باجی آ پ سے ایک درخواست ہے کیا آپ اپنی سٹاف کو باہر بھیجیں گی پلیز میں نے اپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ میں پہلے تو اس کی اس بات پہ ہچکچائی مگر پھر میں نے سٹاف کو باہر بھیج دیا اور اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
”ہاں گل ہانی بی بی بتاؤ اب بتاؤ کیا کہنا چاہتی ہو ؟“
” باجی مجھے آپ سے بات کرتے ہوئے شرم تو آتی ہے مگر میں کیا کروں میں یہ بات کسی اورسے نہیں کہہ سکتی آپ ہی مجھے کوئی ایسا حل بتائیں کوئی ایسی دوا بتائیں کہ جس کی وجہ سے میری نفسانی طلب کم ہو جائے “
”میں سمجھی نہیں گل ہانی بی بی۔“ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
وہ تقریباً 47 سال کی ان پڑھ اور جاہل سی عورت تھی،
”میرے خاوند کا ایک سال پہلے انتقال ہو گیا ہے میری چھوٹی عمر میں شادی ہوئی تھی اور میرے بچے جوان اور شادی شدہ ہیں میں جانتی ہوں کہ بیٹوں اور بھائیوں نے بلوچوں کی سخت روایات کی وجہ سےمیرا کسی سے نکاح نہیں ہونے دینا میں اپنے نفس کی طلب سے بے چین ہو جاتی ہوں اگر میں باہر جا کر کوئی گناہ کروں گی تو اللہ معاف نہیں کرے گا اور نکاح کے لیے کہوں گی تو میرے بیٹے ،بھائی مجھے مار دیں گے اس لیے میری طلب خود ہی کم ہو جائے تو اس کے لیے میں مجھے آپ کوئی ایسی دوائی لکھ دیں“۔۔۔
میں جو خود کو پڑھی لکھی اور دنیا میں اپنے حقوق کوسمجھنے والوں میں سےتصور کرتی تھی آج بڑی حیرانی سے اور کچھ بے بس نگاہوں سے اس ان پڑھ عورت کو دیکھ رہی تھی جو ہم جیسی کئی پڑھی لکھی عورتوں سے زیادہ اپنی ذات کی ڈیمانڈ اور فطری حق کو سمجھتی تھی ۔۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور صرف اس کی تسلی کے لیے کچھ سکون آور اورملٹی وٹامن لکھنے لگی۔۔
فیس بک کمینٹ

