راؤ خالدکالملکھاری

نئی حکومت اور توقعات۔۔رولا رپہ/راؤ خالد

عمران خان نے ابھی وزیر اعظم کا حلف اٹھا کر مبارکباد وصول کرنا بھی شروع نہیں کی ہو گی کہ انہیں فوراً نیا پاکستان بنانے میں ناکامی کے طعنے ملنا شروع ہو گئے ۔یہ تمام وہ لوگ ہیں جو نہ تو نئے پاکستان پر یقین رکھتے ہیںبلکہ پرانے پاکستان کو بنانے اور اسی طرح رکھنے کے لئے وہ کسی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان مطالبات کو دیکھتے ہوئے بہت سے لطیفے اور سوشل میڈیا پر ڈرامائی قسم کی نئے پاکستان بننے کے حوالے سے طنز ومزاح سے بھر پور ویڈیوز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر تخلیق کاروں کی سوچ کی پرواز کا اندازہ ہوتا ہے اور بے اختیار یہ مصرعہ زباں پر آجاتا ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی عمران خان کے مخالف جہاں بھینسوں کی نیلامی پر لطیفے بنا رہے ہیں ،اور تیس دن تیس لطیفے جیسا جملہ کس رہے ہیں ان کے حامی طنز کے نشتر کچھ اس طرح چلا رہے ہیں ،عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سورج مشرق سے ا بھی تک نکل رہا ہے۔ پیزا کی ہوم ڈیلیوری آج بھی آدھے گھنٹے میں ہو رہی ہے۔ کھڑکی کے باہر دیکھا تو منظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ جس کو فون کریں وہ تیسری گھنٹی کے بعد ہی فون اٹھاتا ہے۔ سڑک پر موٹر سائیکل والے ابھی بھی زگ زیگ کرکے چل رہے ہیں۔ ستمبر ختم ہونے کو ہے سردی آنے کا نام نہیں لے رہی ۔غرضیکہ ہر کوئی مشتاق یوسفی بننے کے چکر میں ہے۔ عمران خان کے مخالفین کی طنز، مذاق اڑانا، لطیفے سنانا سمجھ آتا ہے ان کی تنقید بھی بجا ہو گی۔ اگر وہ رائی کا پہاڑ بنا رہے ہیں تو اس پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اس طرح سے میڈیا پر اگر حکومتی کارکردگی کے حوالے سے تنقید ہو رہی ہے تو بیشتر ان اقدامات کے حوالے سے ہے جس کے بارے میں تحریک انصاف کا ایک موقف رہا ہے۔ جہاں وہ اپنے اصولی موقف سے ہٹ کر قدم اٹھائیں گے تو تنقید ضرور ہو گی۔ اس صورتحال میں اصل مسئلہ تحریک انصاف کے حامیوں کی ایک اقلیت کا ہے۔ جن کی حکومت بننے کے بعد کچھ توقعات تھیں۔ شاید انہوں نے اس کی کوئی ڈیڈ لائن بھی مقرر کر رکھی ہو۔ ایسے لوگوں کی توقعات کو میں تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ۔ انفرادی، گروہی اور قومی توقعات ، جن لوگوں کی انفرادی توقعات ہیں ان کا جلد مایوس ہونا بنتا ہے۔ کیونکہ حکومت پورے پاکستان کے عوام کی نمائندہ ہے۔ ا فرادذاتی یاگروہی سطح پر جس قسم کی تبدیلی کی خواہش رکھتے تھے تو وہ سر دست شاید پوری نہ ہو سکی ہو ۔ممکن ہے کسی کو وزیر ، مشیر بننے کی یاکسی بڑے سرکاری ادارے میں کسی اہم عہدے پر تعیناتی کی خواہش یا پھر ورکرز کی سطح پر مخالفین کی سرکوبی جیسے خیالات ہوں۔ ہمارے ہاں جس قسم کی سیاست رائج رہی ہے اورجسکے ہم عادی ہیں اس میں بھلے آپ نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیئے ہوں لیکن سیاست آپ وہی دیکھنا چاہتے ہیں جہاں حکومتی جماعت کے حواریوں کی بات ہی حرف آخر ہو بھلے تھانے کچہری کا معاملہ ہو تقرر وتبادلے کا کام ہو۔ قانون کی خلاف ورزی ہو‘ سب فری ہینڈ چاہتے ہیں۔ انفرادی سوچ بدلے بغیر قومی ترقی اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں جس کے خواب عمران خان دکھاتے رہے ہیں اور وزیر اعظم بننے کے بعد اسکا اعادہ بھی کیا ہے۔ اس کے لئے انفرادی اور گروہی سوچ کو قومی سوچ کے عدسے سے دیکھنا ہو گا۔ عمران خان کی کامیابی کا راز یہی سوچ ہے۔ اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر ایک بڑے مقصد کے لئے اس نے علم اٹھایا اور بائیس سال کی جدوجہد کا صلہ پایا۔ میرا خیال ہے کہ جتنی پریشانی ایک ماہ کی تنقید سے پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو ہو رہی ہے شاید ان کے قائد کو نہیں ہے کیونکہ اسکو اپنے مشن کا پتہ ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ جو راہ اس نے چنی ہے اسی پر پوری توجہ اور استقامت کے ساتھ قائم رہنا ہے‘ اسی میں اس کی کامیابی ہے اور یہ ملک ایک مثالی سلطنت بن سکتا ہے جو لوگ عمران خان کے حوالے سے قومی توقعات رکھتے ہیں وہ اس کے ساتھ کھڑے بھی رہیں گے اور اس کامیابی کے راستے پر چلتے بھی رہیں گے۔ عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو اصل صورت حال یہ تھی کہ چالیس پچاس سال سے حکومتی ایوانوں پر قابض اشرافیہ ،آکٹوپس کی طرح ایک دو ادارے کے علاوہ ہر قومی ادارے کو اپنے بندوں کے ذریعے اپنی جکڑ میں لئے ہوئے تھی‘ ان اداروں کی کارکردگی کا ایک خاص انداز بن چکا ہے اور عرصہ درازتک ایک خاص طریقے سے کام کرتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیدیا جو نئے پاکستان کی تکمیل کے خیال کو فروغ دینا تو دور کی بات اس کی مکمل نفی کرتاہے۔ ایسی صورت حال میں جب آپ نیا پاکستان تشکیل دینے نکلے ہیں تو آپ کو اس سارے ڈھانچے کو مسمار کرنا ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد ایک کرپٹ اور بری گورننس کے آئیڈیا پر رکھی گئی تاکہ کوئی ادارہ حکمرانوں کی مرضی کے خلاف چل ہی نہ سکے اور جب اس ڈھانچے کو مسمار کرنے کا کام کوئی بھی حکومت شروع کرے گی تو ہر طرف آہ وبکا یقینی ہے کیونکہ مفادات پر زد پڑ رہی ہے خواہ وہ کسی بھی طبقے گروہ یا فرد کے ہوں اور نئے پاکستان کی تشکیل میں سب سے مشکل کام یہی ہے کہ اس ڈھانچے کو مسمار کیا جائے۔ عمران خان اس کو مسمار کرنے میں کتنا وقت لیتے ہیں یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اگر اہم ہے تو اس نظام سے چھٹکارا ہے جس نے ملک میں ظلم، چیرہ دستی اور طاقتور کی حکمرانی کے تصور کو مستحکم کیا ہے۔ اگر پانچ سال میں بھی اس نظام کو تباہ کر دیا جاتا ہے تو یہ اس قوم کے لئے عمران خان کا سب سے بڑا تحفہ ہو گا۔ نیا نظام تشکیل دینے میں پھر کوئی وقت درکار نہیں ہو گا۔ بحیثیت قوم ہمیں اس پرانے ڈھانچے کو گرانے میں بھر پور مدد کرنی چاہئے تاکہ جلد از جلد اس سے نجات حاصل ہو۔ کسی کو ذرا سا بھی احساس ہو کہ ہمیں کس قسم کے حکمرانوں سے نجات ملی ہے۔ تو وہ اسکو کامیابی سمجھ کر اگلے پانچ سال کیا دس سال تبدیلی کا انتظار کر سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker