گزشتہ ماہ عیدالفطر گزری اوراس حوالےسے بہت سی پوسٹیں نظر سے گزریں ۔عیدمبارک کی وڈیوز ،تصاویر، پیغامات بہت کچھ تھا۔ میں اس عید مبارک میں سوچتی رہی کہ ہم زندگی میں کیسے ایک دوسرے کو عیدمبارک کہتے ہیں یہ جانے بنا کہ یہ عید دوسرے کے لیے مبارک ہے بھی یانہیں۔
قارئین ! اس سے غلط مطلب مت نکالیے گا ۔میں اپنے اردگرد ماحول کا ذکر کر رہی ہوں جس کامجھے سامناہوا یا جو میں جانتی تھی کہ کس کس کی عید اس کے لیے مبارک گزاری ہوگی۔ سب سے پہلے تو ارشد شریف کی بیٹی جو کہہ رہی تھی ،بابا عید ہے واپس آجاﺅ، ان بچوں کی عید کیسے مبارک ہوگی ،پچھلی عید کی یادیں پھانس بن کر گلے میں اٹکی ہوں گی۔ نہ جانے ماں نے میٹھی سویاں کیسے بچوں کے سامنے رکھی ہوں گی۔ صرف بچے نہیں ارشد شریف کی بیوہ ماں بھی اس گھر میں ہے جس کا ایک بیٹا پہلے ہی اس دھرتی پر جان نثار کرچکا تھا۔ کیا اس کو عیدمبارک کہا جاسکتا ہے بہت مشکل نہیں اذیت ناک ہے سوچنابھی۔آج ہرایسی عیدمبارک لکھنے کو نہ جانے کیوں جی چاہا۔ ہم عام طورپر سمجھ نہیں سکتے جب تک ہمارے اپنے اوپر خدا نہ کرے وہ حالات نہ گزریں۔میں سمجھتی ہوں زندگی حوادث سے لبریز ہے مگرجب ایسے لمحات جنہیں ہم خوشیوں کے لمحات کہتے ہیں آتے ہیں تو وہ یادیں جو زندگی کی دوڑ دھوپ میں ہم سلادیتے ہیں پھرسے جاگ جاتی ہیں۔ چاند رات خوشیوں بھری رات ہوتی ہے ،بازار میں گہما گہمی ،چوڑیوں کے سٹال اور مہندی لگوانے والی چنچل لڑکیاں ادھر ادھر آتی جاتی دکھائی دیتی ہیں۔مگر یہ چاند رات مجھے ہرسال کھینچ کرکئی سال پیچھے لے جاتی ہے جب میں دوچوٹیاں بناتی تھی اس لیے جس رنگ کا سوٹ اسی رنگ کی چوٹیاں ماں بنارہی ہوتی تھی۔ دوپٹوں پہ گوٹے چاندرات تک یہی کام ہورہے ہوتے۔ خیر کچھ لوگ کہیں گے یہ زندگی ہے۔ اس میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر یقین مانیں یہ یادیں بہت تلخ ہوتی ہیں اوربے حس لوگوں کو میں نارمل انسان نہیں مانتی۔ میں اپنے ہی گھر میں دیکھوں اردگردکیوں جھانکوں میری بہن اس وقت بیوہ ہوئی جب اس کااس بڑا بچہ فقط آٹھ برس کاتھا۔ ہمارا سوشل سیٹ اپ ایسا ہے کہ ساری قدغنیں ساری اخلاقیات صرف عورتوں پہ مسلط کی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے بیوگی کے بعد تمام شوخ رنگ بانٹ دیئے کہ اب پہنوں گی تو لوگ باتیں کریں گے۔ پھراس کی زندگی کی جدوجہد کا سفر ایک ایک لحظہ کی اذیت کی داستان ر ھا۔ شوہر کے بھائیوں نے جائیداد پر قبضہ کرلیا۔ بہت تگ ودو سے اس نے بچوں کوسنبھالا اوربچے بڑے ہوگئے تو غیرملک سدھارگئے کیونکہ نہ بزنس ہے نہ نوکریاں۔ اس عید پر وہ اکیلی تھی۔ میں سوچ رہی اس کو عید مبارک کیسے کہوں کیونکہ عید کالفظی مطلب خوشی ہے اور وہ اس روز شوہر اوربچوں کو یاد کرتی رہی۔ بہرحال زندگی ہے اور اسے کمال ہمت سے گزار لینا ہی اصل جیت ہے وگرنہ تو وقت گزارنا ہی مشکل ہوجائے گا ۔ظاہر ہے اس موقع پر بندہ اپنے دوستوں کوعید مبارک توکہتا ہے ۔قریبی دوستوں میں ایک خاتون سنگل پیرنٹ ہے یعنی وہ اکیلی بچی پال رہی ہے۔ اس نے عید کی ساری خوشیاں من پسند لباس ،جیولری بیٹی کے لیے جمع کی مگر خود عید کے روز بیمارہوگئی اور میں سوچتی رہی اس کی عید مبارک ہے یانہیں۔ بہرحال بیمارپرسی کے بعد عیدمبارک بھی کہہ ہی ڈالا۔ بس زندگی دراصل محبتوں کاسفر ہے جسے یہ محبتیں میسر اس کاہر روز عید ،ہررات شب برات۔
قارئین! لکھنے کو ذہن میں بہت کچھ ہے مگرکچھ باتیں یہ سوچ کر قلم سے گزاری نہیں جاتیں کہ لوگ جی ہاں یہ لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ وہ لوگ ناراض ہوجائیں گے جنہیں ہماری ذاتی زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں دیکھنے کی زحمت فرماتے کہ ساتھ والے گھر میں زندگی کسی کو نہ جانے کیسا کیسا ناچ نچارہی ہوتی ہے۔ مگر اعتراضات اورطعنوں کی دوربین لیے باریک بینی سے دوسروں کی زندگی کیسے چھلنی کریں اس کا کوئی موقع فروگزاشت نہیں کرتے۔ توقارئین پیشگی عیدالاضحی مبارک
فیس بک کمینٹ

