ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

پارلیمانی منڈی: جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

انتخابی نتائج میں واضح اکثریت نہ ملنے پر متوقع حکمران پارٹیوں میں ایک بھگدڑ مچ گئی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کو خریدنے اور جیتنے کی ایسی دوڑ لگی ہے کہ شاید ہی کبھی اس ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ یہ کھلواڑ تو انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا جب پارٹیاں بدلنے، فارورڈ بلاک بنانے اور وفاداریوں کا سودا کرنے میں بہت سے پارلیمانی کھلاڑی میدان میں اترے تھے۔ میڈیا میں وفاداریاں بدلنے کا شور ایسے مچایا جا رہا ہے‘ جیسے ہم پر مسلط اس حکمران طبقے کے کوئی نظریات یا سیاسی اصول ہوں! جب دھن دولت ہی اس بالا دست طبقے کا سب سے بڑا نظریہ، اصول اور ضمیر ہو تو پھر ایسے میں سیاسی اور فلسفیانہ نظریات اور اصولوں کے کیا معنی؟ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس حکمران طبقے کی ان سیاسی پارٹیوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ سبھی پارٹیاں اور ان کے قائدین دھن دولت اور سرمایہ داری نظام کو حتمی اور ابدی سمجھتے ہیں۔ وہ ان اخلاقیات اور قدروں کے مالک ہیں جن کے مطابق عزت و مرتبہ، شرافت و مقبولیت ، پسندیدگی و احترام اور پیروی صرف دولت والوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ حالیہ عہد کی تمام حاوی سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹیں دینے کا پہلا اور آخری معیار بھی دولت ہی ہے۔ اس دولت کی نمائش ہی وہ بنیادی کیمپین ہے جس کے ذریعے بالا دست طبقات کے یہ پارلیمانی نمائندے اپنی سماجی اور سیاسی ساکھ کو پیش کرتے ہیں اور یہی اس نظام زر کے لیڈروں کو سب سے زیادہ متاثر بھی کرتی ہے۔ ایک طرف تحریکوں کے فقدان اور سماجی شعور میں وقتی پختگی کا یہ عہد چل رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکمران طبقات کے یہ سیاستدان کالے شیشوں والی بڑی بڑی بد نما اور دیو ہیکل لینڈ کروزریں، ریج رووریں، مرسیڈیزیں اور بی ایم ڈبلیوز لے کر دندانے پھر رہے ہیں۔ کلف لگے کاٹن کے سوٹ اور واسکٹیں پہن کر ان گاڑیوں میں بیٹھے جب وہ سڑکوں کے کناروں پر پھیلی ہوئی غربت و ذلت اور محرومی دیکھتے ہیں تو ان کی رعونت اور بڑھ جاتی ہے۔ اور پھر وہ اپنے تکبر اور غرور میں اس امارت اور غربت کو مقدر اور آسمانی فیصلوں سے جوڑتے ہیں۔ محنت کشوں کا خون چوس چوس کر دولت کے انبار تجوریوں میں جمع کرنے والے پھر خیرات بھی خوب دیتے ہیں۔ خیرات سے مزدور کا محنت پر انحصار بڑھانے کی بجائے اس کو بھکاری بنا کر اس کے ضمیر اور احساس کو کچلا جاتا ہے۔ محروم طبقات اس احساسِ کمتری میں اپنے آپ کو مزید کمزور اور لاغر محسوس کرنے لگتے ہیں، ان کے اندر ان حکمرانوں کے خلاف چاہے نفرت کے انگارے جل رہے ہوں‘ لیکن اس بے کسی کے عالم میں یہ اس جاہ و جلال سے مزید محرومی کی مایوسی میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن جہاں اس جاہ و جلال سے عام انسان کے مرعوب ہونے کا دور ہوتا ہے‘ پھر ایسے ادوار بھی آتے ہیں کہ یہ بڑی بڑی گاڑیوں والے دھنوان محنت کش عوام کے بپھرے ہوئے غیظ و غضب سے خوفزدہ ہو کر شہروں سے دور بھاگ جاتے ہیں‘ کیونکہ وہ یہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ ان گاڑیوں اور حکمرانوں کو دیکھ کر عوام کا جو رد عمل سامنے آئے گا‘ اس میں ذلتوں کے مارے یہ لوگ ان کی دیو ہیکل کروڑوں کی گاڑیوں کو پاش پاش کر دیں گے۔ لیکن ابھی تک ان کا راج چل رہا ہے۔ لیکن ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔
حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے بھی بہت سے الزامات لگے ہیں۔ اس ملک میں 1970ء کا الیکشن نسبتاً شفاف تھا‘ باقی تو کسی الیکشن کو شفاف کہنا‘ دن کو رات کہنے کے برابر ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہ دھاندلی ایسے بھونڈے طریقے سے کی گئی ہے کہ سیٹوں کا توازن ایک مخصوص ہدف کے مطابق کرتے کرتے دھاندلی کرنے والے سارے انتخابی عمل میں ایسے بلنڈر کر گئے کہ خود پشیمان نظر آتے ہیں۔ شاید پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والے اداروں نے انتخابات کے چند دن بعد ہی انتخابی عمل میں دھاندلی کی مختلف شکایات اور اداروں کے خلاف تفتیش کا حکم خود صادر کیا۔ لیکن انتخابی نتائج کے اس توازن کی بھگدڑ نے ان حکمرانوں، پارلیمانی نمائندوں اور مروجہ سیاسی پارٹیوں کی اصلیت کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ہونے والے کچھ اقدامات سے‘ یہ اقدامات کرنے والوں پر نسلوں کے اعتماد کو دھچکا لگا ہے‘ لیکن جہاں حاکمیت کی اصلیت سامنے آ رہی ہے وہاں یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں اور منتخب نمائندے کسی اصول، نظریے اور ضمیر سے عاری ہیں۔ نئے اتحادوں سے اگر سب سے زیادہ کچھ بے نقاب ہوا ہے تو وہ ان کی منافقت ہے۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے، بد ترین الزامات لگانے والے اب بنی گالہ میں بغل گیر ہو رہے ہیں‘ اور ایاز صادق کے گھر بھی سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ عمران خان نے چاہے جس طرح سے بھی یہ نشستیں حاصل کیں‘ اس کا ایک مرتبہ ‘وزیر اعظم‘ بننے کا شوق ضرور پورا ہونا چاہیے۔ لیکن چند سیٹوں کی اکثریت سے جو ایک کمزور حکومت بنے گی اس میں سنگین ہوتے ہوئے اقتصادی، سماجی اور سکیورٹی و خارجہ پالیسیوں کا بحران بہت کچھ بے نقاب کر دے گا۔
اگر کوئی ذی شعور اس ملک کی معیشت اور سماجی انتشار کا سائنسی جائزہ لے تو کم از کم اس نظام میں اقتدار حاصل کرنے سے توبہ کر لے گا۔ کلیدی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیاں وہی مرتب کریں گے اور چلائیں گے بھی جو پہلے کر رہے تھے۔ اس کے اب تک نتائج کیا ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں۔ اقتصادی معاملات اور وزارت خزانہ کا قلمدان بدستور آئی ایم ایف کے پاس رہے گا۔ اسد عمر صاحب خود سامراجی اجارہ داریوں کے ملازم رہے ہیں‘ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک پاکستان یا کسی بھی خصوصاً نوآبادیاتی ملک میں سرمایہ دارانہ نظام رہے گا تو اس کی کنجی اور پالیسیاں بنانے کا اختیار سامراجی طاقتوں اور ان کے عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ غربت‘ محرومی اور استحصال میں مزید شدت آئے گی۔ آئی ایم ایف کے نئے قرضے نئی اور زیادہ کڑی شرائط کے ساتھ آئیں گے۔ اس میں حکمران صرف ایجنٹی کریں گے اور ذلتوں اور جبر کو پہلے سے مفلوک الحال محنت کش عوام پر ہی ٹھونسا جائے گا۔ چین صرف سی پیک کے تحفظ کے لئے ڈالر دے گا‘ لیکن ان مہنگے قرضوں سے بھی صرف سی پیک کی تعمیر کے لئے درکار چین کی مصنوعات ہی خریدی جائیں گی۔ اگر بھاری قرضے واپس نہ کیے جا سکے، موجودہ معیشت کو دیکھتے ہوئے جس کا قوی اندیشہ ہے، تو پھر وہ ان زمینوں کو بھی گروی رکھ لیں گے‘ جن پر وہ یہ راہ داری بچھا رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسوں کو پبلک کرنے سے عوام کی کتنی تعداد محظوظ ہو سکے گی۔ بھوکے پیٹ تو حسین ترین منظر بھی دلکشی کھو بیٹھتا ہے۔ ایسی فنکاریوں اور شعبدہ بازیوں سے بھوک ننگ اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوا کرتا۔ لیکن یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آئی ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں اور اداروں میں اختلافات اس سرمائے کی حاکمیت کے مختلف دھڑوں کی گھٹیا لڑائیاں ہیں۔ محنت کش عوام کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ نورا کشتیاں مفادات کی تابع ہیں۔ یہاں وفاداریاں تو کیا یہ حکمران طاقت اور دولت کی ہوس میں اپنے ایمان بدلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ تقریباً چار دہائیوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے لیکن اس کی حالیہ شدت اس حاکمیت کے گہرے تضادات اور پھوٹ کی غمازی کر رہی ہے۔ اس الیکشن نے عوام کے سامنے حاکمیت کے تمام ڈھانچوںکو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس الیکشن میں نہ کوئی امید کا ووٹ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی جذبہ تھا‘ لیکن جذبات اور امیدیں تو محنت کش طبقات میں بڑھ رہی ہیں۔ جو ایک آتش فشان بن کر پھٹ سکتی ہیں۔ ایک طویل عرصے سے بڑی عوامی بغاوت نہیں ابھری‘ لیکن جتنی تاخیر سے یہ پھٹنے والی ہے‘ اس کی شدت بھی پھر آخری فتح اور اس حاکمیت کے خاتمے تک جائے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker