ادبڈاکٹر انوار احمدکالملکھاری

 کم وسیلہ لوگوں کی اردو زبان دانا دشمنوں،نادان دوستوں کے نرغے میں ۔۔ وعدہ خلافی / ڈاکٹر انو ار احمد

اُردو زبان سے متعلق سپریم کورٹ اور پھر ہائی کورٹ کے فیصلوں کو جہاں بہت سے کم وسیلہ لوگ سراہیں گے وہاں اُردو کے بعض نادان دوست کچھ اس طرح سے اظہارِ فتح مندی کریں گے کہ اس سے وہی ردِ عمل پیدا ہوگا جو نوکر شاہی اور حکمران طبقات چاہتے ہیں (اور اب حکمران طبقات میں چھاﺅنیوں کی طاقت بھی شامل ہو گئی ہے) اور اسی کی بدولت انگریزی زبان کی بالادستی کو دوام حاصل ہو گیا، طاقت کے اس کھیل کو طبقاتی تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے کہ گلگت سے گوادر تک اردوزبان رابطے کی زبان ہے، اس کی تعلیم اور اس میں تعلیم کم خرچ بالا نشیں ہے۔ اس زبان کی چھ صدیوں کی باضابطہ ایسی تاریخ ہے اور دستاویزی شہادتیں ہیں کہ یہ برصغیر میں مسلم اقتدار کی ایک نشانی بن گئی اور یوں پاکستان کے عام لوگوں میں بھی یہ تہذیب اور شائستگی کے ساتھ ساتھ ادب وشعر وعلم کے بہت بڑے ذخیرے کی امانت دار کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ بیرونِ ملک ایک درجن سے زائد یونیورسٹیوں میں اُردو زبان کی تعلیم کے شعبے ہیں اور جن میں سب سے پرانا جاپان، پھر ترکی اور پھر چین میں ہے، تاہم ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم اُردو کی ایک خاص تہذیب کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد پاکستان میں محض ایک اقلیت (جس کی نمائندگی کا جارحانہ مظہر ایم کیو ایم رہی ) کو پیشوائے اعظم کا درجہ دینا نہیں ہے جو شعوری یا غیر شعوری طور پر پاکستان میں بسنے والوں کی اکثریت کو نہ صرف کم مہذب تصور کرتے ہیں بلکہ تلفظ، روزمرہ اور محاورے کے نام پر بھی اپنے ننھیال، ددھیال سے اسناد لاتے ہیں۔
مجھے اس صورت حال کا تجربہ بخوبی ہے کہ میں نے اپنے رزق، شناخت اور عزت کا وسیلہ اُردو زبان کی تدریس کو بنایا اور پھر جب میں مقتدرہ قومی زبان کا صدر نشیں بنا تو ایک طرح سے میری پسندیدہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں تھی، مگر میں جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں جاتا تھا اور یہ سوال اُٹھاتا تھا کہ اُردو زبان کے فروغ کےلئے عملی اقدامات کئے جائیں اور خاص طور پر سی ایس ایس میں بھی ذریعہ اِظہار اُردو کو بنایا جائے تو بعض سندھی ارکان اسمبلی مجھے ایم کیو ایم کا وکیل خیال کرتے تھے۔ دوسری طرف سرائیکی قوم پرست بھی مجھے اپنی دانست میں”غدار“ خیال کرتے تھے جبکہ میری تربیت جس ”اہل زبان “ اُستاد نے کی اس کا کہنا تھا کہ کوئی زبان مقدس نہیں ہوتی، وہ آپ کے خیالات واحساسات کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے اور جب کوئی بہتر اور معتبر وسیلہ میسر آ جائے تو اُسے اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح وہ تلفظ کو بھی قطعاً اہمیت نہیں دیتے تھے کہ اُن کے نزدیک ہر خطے کے لوگوں کے بولنے کی عادت اُس زبان کا صوتی نظام تشکیل دیتی ہے۔ تیسرے یہ بھی خیال کرتے تھے کہ اُردو زبان کے مزاج میں ایک ایسی کشادہ دلی ہے جو صرف ملتانی زبان میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے امکان یہ ہے کہ وادی سندھ میں ملتان اور اس کے گردونواح میں بولی جانے والی کوئی زبان تھی جسے ایک طرف ملتان اور اُوچ کے صوفیاء نے وسیلہ اِظہار بنایا دوسری طرف مسلمان حکمران اسے اپنے اقتدار کے مراکز میں لے گئے اور پھر اس نے ایک ہزار سال کے ہند مسلم کلچر کے بہترین مظہر میں ڈھل کر اپنی جنم بھومی یعنی پنجاب اور ملتان میں آنا تھا۔
ہمارے بیشتر لسانی نظریات قیاس آرائیاں ہیں جب تک ہمارے پاس گزشتہ ایک ہزار برس اور اُس سے بھی پہلے کی لسانی شہادتیں دستیاب نہ ہوں مختلف خطوں سے اُردو کا منسوب ہونا سب قیاسی ہے۔ قوم پرستوں کی جدوجہد کا بھی ایک پس منظر ہے کہ اُنہیں اُس نظریہ پاکستان کے مطابق شک کی نظروں سے دیکھا گیا جو کسی زمین کا قائل نہیں تھا نہ وہ یہ مانتے تھے کہ 1947ء سے پہلے پاکستان میں آباد لوگوں کی زبانیں، روایات یا رسوم بھی تھیں، جن سے لگاﺅ ان کا فطری حق ہے ،یوں یہ نظریہ اُن کی ارضی شناخت کو مانتا تھا ، نہ اُن کے تصورِ تاریخ کا قائل تھا اور نہ ہی اُن کے سیاسی حقوق کا۔
اردو زبان سے وابستگی کے باوجود میرا موقف ہے کہ اُردو زبان کی اُس وقت تک توقیر کرنی چاہیے جب تک پاکستانیوں کی اکثریت اسے اپنی شناخت اور فخر کے ساتھ اظہار کا معتبر ذریعہ خیال کرتی ہے اور جب آئندہ تیس یا چالیس برسوں میں سرائیکی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی یا براہوی زبان یہی مقام حاصل کر لے تو وہ قومی زبان کے ساتھ مملکتی یا سرکاری زبان بھی بن جائے اس میں کسی قسم کا گریہ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں اُردو زبان کے مقدمے کو طبقاتی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ یہ کم وسیلہ لوگوں کی زبان ہے اسی لئے طاقتور ، اُجلی پوشاکیں پہن کر انگریزی کی مستقل بالا دستی کا مقدمہ لڑتے ہیں کہ صرف انگریزی سے ہی ہمارا ’ مہذب‘ دنیا سے واسطہ ہو گا وہ مہذب دنیا جس نے ہمارے لئے پیارے جاگیردار مخدوم اور وڈیرے قائم کئے جنہوں نے تجارت، بینکنگ، سیاست اور صنعت پر اجارہ اُن بالا دست گھرانوں کا قائم کیا، جن کے بچوں کے لئے مہذب سامراجیوں نے ایچی سن کالج اور صادق پبلک سکول بنائے تھے یہی لوگ تعلیم کے اعلیٰ اداروں سے کروڑوں روپوں کی گرانٹ لے کر کتابیں لکھتے ہیں کہ اُردو ذریعہ تعلیم کے لوگ بنیاد پرست ہوتے ہیں، خود کش حملے کرتے ہیں، داڑھیاں رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس لئے ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی ڈھانچے کو ان سے بچانے کے لئے اُسی زبان کو ذریعہ اِظہار بنایا جائے جس میں رموز مملکت لکھے ہوئے ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker