ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم۔۔اِسے پرواز کرنے دو

کتاب میں موجود حروف علم و دانش کے وہ موتی ہوتے ہیں جو حیات و کائنات کو منور کرتے ہیں۔ مجھے پارسل میں ’’اِسے پرواز کرنے دو‘‘ کتاب موصول ہوئی جو ضیاء الدین یوسف زئی نے خوبصورت کلمات کے ساتھ بھیجی تھی۔ کہنے کو تو یہ خاندانی واقعات کا خاکہ ہے جس میں اس دور کا بھی تذکرہ ہے جب سوات کا حسن گہنایا گیا تو زمین کے دِل پر لگے زخموں نے کتنے حساس لوگوں کا دل چھلنی کیا۔ اِس میں غیرمحسوس طریقے سے اپنی کہانی کے ذریعے معاشرے کو صنفی امتیاز ختم کرنے کا دلکش پیغام دیا گیا ہے۔
ہمارے ملک میں بےشمار ملالائیں کسی ضیاء الدین یوسف زئی کی مہربان اور شفقت بھری نظر کی منتظر ہیں جو انہیں درجوں میں تقسیم نہ کرتا ہو، ان کے لئے ہم مائیں بہنیں بیٹیاں لکھ کر انہیں ذمہ داریوں اور احسان کے بوجھ تلے دفن نہ کرتا ہو بلکہ ان کے راستے میں بچھی رسموں اور رواجوں کی رکاوٹیں دور کر کے انہیں بلاخوف آگے بڑھنے میں معاون ہو۔ ایک فرد کی حیثیت سے ان کی نشوونما کرے، ان کو پھلنے پھولنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع عطا کرے۔ قدرت کچھ شخصیات کو معاشروں کی رہنمائی کے لئے ایک آئیڈیل نمونہ بنا کر بھیجتی ہے تا کہ وہ دوسروں کے لئے محنت اور جدوجہد کا استعارہ بن سکیں۔ ملالہ یوسف زئی بھی ایک ایسی ہی لڑکی ہے جس نے شاید بولنے سے پہلے ہی تفریقی نظام کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا، شعور کی سیاہی سے پہلا لفظ لکھا مگر لفظ لکھنے سے پہلے سوچ کی کئی کلاسیں پڑھ لیں۔ اس کے سامنے اس کا والد ایک درسگاہ کی مانند موجود تھا جو تبلیغ اور تلقین نہیں کرتا تھا اور یہ باتیں تو وہ سمجھ بھی نہ پاتی وہ عمل سے چیزوں اور رویوں کی تشریح کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس نے چلنا شروع کیا اور پتھریلی زمین میں نہروں کا احساس پایا کیونکہ پائوں تلے نرم لہجے کا قالین بچھا تھا۔ وہ بے خوف تھی کیونکہ قدم قدم پر اس ڈھال کا احساس ہمراہ تھا جو اس کی انگلی پکڑ کر اسے پیچھے چلنے کا حکم دینے کی بجائے اس کے رستوں سے کانٹے صاف کرتا ہوا اسے آگے بڑھنے کے مواقع عطا کر رہا تھا۔ ملالہ یوسف زئی کے بارے میں جان کر ہمیشہ میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ہمارا رویہ اور ہمارا تعارف مکروہ تب ہوا جب ہم نے بھیڑیوں کو اپنا ہیرو مان لیا۔ جب نفرتوں کے بیوپار کرنے والوں سے ناطہ جوڑ لیا، ہم خون بہانے والوں پر ناز کرنے لگے لیکن امن کی بہار اور تعلیم کی روشنی سے ذہنوں کے اندھیروں کو مٹانے کی بات کرنے والی کو اپناتے ہوئے آج بھی بہت سارے لوگ بہت سارے جواز تلاش کر لیتے ہیں۔ میں اس دن کی منتظر ہوں جس دن ملالہ یوسف زئی جیسی بہادر اور پوری دنیا کے سامنے اپنی زمین کا مقدمہ لڑنے والی، اِنسانوں کی بات کرنے والی اس ملک کی رہنمائی قبول کرے۔ یقینا اسی دن کو ہم نئے دور کا آغاز کہیں گے کیونکہ ایک ایسا رہنما جو زمین پر ننگے پاؤں چل کر اس کا دکھ محسوس کر چکا ہو، جو اِردگرد پھیلی ناہمواریوں سے گر کر اٹھنے کی ہمت رکھے، جس نے سفر کے آغاز میں اپنی ذات پر خون کے چھینٹے سہے ہوں، جو موت و کشمکش کی لڑائی لڑ چکا ہو، جس کو نچلے طبقے کے معاملات کا احساس ہو وہ بہتر طور پر معاملات کا ادراک کر سکتا ہے۔ جہاں ہمیں بہت سارے زخم لگے، ہماری پہچان کو داغدار کیا گیا وہیں ملالہ ایک ایسی روشن کرن بن کر اُبھری جس نے دنیا بھر میں ہمارے لئے نیک نامی سمیٹی۔ اچھی پہچان کو اپنی پہچان بنانے کا وقت ہے۔ یہ کتاب بھی لفظ بلفظ جدوجہد کی نشانی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اس معاشرے کی ہر لڑکی میں ملالہ کا عکس ہے اور ملالہ اب ایک فرد نہیں رہی ایک انجمن بن گئی ہے، استعارہ بن گئی ہے۔ آج کی لڑکیوں کو اپنے اندر کی ملالہ کو اُجاگر کرنے دیںلیکن اس کیلئے ضیاء الدین یوسف زئی جیسے مہربان والد کا گھنا سایہ اور شاباشی بھری نظر کی ضرورت ہے جو بِن کچھ کہے حوصلوں کو توانا کرتی اور آگے بڑھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی تمام اونچ نیچ کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ صنفی امتیاز کئی معاشرتی برائیوں کی وجہ بنتا ہے۔ ضیاء الدین یوسف زئی کی یہ کتاب ہر فرد کو پڑھنی چاہئے اور معاشرے کی درستگی کا آغاز گھر سے کرنا چاہئے۔ ملالہ کی کامیابی دراصل ضیاء الدین یوسفزئی کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ایک خزاں آلود گھر سے بہار کی چاہت میں سفر آغاز کرنے والے عظیم شخص نے اپنے آہنی حوصلوں سے بل کھاتے پہاڑوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک رستے کا نقش ابھار کر سفر کرنے والوں کے لئے سمت متعین کر دی ہے۔ اس راستے کو مزید پختہ کرنا اور ان پر درخت لگانا اس نسل کے والدین کی ذمہ داری ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker