اختصارئےادبڈاکٹر نجیب جمال

ماہ طلعت زاہدی : حادثہ کیا ہوا بکھرے ہوئے سناٹے میں ۔۔ڈاکٹر نجیب جمال

اسے ” آگ کا دریا ” کے سو صفحات منہ زبانی یاد تھے۔ ناول کا پہلا جملہ بھی پہلی مرتبہ اسی سے سنا ” گوتم نیلمبر نے چلتے چلتے ٹھٹھک کر پیچھے دیکھا۔راستے کی دھول بارش کی وجہ سے کم ہو چکی تھی ” اسے قرت العین حیدر سے اور اس کی ایک ایک تحریر سے ، میر تقی میر سے ، کرشن چندر سے، بارش سے اور اپنے پاپا ڈاکٹر سید مقصود زاہدی سے عشق تھا۔ قراۃ العین حیدر کے افسانوں ” میں نے لاکھوں کے بول سہے ” ، “آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا ” ، ” کیکٹس لینڈ ” ، ” یہ داغ داغ اجالا ” ،”انت بھئے رت بسنت میرو “،”جلا وطن” ، کے عنوان پہلے پہل میں نے اس سے سنے اور بعد کو پڑھے۔ کرشن چندر کا ناول “غدار” اس کا پسندیدہ تھا۔اپنی پہلی نظم بھی ” کرشن چندر” کے نام سے لکھی۔اپنی غزلوں کے پہلے مجموعے “شاخِ غزل” میں میر کے اس شعر کو سرنامہ بنایا :چپکے ہیں ہم تو حیرتِ حالاتِ عشق سے
کریے بیاں جو واقفِ اَسرار ہو کوئی
بارش اس کی روٹھی ہوئی سہیلی تھی ۔جسے وہ اپنے خوابوں میں من کے ساگر پر برستا دیکھتی تھی :
بارش میں نہا رہا تھا ساگر
کل کیسا عجیب خواب دیکھا
اس کا پہلا اور آخری عشق اس کے پاپا ، جدید رباعی گو شاعر مقصود زاہدی مرحوم تھے،جن کے دائمی رخصت لینے کے بعد وہ زندہ تھی بھی کہ نہیں کچھ پتا نہ چلا۔اس کی آنکھیں ہر منظر، ہر تحریر، ہر چہرے میں بس انہیں ہی ڈھونڈتی تھیں۔ان کی وفات پر اس نے جو غزل لکھی وہ ایک ایسا حزنیہ ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے :
قبر پہ پھول کھلا آہستہ
زخم سے خون بہا آہستہ
دھیان کے زینے پہ یادوں نے پھر
دیکھیے پاؤں دھرا آہستہ
کہنے کو وقت گزرتا ہی نہ تھا
اور جگ بیت گیا آہستہ
کاٹے سے رات نہیں کٹتی تھی
پھر بھی دن آ ہی گیا آہستہ
آنکھ میں چہرہ بسا رہتا ہے
اس لیے اشک گرا آہستہ
رو کے میں نے یہ کہا دنیا سے
غم کو سہنا ہی پڑا آہستہ
شاید کہ اسے پاپا سے ملنے کی طلب تھی ۔
آج اس کی اس راہِ طلب میں آخری رات تھی۔نہ کسی سے کچھ کہا نہ کچھ سنا بس آہستہ سے اپنے پاپا کی یاد میں کہی ہوئی غزل کی ردیف کی مانند چل دی مگر جاتے جاتے کان میں ہولے سےاپنا یہ شعر کہہ گئی۔
حادثہ کیا ہوا بکھرے ہوئے سناٹے میں
لفظ سے رشتہِ اظہار بھی باقی نہ رہا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker