Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, اپریل 19, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش : بھارتی آئل ٹینکر پر فائرنگ کےبعد واپس چلا گیا
  • نوجوان صحافی اظہار عباسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے
  • ساحر بگا کے ترانے اور بے خبری کا جشن ( مختار صدیقی کی باتیں ) : وجاہت مسعود کا کالم
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم
  • مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس
  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
  • بات دل میں کہاں سے آتی ہے : ( کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی ) وجاہت مسعود کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»جہان نسواں / فنون لطیفہ»یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (3) آخری حصہ
جہان نسواں / فنون لطیفہ

یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (3) آخری حصہ

ایڈیٹراپریل 6, 202331 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ismat naz
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

گزشتہ سے پیوستہ
ہر گزرتے دِن کے ساتھ اُس کی طبعیت بہت خراب رہنے لگی تھی اور چلنا پھرنا کھانا پینا دشوار سے دُشوار ہوتا جا رہا تھا۔ مگر کافی پرانےا ور ریٹائر ساتھیوں کی ایک پارٹی میں با اصرار شامل ہوئی کہ چلو سب سے مل لوں گی ایک ہی جگہ پر۔۔۔ پتانہیں اُس کے دِل میں کیا خدشہ اور چور بیٹھ گیا تھا کہ بس اب چل چلاؤ ہے بچوں گی نہیں۔ ہم لوگ ہنس کے ٹال دیتے اور اس کی ہمت بڑھاتے کہ تم کھاتی پیتی جو نہیں ہو۔ اُس دن بھی بڑی مشکل سے میں نے تھوڑا سا سوپ پلایا اور ایک دو نوالے کھلائے مگر وہ مسلسل سب سے مل کر اُن کو دیکھ دیکھ کر آنسو بہاتی رہی۔
ایک دو دِن بعد ناہید محمود اعوان نے گھر پر بلایا تو شدید نقاہت کے باوجود شامل ہوئیں اور یہ اُن کی آخری پارٹی ثابت ہوئی دوستوں کے ساتھ مگر زرد سے چہرے اور خال خال آنکھوں کے ساتھ بس وہ صوفے پر کمبل لیے نیم دراز ہی رہیں۔ مسزِ انیلہ چوہدری نے دو تین لقمے انہیں کھلانے کی کوشش کی مگر وہ بھی اُن کے حلق سے اترتے نہیں تھے۔ واپسی پر اُس نے خاص طور پر کہا کہ عصمت تم اور عطا بھائی مجھے گھر چھوڑ کر آؤ گے۔ لہذا وہ میرے اور بھائی کیساتھ واپس آئی مگر وہ سارے راستے میرا ہاتھ تھامے بیٹھی رہی اس کا جسم مسلسل کپکپائے جا رہا تھا۔ بات کرنے کی بہت کوشش کرتی رہی مگر چند ثانیوں کے بعد پھر خاموش ہو جاتی تھی۔ اس کی ہمت ہی نہیں بند ھ رہی تھی کہ بات کر سکے۔
اس کے بعد میں بھی اور باقی دوست بھی گاہے بگاہے گھر پر اُس کی عیادت کو جاتے تھے۔ ایک دن میں نغمہ کے ساتھ گئی تو اس قدر نقاہت تھی کہ بستر پر تکیہ لگا کر بھی نہیں بیٹھ پا رہی تھی میں نے کہا یاسمین بس لیٹی رہو۔ تو کہنے لگی کہ اب بس ہو گئی ہے۔ دعا کرو کہ اللہ اپنے پاس بُلا لے۔ میں نے اُس کا ہاتھ تھام لیا جو برف کی طرح سرد تھا میں نے بمشکل آنسو ضبط کیے اور تھوڑی دیر بعد اجازت چاہی تو اُسے نحیف و نراز ہاتھوں سے یوں مجھے لیٹے لیٹے پاس آنے کو کہا اور پھر میرے ہاتھوں پر بوسہ دیکر کہنے لگی کہ دوست مجھے معاف کر دینا بہت تکلیف دیتی ہوں۔ زیادیتوں اور غلطیوں کی معافی چاہتی ہوں اور پھر ایسا ہی اُس کا ایک دن وائس میسج سب کو آیا کہ ’’میں اللہ کی طرف لوٹ رہی ہوں سب لوگ مجھے معاف کر دینا‘‘۔
ایسا پہلی بار تھا کہ وہ شدید افسردگی اور مایوسی میں گھِرتی جا رہی تھی۔ اس عالم میں ایک نرس کا انتظام کیا گیا تاکہ وہ اس کے لیے خدمات سر انجام دے۔ نرس بہت اچھی مل گئی جس سے تسلی ہوئی کہ اب نہانے دھونے، کپڑے بدوالنے وغیرہ میں آسانی ہو جائے گی۔ یاسمین اس بات سے مطمئن ہونے کیساتھ بہت دلگیر بھی تھی کہ وہ اتنی لاچار ہو گئی ہے تو اسے سمجھایا گیا کہ ایسی بات نہیں ہے دِن کو تو تمہاری پُرانی ماسی ہوتی ہے مگر رات کو تم اکیلی ہوتی ہو اس لیے انہیں رکھا ہے کہ تمہارا خیال رکھیں گی خاص طور پر جب تمہیں کمرے سے نکل کر بر آمدہ عبور کر کے واش روم جانا ہوتا ہے۔
جانے کیوں ہم سب کی بھرپور کوششوں اور خواہش بلکہ درخواستوں کے باوجود بھی اس کے اہل خانہ اس بات پر رضابہ مند نہ ہوئے کہ یاسمین کے لیے ایک اٹیچ واش روم اور ساتھ ہی چھوٹا سا سرونٹ کوارٹر کیا ایک کمرہ سا تعمیر کر دیا جائے تاکہ اس کو بھی آسانی ہو اور اس کی خدمت گار کو بھی۔ مگر کہا جائے کہ ہمارے ہاں اکثر بہنوں اور بیٹیوں کو ایسی سِتم ظریفیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں خاص طور پر انہیں جو اپنی ازدواجی زندگی کی تلخیاں اور ظلم برداشت کرتے کرتے تنگ آ کر واپس والدین کی دہلیز پر آ جاتی ہیں ان کے دکھوں کا کوئی مداوا ہی نہیں ان کی کیفیات و حالات کو کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔
جب یاسمین بہت کرب اور دُکھ کی حالت میں سب کی طنزیہ باتیں کاٹ دار جملے سننے کے بعد مجھ سے حال بٹاتی کہ فلاں نے یہ کہا فلاں نے یوں کہا تو میں کہتی چھوڑ و پرے دِل پر نہ لیا جائے تو اچھا ہے۔ ایک بار میں نے کہا کہ دوست تم لوگ تو بڑے مہذب اُردو بولنے والے دھلی کی تہذیب کے شناور ہو تو اس طرح کی باتیں زیب تو نہیں دیتی ناں جو تمہیں سننے کو ملتی ہیں چلو ہم پنجابی تو ٹھہرے سدا کے بد تمیز۔۔۔۔ تو وہ مریل سی ہنسی ہنس کر کہتی رہنے دو یار سب اقدار مٹتی جا رہی ہیں یا پھر میری قسمت۔
میں سوچتی ہوں اس قدر خوش گفتاری، ادب و آدب سے مرصع گفتگو دین کی تبلیغ اور درس سُننا وغیرہ کہا سب بناوٹی ہیں ڈھکو سلے ہیں فریب ہیں یا محض ذاتی تسکین و تشہیر ہیں۔ ہم لوگ کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ اللہ نے اعلیٰ اخلاق اور قرابت داروں کیساتھ حسن سلوک کو بہت بلند و ارفع مقام دیا ہے۔ عبادات تو تمام کائنات، چرند پرند اور فرشتے کرتے رہتے ہیں۔ کیا آپ کے قریبی رشتے بھی اتنے سفاک ہو جاتے ہیں کہ ایک لب مگر ہستی کے لیے ان کے دِل نہیں پگھلتے ان کے اندر سوز و گدار پیدا نہیں ہوتا وہ سب نام نہاد مصلحتوں اور انا کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ جینا تو یاسمین نے اتنا ہی تھا ناں جتنا وہ جی پائی مگر کیا ہو جاتا اگر اُس کی تہائی کو بانٹ لیا جاتا اس کو احساس دِلایا جاتا کہ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ مجھے تو اُس کی یہ بات دماغ پر ہتھوڑے برساتی رہتی ہے۔
’’کہ قبر میں اس سے زیادہ اور کیا اندھیرا اور تنہائی ہو گی‘‘
اُس نے اُندھی ہوئی آواز میں بتایا کہ اس قابل نہیں ہوں کہ اُٹھ کر لائٹ جلا لوں کوئی اردگرد نہیں ہے کہ کسی سے کوئی بات کر لوں۔ بس نرس آنے والی ہو گی تو لائت جلائے گی۔ مگر اب میں بچنے کی نہیں ہوں۔ ایک دن پھر بتانے لگی کہ صبح چار بجے سے واش روم جانا چاہتی ہوں مگر گر پڑنے کا خدشہ ہے ڈاکٹر نے بغیر سہارے کے چلنے سے منع کر دیا ہے۔ فون بھی کیے ہیں آوازیں بھی دی ہیں۔ مگر کوئی شنوائی نہیں۔ پتہ نہیں کیسے ہو گئے ہیں سب سمجھتے ہیں کہ شاید مجھے چھُوت کی بیماری ہے جو ڈرتے ہیں میرے قریب آنے سے ۔ پتا نہیں کیسے ابا جان کو میرا خیال آ گیا تو انہوں نے کمرے میں جھانکا تو میں نے کہا کہ واش روم جانا ہے تو اس بڑھاپے کمزوری اور متاثر یادداشت اور شیزو فرینیا کا شکار ہونے کے باوجود وہ میری بات سمجھ گئے اور گرتے پڑتے مجھے لے گئے۔ بڑی مشکل سے واپسی پر جب مجھے لٹایا تو زارو قطار رونے لگےا ور دوھتڑ مار مار کر کہنے لگے کہ ہم دونوں کا کیا فائدہ ہے جینے کا ہمیں تو بس چلے جانا چاہیے۔
میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ کسپرسی ہو نہیں سکتی نہ باپ کے لیے نہ بیٹی کیے لیے۔ وفات سے ایک دو دن قبل علی الصبح یاسمین کی کال آئی میں اٹھانا ہی چاہتی تھی کہ فون بند ہو گیا۔ میں نے کچھ دیر بعد رابطہ کیا تو نرس نے اُٹھایا تو کہنے لگیں کہ کافی دیر سے آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ انہیں دو ناں تو اُس نے بتایا کہ بہت طبیعت خراب ہے فون تھام نہیں سکتی ہیں میں ان کے کان کو لگتی ہوں۔ میں جیسے ٹوٹ کر رہ گئی دماغ ماؤف سا ہونے لگا مگر ہمت مجمع کر کے ھیلو ھیلو ۔ اسلام و علیکم یاسمین مگر جواباً صِرف غوں غاں کی بے ربط سی آوازیں آئیں تو میں نے کہا کہ اچھا تم آرام کرو بعد میں بات کر لیں گے۔ یہ میری آخری بات تھی اُس کی آخری آواز تھی جو میں سُن پائی تھی۔
دوپہر کو زیادہ طبعیت خراب ہوئی تو میڈم خالدہ انہیں سٹی ہسپتال لیکر گئیں مگر ڈاکٹرز نے کہا کہ گھر لے جائیں اور بس پھر گھر آ گئیں۔ خالدہ بتاتی ہیں اُس وقت کچھ ہوش میں تھیں اور تھوڑی بہت بات چیت بھی کر رہی تھیں۔ رات کو زیادہ طبعیت بگڑی تو بھائی بھابھی وغیرہ نشتر ہسپتال لے گئے تو انہوں نے بھی کہا کہ بہتر ہے کہ گھر لے جائیں۔ انہوں نے مسز خالدہ کو بھی بتایا کہ اب بالکل بول نہیں رہیں اور غنودگی کے عالم میں تھیں۔ ڈاکٹر خالد عثمان آرتھو پیڈک سرجن جن سے فزیو تھراپی کروائی تھیں نے بعد میں بتایا کہ کافی دن سے میڈم سے رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی میرا اسٹنٹ گھر جا کر تھراپی کرتا تھا کہ وہ بہت کمزور ہو گئی تھیں تو ایسے ہی میں نے کہا کہ میں پتہ کر آتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا تو اُن کی دِل کی دھڑکن بہت بے ترتیب تھی نبض معلوم ہی نہیں ہو رہی تھی بس سانس ہولے ہولے سے لے رہی تھیں اور دنیا و مافہیا سے بے خبر تھیں تو میں نے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ اُس رات کو جب ہسپتال سے واپس آئیں تو اپنے بستر پر پڑے پڑے پتہ نہیں کس وقت صبح کے قریب اُن کی روح پرواز کر گئی۔ نرس نے گھر والوں کو اطلاع دی۔
وہ 14 فروری ویلنٹائن ڈے تھا۔ سرخ گلابوں کا دن، محبتوں اور چاہتوں کا استعارہ دِن اور اسی دِن جب ان کی بھابھی نے میڈم خالدہ کو اطلاع دی تو پھر انہوں نے سب دوستوں کو یہ روح فرسا خبر دی کہ یاسمین گزر گئی۔ جب میں اُدھر پہنچی تو وہ سفید کفن اوڑھے بڑی ہی پُر سکون سی سوئی ہوئی لگ رہی تھی کہ برسوں کی اذیت سے نجات پا گئی تھی اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی تھی۔ سب روگوں سے آزاد ہو گئی تھی۔ مجھے گھر میں عجیب سے وحشت، سناٹا اور ویرانی سے محسوس ہو رہی تھی ابا جان ایک چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے کہ جیسے انہیں کچھ خبر ہی نہ ہو کہ کیا ہو گیا ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہو کہ وہ جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے جنازہ اُٹھا اور اتنی خاموشی کیساتھ کہ کوئی آہ و بکا کرنے والا نہ تھا کچھ افسردہ سے چہرے تھے مگر مجھے بس سب دھوکہ ہی لگنے لگا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اسے چلے ہی جانا چاہیے تھا یعنی تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا ہی نہیں بس ایسے ہی خاموشی سے تم چل دیں یاسمین۔ پھولوں والے دِن پھولوں کی چادر اوڑھے دُنیا کےتمام مصائب سے نجات پا گئیں۔ کوئی جا کہ جہاں سے آتا نہیں تم وہاں چلی گئیں۔
یاسمین پیاری ہم شرمندہ ہیں حسرت زدہ ہیں، معذرت خواہ ہیں، ہماری مجبوریوں کو الزام دو کہ ہم تمہاری کما حقہ خدمت نہ کر سکے، دِل جوئی نہ کر سکے، زیادہ وقت نہ دے سکے، تمام تر آرام و سہولت بہم نہ پہنچا سکے ہم اس معاشرے کے فرد ہیں جہاں نا معلوم وجوہات اور چھوٹی چھوٹی رنجشوں اور رقابتوں کیوجہ سے خونی رشتے بھی پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ انگلیاں اُٹھانے الزام لگانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں دیر نہیں لگائی جاتی ہم ہمیشہ اکثر کام وعدہ فرد ا پرٹال دیتے ہیں ناں۔
چلو اچھا ہوا اب تم سکون و عافیت میں ہو گی۔ امی کی آرام گاہ کے پاس ہی تمہیں جگہ مل گئی ہے۔ اب کیا فائدہ کوئی جس قدر بھی افسوس کرے ملول ہو آنسو بہائے تمہیں اس سے کیا غرض۔ میں نے جب کانپتے ہاتھوں سے یہ پیغام تمام کولیگز ، دوستوں کے گروپس اور فیس بُک پر دیا کہ یاسمین نے اس دارفانی سے کوچ کر گئی ہیں تو تمہارے جانے پر سب دُکھی اور افسردہ تو تھے لیکن ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ نے اُس کے لیے آسانی کر دی ہے۔ میں سوچتی ہوں اللہ تعالیٰ کی مرضی نہیں ہو گی ناں ورنہ وہ چاہے تو دُنیا میں بھی تو آسانی کا سامان کر سکتا ہے۔ مگر اللہ کی مصلحتیں اللہ ہی جانے موت کےا ٓگے ہم بے بس ہیں۔
یاسمین تمہارے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے دِل کٹتا ہے۔ تمہاری اتنی باتیں اتنے پیغامات ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو ضخیم کتاب مرتب ہو جائے۔ حالانکہ اکثر پیغامات بھیج کر تم فوراً ہی حکم دیتی تھیں کہ انہیں حذف کر دو تو میں ایسا ہی کرتی تھی۔ تمہاری اجازت سے ہی کچھ کچھ سنبھال رکھے ہوئے ہیں کچھ تحریری ہیں اور کچھ صوتی۔ یاسمین تم نے وعدہ لیا تھا کہ کہ مجھ پر کچھ لکھنا ضرور تو میں ناراض ہو گئی تھی کہ تمہیں کیوں ضمانت چاہیے کون جانے کس کی باری پہلے ہے تو تم نے کہا تھا کہ میں شائستہ جمال تو نہیں ہوں کہ آپ بیتی لکھ سکوں تو کہا تم میری مدد نہیں کر سکتی ہوں تو میں نے کہا تھا کہ ’’ہاں ایسا تو ممکن ہے تم بتاتی جاؤ میں لکھتی جاؤں گی‘‘ میرے کانوں میں تمہارے الفاظ تمہاری نحیف و نراز آواز میں گونجتے رہتے ہیں کہ ’’ابھی میں جینا چاہتی ہوں‘‘ مگر قدرت کے فیصلوں کے آگے کون بندھ باندھ سکتا ہے، لکھی ہوئی کو کون ٹال سکتا ہے۔
تم نے اتنے دُکھ جھیلے ہیں اتنے مصائب و الم برداشت کیے ہیں۔ مجھے امید و اثت ہے کہ تم اگلے جہاں میں راحت ہی راحت میں ہو گی پر سکون ہو گی خوش باش ہو گی اور کبھی پیچھے پلٹنا بھی نہیں چاہو گی۔ میں اس بات کی گواہی ہوں کہ تم کسقدر اثاثہ جات چھوڑ گئی ہو اور تم کیا کچھ فلاحی مقاصد رکھتی تھی۔ اللہ کرے کے تمہارے لواحقین تمہاری اس خواہش پر عمل کریں اور تمہارے نام پر کوئی سکالرشپ، کوئی واٹر فلِٹر کسی مسجد میں کوئی کام، کچھ وہیل چیئرز وغیرہ جیسا صدقہ جاریہ کر دیں تاکہ تمہاری روح آسودہ رہے۔ اامین۔ تمہارا ڈرائیور تمہاری ہمسائی رافعہ تمہاری ماسی اور نرس بالخصوص تمہارے لیے دعا گو ہیں اور رہیں گے۔
( مکمل)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

یاسمین محمود
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسینئر براڈکاسٹر خالد اقبال ریڈیوپاکستان ملتان کےسٹیشن ڈائریکٹر مقرر
Next Article قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ مستردکرنےکی قرار داد منظور
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (2)

اپریل 5, 2023

یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (1)

اپریل 4, 2023

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 19, 2026
  • آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش : بھارتی آئل ٹینکر پر فائرنگ کےبعد واپس چلا گیا اپریل 18, 2026
  • نوجوان صحافی اظہار عباسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے اپریل 18, 2026
  • ساحر بگا کے ترانے اور بے خبری کا جشن ( مختار صدیقی کی باتیں ) : وجاہت مسعود کا کالم اپریل 18, 2026
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم اپریل 16, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.