ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

بنگلہ دیش میں طلبہ کی بغاوت… (1):جدو جہد/ ڈاکٹر لال خان

ڈھاکہ میں ایک روڈ حادثے میں دو طلبہ کی ہلاکت کے بعد 29 جولائی کو ابھرنے والی طلبہ تحریک اب ملک کے تمام بڑے شہروں میں پھیل چکی ہے۔ پورے ملک میں سکولوں اور کالجوں کے ہزاروں مشتعل طلبہ نے دارالحکومت ڈھاکہ کی گلیوں کو ایک ہفتے تک بند رکھا۔ وہ سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی حدت نے چند دنوں میں ہی بنگلہ دیش کے سرمایہ داروں کی پارٹی ”عوامی لیگ‘‘ کی وزیر اعظم حسینہ واجد کی آمرانہ جمہوری حکومت کے چھکے چھڑا دیئے۔ اس تحریک نے ایک دفعہ پھر یہ بات واضح کر دی کہ بحران زدہ سماج کی کوکھ میں ایک عرصے سے پلنے والے سماجی معاشی تضادات ایک خاص مقام پر پہنچ کر اچانک ایک دھماکے کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ لمبے عرصے سے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کا بڑا چرچا ہے۔ لیکن جیسا کہ اس نظام میں ”ترقی‘‘ سے ہوتا ہے کہ سرمایہ دار خوب منافع بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے وسیع حصہ کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی واقعہ، جو معمولی بھی ہو سکتا ہے، بظاہر خاموش نظر آنے والے عوام میں مجتمع شدہ غم و غصے کے پھٹ پڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی یہی ہوا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے ابتدا میں ننگی وحشت کے ساتھ طلبہ کے احتجاجوں کو کچلنے کی کوشش کی۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بنگلہ دیشی اخبار ‘ڈیلی سٹار‘ کو بتایا، ”دوپہر 12:30 بجے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کی اور بنگلہ دیش چھاترا لیگ (برسر اقتدار عوامی لیگ کا یوتھ ونگ) کے 25 سے 35 کارندوں نے طلبہ پر حملہ شروع کر دیا۔ اُس وقت انتظامیہ نے یونیورسٹی کے گیٹ کھول دیئے اور طلبا اندر آئے۔ کچھ دیر بعد غنڈوں نے کیمپس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور مین گیٹ کو توڑنا شروع کیا۔ کچھ طلبہ نے ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور ان پر اینٹیں پھینکنا شروع کر دیں۔ دوپہر 01:15 بجے تک چودہ طلبہ زخمی ہوئے۔ ہم نے ایمبولینس لانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی۔ پھر ہم نے تین گاڑیوں کا بندوبست کیا۔ ایک گاڑی طالب علم کی تھی اور دو فیکلٹی ممبران کی۔ پولیس فٹ پاتھ پر کھڑی تماشائی بنی ہوئی تھی جبکہ حملہ آوروں نے طلبہ کو زخمیوں کے ساتھ دوسری گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور پیٹنا شروع کر دیا… طلبہ کو پہلے بناسری فرازی ہسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے ابتدائی امداد تو دے دی لیکن داخل نہیں کیا… دوسرے ہسپتالوں میں لے جایا گیا لیکن انتظامیہ انہیں داخل نہیں کرتی تھی۔ آخر میں زخمیوں کو ایک دور افتادہ ہسپتال لے جایا گیا… ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے‘‘۔
طلبہ کے احتجاج کی کوریج کے دوران متعدد صحافیوں بشمول ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک فوٹو جرنلسٹ کو بھی سرکاری تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک پھیری والے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا، ”چھاترا لیگ کے مسلح اور ہیلمٹ پہنے غنڈوں کے ایک گروہ، جو صبح سے علاقے میں گشت کر رہا تھا، نے پولیس کی موجودگی میں صحافیوں پر حملے کیے۔ انہیں اندھا دھند پیٹنا شروع کر دیا اور ان کے کیمرے اور دوسرے آلات توڑ دیئے‘‘۔
این ایس یو یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم نے ڈیلی سٹار کو بتایا، ”ہم احتجاج کے لیے گئے لیکن پولیس اور بی ایس ایل کے غنڈوں نے ہمیں کیمپس کے اندر بند کر دیا۔ بی ایس ایل والوں کے پاس چھرے، ڈنڈے اور راڈ موجود تھے۔ وہ کیفے ٹیریا میں گھس گئے اور طلبہ کو احتجاج میں نہ جانے کو کہا۔ بالآخر دو بجے کے قریب طلبہ کو دو دو کے گروپوں میں چھوڑا گیا تاکہ وہ بڑے مجمع کی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ بی ایس ایل کے کارندوں نے طلبہ کو خبردار کیا کہ وہ ‘EWU‘ کے طلبہ سے نہ ملیں؛ تاہم کچھ طلبا ‘EW‘ یونیورسٹی کی طرف چلے گئے‘‘۔
اگرچہ یہ احتجاجی تحریک سماج کی دوسری محکوم اور استحصال زدہ پرتوں سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے بظاہر ماند پڑتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بنگلہ دیش میں آنے والے طوفانی واقعات کی ایک جھلک ضرور دکھاتی ہے۔ بلند معاشی شرح نمو اور غربت میں کمی کے جعلی اعداد و شمار کی بڑھکوں کے باوجود بنگلہ دیش میں محنت کش طبقے کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً زیادہ آمدنی والے پانچ فیصد لوگوں کی آمدن 2010ء میں کم آمدنی والے پانچ فیصد لوگوں کی آمدن سے 31 گنا زیادہ تھی‘ جو اب 121 گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ سرکاری طور پر ایک تہائی آبادی انتہائی غربت میں رہتی ہے جبکہ حقیقی غربت اس سے بھی دو گنا تک ہو سکتی ہے۔ ساٹھ لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ یونیسیف کے مطابق 3 کروڑ تیس لاکھ بچے (کل بچوں کی نصف تعداد) انتہائی غربت اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ صرف ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں بیس لاکھ چھوٹی بچیاں گھریلو ملازم ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہر 15 میں سے ایک بچہ پانچ برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ 48.6 فیصد بچوں کی نشوونما نا مکمل ہے۔ بی بی سی کے مطابق 50 فیصد بچے سکول جانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جو پرائمری سکول جانے کے متحمل ہوتے ہیں‘ ان میں پانچ میں سے ایک ہی سیکنڈری سکول تک جا پاتا ہے اور ان سیکنڈری سکولوں میں سے 25 میں سے ایک طالب علم ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر پاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا شکار ہو جانے والے بچوں کی تعداد بھی دسیوں ہزار ہے۔ بیروزگاری (بشمول پوشیدہ بیروزگاری) کی سطح انتہائی بلند ہے جبکہ کام کے بد تر حالات اور بے گھری کی شرح بھی انتہائی زیادہ ہے۔ ان معاشی بد حالیوں کو شدید ہوتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی نے مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ کوئلے کی کانکنی اور کاغذ کی صنعت کی نجی کارپوریشنز سے دنیا میں مینگروو کے سب سے بڑے جنگل سندربن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ آج بھی بنگلہ دیش دنیا کے سب سے پسماندہ ممالک کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔ تیز رفتار اربنائزیشن کے ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اب شہروں میں رہتا ہے۔ بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے سب سے گنجان آباد ممالک میں ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک 2017ء کے مطابق لیبر کا قومی آمدنی میں حصہ اب 1970ء کی سطح سے بھی 4 فیصد کم ہے۔ ریاست کے ساتھ ساز باز کے پیش نظر امیر طبقہ مشکل سے ہی کوئی ٹیکس ادا کرتا ہے۔ سرمایہ دار، ریاستی حکام اور دولتمند سیاستدان ایک شیطانی ٹولے کی شکل میں بنگلہ دیش کا حکمران طبقے تشکیل دیتے ہیں۔ سرمایہ دار ملک سے بڑے پیمانے پر پیسہ لوٹ کے بیرونی ممالک کے بینکوں میں منتقل کرتے جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش 20 اَرب ڈالر کے گارمنٹس، جو اس کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری ہے، دنیا کے 30 ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ یہ اب چین کے بعد ملبوسات بنانے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس صنعت میں 5000 فیکٹریاں ہیں جن میں تین ملین مزدور کام کرتے ہیں جن میں سے 80 فیصد خواتین ہیں۔ فیکٹری مالکان کا 70 فیصد چھوٹے ٹھیکیدار ہیں جو بیرونی خریداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ پے در پے فوجی اور سویلین حکومتوں نے نجکاری اور برآمدات پر منحصر صنعتکاری کی پالیسیوں کو جاری رکھا ہے۔ پیداواری لاگت کو کم سے کم اور رفتار کو تیز تر کرنے کے لئے فیکٹری منیجر مزدوروں کی محنت کو بے رحمانہ طریقے سے نچوڑتے ہیں اور حفاظتی اقدامات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ٹریڈ یونین میں حصہ لینے والوں کو فارغ کر دیا جاتا ہے یا انہیں اس سے بھی بد تر نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاست کا اس سب سے کوئی سروکار نہیں۔ اسے صرف کاروبار چاہئے۔ اس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی غربت، اجرتوں میں گراوٹ اور کام کے طویل اور خطرناک حالات کار ہیں۔ (جاری)
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker