ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

سرمایہ داری کے بین الاقوامی زوال کے دس سال!:جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

آج کے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جہاں محض 8انفرادی شخصیات دنیا کی دوتہائی دولت کی مالک ہیں اور اربوں افراد ذلت و غربت کی اذیتوں میں مبتلا ہیں‘وہاں اس ساری بربادی کے مجرم سرمایہ دارانہ نظام کا متبادل تلاش کرنے کی جستجو‘ یہاں کے معیشت دانوں‘ ماہرین اور مفکرین نے ترک کر دی ہے۔ اس نظام کو ہی نسل انسان کا حتمی مقدر قرار دیا جا رہا ہے ۔ لیکن اس بین الاقوامی نظام کو محنت کش طبقات اور محروم عوام ایک طویل عرصے تک برداشت نہیں کریں گے۔
2008ء کے معاشی انہدام کو ایک عشرہ مکمل ہو چکا ‘مگرسرمایہ داری اس بحران کی لپیٹ سے ابھی تک باہر نہیں آ سکی۔ بیشتر ممالک بشمول امریکہ میں بحالی کے تمام تر سرکاری دعووں کے باوجود معیشت کی صورتحال انتہائی نازک ہے اور بحالی انتہائی کھوکھلی ہے جو محنت کش طبقے اور نوجوانوں کے سماجی اور معاشی حالات میں کوئی بہتری لانے سے قاصر ہے۔ الٹا حالات زندگی میں مسلسل ابتری اور کٹوتیاں ہی 2008ء کے بعد کا معمول ہیں۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ معیشت ایک باریک رسی پر لڑکھڑاتے اور ڈولتے ہوئے چل رہی ہے۔ کہیں گہرابحران‘ کہیں معیشت کی سست روی‘ کہیں جزوی لیکن نحیف بحالی اور مجموعی طور پر مسلسل عدم استحکام اور نازک کیفیت‘ عالمی معیشت کی موجودہ صورتحال کو اسی طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری کے اپنے معیشت دان 2008ء کے بعد کے عہد کو ‘لمبے عرصے تک چلنے والی سست روی‘پر مبنی قرار دے چکے ہیں اور معیشت میں ‘مسلسل گراوٹ‘ کا تناظر پیش کر چکے ہیں۔ سرمایہ داری کے بڑے نامور ماہرین 2008ء کے کریش کی قطعاً پیش گوئی نہیں کر سکتے تھے۔ اسی طرح وہ ایسے بحرانوں کی حقیقی وجوہات کا تعین اور انہیں فوری محرکات سے ممیز کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل حکمران طبقات کے نامور معیشت دانوں کا المیہ یہ ہے کہ جس نظام معیشت کے وہ ماہرین ہیں اس میں مرمت کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں صرف ‘جگاڑ‘ ہی رہ جاتے ہیں جو کر کے نظام کو ‘دھکا سٹارٹ‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اکثر اوقات یہ جگاڑ پہلے سے زیادہ پیچیدہ بحران کو جنم دیتے ہیں۔
مارکس نے سرمائے کے ارتقا کے تناظر‘ اس کی عالمگیریت اور اس کے موضوعی بحران کے عمومی خطوط استوار کئے تھے۔کارل مارکس نے ‘سرمایہ‘ میں لکھا تھا کہ ”عمومی شرح منافع کی گراوٹ ‘سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کا ایک مخصوص اظہار ہوتا ہے۔ یہ محنت کی سماجی پیداواریت کی ترقی کے ارتقا کی غمازی کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ عارضی طور پر شرح منافع کی گراوٹ کی دوسری وجوہات نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اگر ہم سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کی فطرت کے حوالے سے جائزہ لیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اس کے ارتقا میں قدر زائد کی عمومی اوسط شرح منافع کی گراوٹ میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ چونکہ زندہ‘ باروزگار محنت کی بڑی تعداد اپنی پیدا کردہ مادی محنت (مشینری و ٹیکنالوجی) کے مقابلے میں مسلسل تنزلی کا شکار ہوتی ہیں…زندہ محنت کا قدر زائد میں منجمد حصہ مجموعی سرمائے کی قدر کے مقابلے میں لازمی طور پر مسلسل گرتا چلا جاتا ہے۔ چونکہ قدر زائد سے مجموعی لگائے گئے سرمائے کی نسبت ہی شرح منافع بناتی ہے‘ اس لئے یہ شرح گر جاتی ہے‘‘۔
ذرائع پیداوار میں نئی پیش رفت اور مسلسل پھیلاؤ کے لیے جس سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے وہ منافعوں سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حکمران طبقات کے پروردہ طبقات کے ارتقا کے لئے بھی منافعے درکار ہوتے ہیں۔ قرضوں کی واپسی کا عمل بھی شر ح منافع میں گراوٹ کے پیش نظر مشکل ہوتا چلا جاتا ہے اور قرضوں کا حجم بڑھتا جاتا ہے جو ایک نہج پر پہنچ کر بحران کو جنم دیتا ہے۔شرح منافع کو برقرار رکھنے کے لئے سرمایہ داروں کو قدر زائد میں مسلسل اضافہ کرنا پڑتا ہے جس کے لئے قوت محنت کی قدر کم سے کم کی جاتی ہے (اجرتوں میں کمی)‘ اوقات کار بڑھائے جاتے ہیں‘ پیداواری عمل کو تیز کیا جاتا ہے اور جدید مشینری اور ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے۔ نجکاری بھی سرکاری معیشت کے زیادہ منافع بخش شعبوں کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ان عوامل سے وقتی طور پر شرح منافع بحال ہوسکتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کے خمیر میں موجود تضاد کو دبایا نہیں جا سکتا اور لمبے عرصوں میں شرح منافع میں گراوٹ کا رجحان برقرار رہتا ہے۔ علاوہ ازیں محنت کے شدید استحصال اور اجرتوں میں مسلسل کٹوتیوں کا عمل منڈی کو سکیڑ نے لگتا ہے جس سے زائد پیداوار کے بحران جنم لیتے ہیں۔ یہ عمل گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمیں زیادہ شدت اور وضاحت سے نظر آتا ہے۔ پیداواری عمل میں شرح منافع کی گراوٹ کے پیش نظر ہی سرمائے کا رخ سٹے بازی اور مالیاتی سیکٹر میں جوئے اور ہیر پھیر کے دوسرے ہتھکنڈوں کی جانب مڑ جاتا ہے۔ یہ بلبلے بڑھتے چلے جاتے ہیں ‘آخر کار 2008ء جیسی کیفیات میں پھٹتے ہیں۔
2008ء کا مالیاتی کریش اس سے قبل کے لمبے عرصے میں قرضوں کے مجتمع شدہ پہاڑ کے زمین بوس ہونے کا نتیجہ تھا جو ایک کے بعد دوسرے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا گیا۔ ان قرضوں میں عام صارفین‘ کارپوریٹ کمپنیوں اور ریاستوں کے قرضے سبھی شامل تھے۔ ان قرضوں کے ذریعے منڈی کو مصنوعی طور پر پھیلایا جاتا رہا‘ پیداوار کو کھپایا جاتا رہا‘ تضادات کو دبایا جاتا رہا اور اثاثوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں جن کی بنیاد پر سٹے بازی کا بازار گرم رہا۔ مثلاً امریکہ میں سستے اور آسان قرضوں کی وجہ سے ہاؤسنگ اور پراپرٹی کا بلبلہ وسیع ہوتا رہا‘ سٹے بازی عروج پر رہی اور رئیل اسٹیٹ کے مگر مچھ خوب مال بناتے رہے۔ لیکن کوئی بھی بلبلہ لا متناہی طور پر پھیل نہیں سکتا اور قیمتوں کو آخر کار اپنی حقیقی سطح پر واپس لوٹنا ہوتا ہے۔ یہ بلبلہ جب پھٹا تو دیوالیے کا سلسلہ شروع ہوا اور امریکہ میں مالیاتی کریش نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا۔ یہ درحقیقت کوئی الگ تھلگ واقعہ یا بیرونی عامل نہیں تھا ‘جیسا کہ سرمایہ کاری کے معذرت خواہان بیان کرتے ہیں کہ ‘بہتر مینجمنٹ‘ اور قواعد و ضوابط سے اس طرح کے بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ لمبے عرصے سے پکنے والے سرمایہ داری کے داخلی تضادات کا اظہار تھا۔ سرمایہ داری کے بحران کا اظہار سٹاک مارکیٹ سے لے کر رئیل اسٹیٹ اور بینکنگ تک‘ معیشت کے کسی بھی شعبے میں بلبلے کے پھٹنے یا دیوالیے وغیرہ کے ذریعے ہو سکتا ہے‘ لیکن یہ بذات خود بحران یا بحران کی بنیادی وجہ نہیں ہوتی بلکہ فوری وجہ ہوتی ہے اور نامیاتی تضادات کا واقعاتی اظہار ہوتا ہے۔ 2008ء کا مالیاتی کریش اور اس کے بعد یورپ میں ریاستی قرضوں کا بحران بھی ایسے ہی ‘حادثات‘ تھے جو لمبے عرصے سے چلے آرہی ضرورت کا اظہار تھے۔
اس نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور تاریخی استرداد کے سماجی اور سیاسی اثرات کہیں بغاوتوں اور انقلابی تحریکوں اور کہیں خونریزی‘ بربریت اور جنگوں کی شکل میں مسلسل ابھر رہے ہیں۔ عدم استحکام اور انتشار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اصلاح پسندی اور قدامت پرستی کی سیاست یورپ‘ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں زوال پزیری کا شکار ہے۔ معاشی توازن کے ٹوٹ جانے سے سیاسی اور سماجی توازن بھی بگڑ گیا ہے۔ ایسے میں بائیں اور دائیں بازو کے نئے رجحانات ابھر اور زائل ہو رہے ہیں۔ اس نظام کو ‘بہتر‘ کرنے کی ہر سیاست ناکام ہے۔ جبر کا سب سے بڑا آلہ کار ریاست بھی اس بحران اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔سرمایہ داری کے بطن میں بحران ہیں‘ جو محنت کشوں اور محکوموں کی زندگیاں اجیرن بنا رہے ہیں۔اس وحشت سے نجات شعوری انقلابی کاوش کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker