غضنفر علی شاہیکالملکھاری

غضنفر علی شاہی کا کالم : جسٹس فخر النساء کھوکھر کا ایک احسان

بووا کھول سوہنی اے تیرا ڈھول شرابی آیا(دروازہ کھولو خوبصورت مٹیار تیرا شرابی عاشق آیا) یہ تھے وہ الفاظ جو مجھے جسٹس فخر النسا کھوکھر نے مقامی روزنامے میں شائع ہونے والی خبر کے بارے میں کہے جس پر جنگ اخبار کے بیورو چیف جمشید رضوانی اور رپورٹر طاہر ندیم کو عدالت بلا کر گرفتاری کا حکم دیا تھا خبر تو میں پڑھ چکا تھا جو نامناسب تھی۔اور یہ خبر انتہائی ذمہ دار محتاط رپورٹر کی طرف سے دی گئی کہ ایک نوجوان شرابی نے جسٹس فخرالنسا کھوکھر کی کوٹھی کے گیٹ سے گاڑی ٹکرا دی اور جج صاحبہ سے ملنے پر اصرار کرتا رہا لیکن اس لحاظ سے بے بنیاد تھی کہ ججز کالونی کا اپنا گیٹ ہے جس سے اندر جانا ممکن ہی نہیں اور رہائش گاہیں گیٹ سے کافی دور ہیں لیکن میرے لئے بطور صدر پریس کلب ان کی رہائی فوری مسئلہ تھی لیکن جج صاحبہ خبر سے اتنی ناراض تھیں کہ میری منت سماجت بھی بے اثر رہی جبکہ عدالت میں موجود تمام واقف کار اور دوست وکلا بھی اخبار نویسوں کو بلیک میلر کے لقب سے نواز رہے تھے۔
جسٹس ریٹائرڈ فخر النسا کھوکھر اپنی رہائش گاہ پہنچ گئیں تو میں نے بار بار فون کیا لیکن انہوں نے سننے سے انکار کر دیا۔میں نے سابق گورنر پنجاب اور ہائی کورٹ بار کے صدر سردار لطیف کھوسہ سے کہا کہ وہ جج صاحبہ سے رابطہ کر کے انہیں نرمی پر مائل کریں لیکن بات کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ جج صاحبہ بہت ناراض ہیں۔کل صبح میرے بیٹے کی قل خوانی ہے جج صاحبہ آئیں گی وہاں آ جائیں دونوں مل کر استدعا کریں گےلیکن جج صاحبہ قبل از وقت آ گئیں جب میں پہنچاتو وہ واپس جا رہی تھیں ۔
اگلے روز مجھے جمشید رضوانی کے چھوٹے بھائی شعیب رضوانی نے پیغام دیا کہ والدہ کہہ رہی ہیں کہ جمشید کو ہر صورت عید کے روز گھر ہونا چاہیے۔یہ پیغام میرے لئے حکم تھالیکن جج صاحبہ فون سنیں تو منت سماجت کروں ۔عید کی چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں اور عید میں ایک ہی دن باقی تھا۔صبح سے ہی مسلسل جسٹس صاحبہ کو فون کر رہا تھالیکن وہ سننے کو تیار نہ تھیں۔ 10 بجے ان کی صاحبزادی نے فون اٹھایا اور کہا کہ امی آپ کی بات نہیں سننا چاہتیں جس پر میں نے ان کی صاحبزادی سے کہا کہ والدہ سے کہیں میری بات سن لیں فیصلہ تو ان کی مرضی ہے۔
اس کے بعد جج صاحبہ نے میرا فون سنا اور مخاطب ہوئیں” مویا تیکوں اپنی برادری عزیز اے میڈی عزت دا کوئی خیال نئیں” میں نے کہا بس معافی دے دیں تو انہوں نے فرمایا کہ اب تو میں فائل مقدمہ بھی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھیج چکی ہوں۔ مزید منت کی تو فرمانے لگیں”مویا کورٹ کھلوا میں آندی پئی ہاں” کورٹ کھلوانے صحافی گئے تو عدالت عالیہ کے اکثر اہلکاروں کے گھروں پر تالے تھے جو گھر کھلے تھے تو اہلکار گھر پر موجود نہ تھے۔بعد ازاں مقامی روزنامہ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر صادق جعفری سے کہا کہ سٹاف کالونی جا کر عدالت کھلوائیں۔کچھ دیر بعد ہم چند صحافی بھی سٹاف کالونی پہنچ گئے۔صادق جعفری صاحب نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ نہا رہے اور آکر عدالت کھولتے ہیں۔ اس دوران جسٹس صاحبہ کی کال آگئی کہ عدالت بند ہے اور میں برآمدے میں کھڑی ہوں مذکورہ اہلکار سے کہا تو وہ کہنے لگا میری جج صاحبہ سے بات کروائیں پھر عدالت کھولوں گا میں نے بات کروائی تو مذکورہ اہلکار نے جسٹس صاحبہ سے کہا کہ میں تو قلی ہوں۔عدالت تو سپرنٹنڈنٹ کھولے گا۔بس پھر جو جسٹس صاحبہ نے 20منٹ تک برآمدے میں چہل قدمی کرتے ہوئے میرے ساتھ کی وہ بیان سے باہر۔عدالت نہ کھلی اور جسٹس فخر النسا کھوکھر صاحبہ یہ کہتے ہوئے گھر روانہ ہو گئیں کہ ٹائپ مشین ٹائپسٹ اور عدالتی کاغذ لے کر گھر آ جائیں یہ ان کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے جو ہمیشہ یاد رہے گا۔
یہ عدلیہ کا تاریخی فیصلہ جس میں بغیر وکیل اور عام کاغذ پر فیصلہ لکھا گیااور فیصلہ میں لکھا گیا کہ غضنفر علی شاہی کی استدعا پر رہائی دی جاتی ہے۔ یہ احسان کیسے بھول سکتا ہوں کہ یہ سب کچھ انہوں نے چھٹی کے روز کیا۔ آرڈر لکھتے شام ہو گئی جسٹس صاحبہ نے ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فون کر کے یہ بھی حکم دیا کہ گنتی سے پہلے جمشید رضوانی اور طاہر ندیم کو ڈیوڑھی میں پہنچا دیں رہائی کے احکامات پہنچ رہے ہیں یہاں سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ چودھری مجید مرحوم کا ذکر بھی ضروری ہے جو میرے فون پر گنتی سے قبل ڈسٹرکٹ جیل پہنچے۔اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام دے۔اور پھر یہ بھی ہوا کہ ورکنگ ڈے پر وکلا صاحبزادہ فاروق علی خان کی قیادت میں ملے اور وکیل کے بغیر ضمانت منظور کرنے پر احتجاج کیا۔
اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اللہ نے مجھے اپنی برادری اور جمشید رضوانی کی والدہ کے سامنے سرخرو کیا۔دونوں نے عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منائی لیکن میں اپنی محسن کو جسٹس ریٹائرڈ فخرالنساء کھوکھر جیسی دبنگ خاتون کو کبھی بھول نہیں پائوں گا کہ آج ہمارے نظام انصاف میں ان جیسی جی دار خواتین نجانے کیونکر دیکھنے کو نہیں مل رہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ بدلتا زمانہ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker