اختصارئےڈاکٹر نجمہ شاہینلکھاری

میں بھلا کہاں ؟ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

یہ انسان بھی کیاچیز ہے ،ساری عمر اسی تگ ودومیں گزاردیتاہے کہ میں کہاں ہوں ۔میں کہ جس نے لمحہ لمحہ خودکوبنایا ،سنوارا اورجب بن گیا تواس میں میری اپنی ذات ،میرااپنا وجودبھلا کہاں رہ گیاہے۔ان برسوں اوران لمحوں میں میرالمحہ کہاں رہ گیا۔خودمیں کہاں رہ گیا ؟میں جولمحوں کو جوڑتارہا، وقت کے تعاقب میں رہا،جب لمحوں کو جوڑ چکااوروقت کواپنی گرفت میں لے چکا توپھرمیں بھلاکہاں رہ گیا۔اورجس وقت کو میں نے اپنی گرفت میں لیااوراپنا سمجھ کرگرفت میں لیا۔وہ وقت کس کاتھا؟ میں کہاں ؟ وقت کہاں ؟ بے وقت کی یہ راگنی اوربے وقت کایہ نوحہ کچھ بھی تو نہیں رہا۔
اورپھربس میں کہاں والی تلاش ہی باقی رہ جاتی ہے ۔
وقت کبھی واپس نہیں مڑتا،اوروقت کو اس سے کوئی سروکاربھی نہیں کہ کوئی کہاں خودکوکھوآیا ،کوئی کہاں رہ گیا۔اورسچ تویہ ہے کہ میں کہاں والا سوال وہیں کھوجاتاہے جب انسان لمحے لمحے میں خودکوتلاشناشروع کرتاہے ۔وہ جومٹی ہوکے جی رہاہوتاہے ۔زمانے جیسا ،زمانے کی طرح اور زمانے کیلئے جی رہاہوتاہے ۔بس زندگی کی ایک دوڑ ہوتی ہے ۔بھاگ رہاہوتاہے جس میں نہیں معلوم ہوتا کہ کیوں اور کس کے لئے بھاگ رہاہے۔اورجب بھاگتے بھاگتے تھک جاتاہے ،سستانے کیلئے بیٹھتاہے تواُس لمحے یہ ا حساس جاگتاہے کہ کس کے  لئے اتنابھاگا اورکس کےلئے خود کواتناتھکایا۔اپنے لئے؟ اگراپنے لئے توپھرمیں خودہوں کہاں۔اوریہ میں کون ؟۔والاسوال کُن سے شروع ہے ۔مگراس کاجواب کہیں نہیں ۔جب جواب نہیں توپھر یہ سوال توبے معنی ہے اورجب بے معنی سوال ہیں توپھر خود اپنی ذات کااپنے وجود کااداراک کیسا؟
یہ زمین ،یہ آسمان  ،یہ جہاں ،یہ لامکاں،کہیں نہیں ،کہیں نہیں ہوں میں ۔ کہاں ہوں میں ؟ میں ہوں کہاں ؟ اورجب اپنے ہونے نہ ہونے کااداراک ہوتاہے تب وقت گزرچکاہوتاہے اورتب ہستی اپنی وقعت کھوچکی ہوتی ہے ۔اورتب اپنی ذات اس قابل بھی نہیں ہوتی کہ مٹی کے ایک ذرہ کے برابر بھی ہوسکے ۔مٹی کا ذرہ بھی کوئی دیوار ،کوئی گھر ،عمارت ،کوئی پہاڑ ،کوئی کنارہ بنانے میں اپنی وقعت رکھتاہے مگریہ انسان کچھ بھی تونہیں بس یہ بھاگنے کے لئے اورہلکان ہونے کے لئے پیداہوااوراس کے بعد یہ سوچنے کے لئے پیداہوا کہ میں کون ہوں ،کہاں ہوں اورمیرالمحہ کہاں رہ گیا۔
جوسمجھو تومکاں سے لامکاں تک
اورجونہ سمجھو توبس ایک ذرہ   ء بے نشاں ،بے اماں
میں کہاں ؟
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker