ڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاریمزاح

زنانہ آئی ڈیز والے ” مرد حضرات“ : کی جاناں میں کون ؟ ۔۔ڈاکٹر فرزانہ کوکب

لگ بھگ ڈیڑھ صدی پہلے کا واقعہ ہے کہ جب شرفاء کےگھرانوں کی کچھ پڑھی لکھی خواتین نے ادب کو اپنے احساسات،جذبات اور نظریات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔تب انہیں بوجوہ اپنی شناخت چھپانی پڑتی تھی۔اور بہتیریوں کو تو مردانہ ناموں کو اپنانا پڑتا تھا۔بصورت دیگر خطوط،ٹیلیفون یا دیگر ذرائع سے ان سے رابطہ یا رسائی کی کوششیں کی جاتی تھیں۔اور ان مذموم کوششوں میں ناکامی کی صورت میں ان بےچاریوں اور ان کے اہل خانہ کو فحش گالیوں،الزامات دھمکیوں، اور بدنامیوں کا سامنا کرنا اور سہنا پڑتا۔یعنی کچھ”بات پے واں زبان کٹتی ہے”والا معاملہ درپیش ہوتا یا پھر “جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”والی صورت حال درپیش ہوتی۔

لیں جناب پھر یہ ہوا کہ سماج میں رفتہ رفتہ واقعی تبدیلی آتی گئی
“زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے،ساز بدلے گئے
اب اس سارے منظر نامے میں بہت سی اچھی بری تبدیلیوں کے ساتھ ایک انقلابی تبدیلی جدید ٹیکنالوجی،انٹرنیٹ،گیجٹس،سوشل میڈیا اور سب سے بڑھ کر” فیس بک “کا “انھے وا” استعمال.لیکن خواتین کے لئے مسلہ جوں کا توں کہ بچاریوں کو اپنی شناخت چھپانے کے لئے نہ صرف مردانہ نام رکھنے پڑتے ہیں بلکہ اپنی شناختی تصویر کے طور پر کبھی اپنے شوہروں،بھائیوں اور بچوں کی تصاویر لگانی پڑتی ہیں تو کبھی پرندوں ،پھولوں اور مناظر وغیرہ وغیرہ کی
“بلھیا کی جاناں میں کون”



اور حضرت اقبال کی حقیقی پیروی میں یہ خود بھی اپنے بارے میں خود سے کہتی ہونگی کہ”اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے”اب ان میں کئی اقبال بیگم،اقبال خانم اور اقبال بی بی وغیرہ بھی تو ہونگی نا۔
لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں مرد حضرات کو ہمیشہ سے من مانی کرنے اور کھل کھیلنے کے تمام تر مواقع اور اختیارات میسر رہے ہیں۔ان کی ہمیشہ پانچوں گھی میں اور سر کیا پیر بھی کڑاہی میں رہے ہیں۔اب فیس بک پر ہی ان کی من مانیاں اور بدمستیاں دیکھ لیجئے۔بڑے دھڑلے سے،سینہ ٹھوک کر ،مولا جٹ اور نوری نت والی بڑھکیں لگاتے دندناتے پھرتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ بڑی شان اور کمال مہارت سے لڑکی بن کر اور کسی لڑکی کی ہوشربا تصویر کے ساتھ بھی اپنی آئ-ڈی بنا لیتے ہیں ۔
“جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ”



ویسے یہ خود بھی اپنی ہوشربا اور ہیجان خیز تصاویر دیکھ کر سوچتے ہونگے
“اور سے اور ہوئے جاتے ہو
قابل غور ہوئے جاتے ہو
اور ایسی کیفیت کا بھی ضرور شکار ہوتے ہونگے”دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پے رشک آجائے ہے”



اب یہ تو یہی حضرات بتا سکتے ہیں کہ کن مقاصد کے حصول یا ارداوں کی تکمیل کی غر ض سے یہ شیطانی حرکتیں فرمائی جاتی ہیں۔بہرحال ان حرکتوں کے نتائج بھی وہی ہوتے ہیں جن کے لئے سائبر کرائم جیسے ادارے تشکیل دینے پڑے۔لیکن آج کے دور کے ان مرد حضرات کے شیطانی دماغوں کی تیزی بہرحال حیران کن تو ہے کہ خواتین تک رسائی کے لئے خواتین کی آئی-ڈی ہی بنا ڈالی۔ویسے ان کو کہا جائے کہ” چوڑیاں پہن لو”یا کسی بھی حوالے سے عورت جیسا ہونے کا طعنہ دیا جائےتو ان کی مردانہ انا قتل کرنے پر اتر آتی ہے ۔
بس جناب اب دیدی کے دیوانے دیور نے کڑیوں کو دانہ تو ڈالنا ہی ہے کسی نہ کسی طریقے سے۔انہیں امید بھی تو پکی ہوتی ہوگی نا کہ ان کے بچھائے جال میں کوئی نہ کوئی لڑکی تو چڑیا کی طرح پھنس ہی جائے گی اور اس بچاری کے ساتھ یہی ہوگا
“کسی کے جال میں آکر میں اپنا دل گنوا بیٹھی”
لیکن اب اس مصیبت کا کیا کہئے کہ جب صورت حال ایسی ہو جائے کہ ایسی ہی ایک ہیجان خیز تصویر دیکھ کر ایک صاحب نے اپنے بر انگیختہ جذبات سے بے قابو ہو کر اس تصویر پر کمنٹ کیا”چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو”فورا” ہی ان صاحب کے ان باکس میں جواب آیا کہ آفتاب ہی ہوں آپ کو کیسے پتا چلا۔پلیز کسی اور کو نہ بتائیے گا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker