشی اور معاشرتی ناہمواریاں ختم کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سوشلزم ہی وہ واحد نظریہ ہے جس کے ذریعے مذہب اور آزاد خیالی میں موجود تمام جائز اور یکساں اخلاقیات کا اطلاق ممکن ہے۔
میرے بہت سے دوست مجھے یوکے آنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ان کے لیے میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اشتراکیت کے حامیوں کے لیے ساری دنیا اس وقت جہنم ہے۔میں اگر ایک جہنم سے نکل کر دوسرے میں آ گیا ہوں تو مبارکباد کیسی!! مجھے میری مجبوریاں آج یہاں کھینچ لائی ہیں۔ پاکستان میں مجھے اکیلا کر کے میرا معاشی اور سماجی بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو میں یہاں کیوں آتا؟ مختصر یہ کہ سرمایہ دار معاشرہ چاہے آزاد خیال ہو یا مذہبی ایک جتنا منافق ہوتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

